کیا جنرل ایوب خان کواولاد کی وجہ سے اقتدار کھونا پڑا؟

مطلق العنان فوجی آمر فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کے زوال کا ایک بڑا سبب ان کے بیٹے گوہر ایوب کی حرکات کو قرار دیا جاتا ہے جنہوں نے چند برس کی فوجی سروس کے بعد استعفیٰ دے کر کاروباری اور سیاسی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں۔
گوہر ایوب نے اپنے والد ایوب خان کی صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کو ہرانے کے بعد جشنِ فتح منانے کے لیے کراچی میں جلوس نکال کر ان کے لئے بڑے مسائل کھڑے کر دیئے تھے جس کے باعث ملکی تاریخ کا یہ طاقتور فوجی آمر کچھ ہی عرصہ بعد اقتدار سے بیدخل کردیا گیا۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جب کوئی حکمران ملک کے سیاہ و سفید کا مالک ہو اور امورِ مملکت میں عوام کی رائے کی اہمیت ختم کر دے تو اسکے عزیز و اقارب کی بے قاعدگیاں اور بدعنوانیاں اس کی اپنی شہرت اور کردار پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ مگر ایوب خان کے لیے یہ دلیل ناقابلِ فہم تھی۔ گوکہ ایوب خان نے اپنی سوانح عمری ‘جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی’ میں اپنے بیٹوں کا اور ان کی بحیثیت اے ڈی سی تقرری کا کوئی ذکر نہیں کیا، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ان باتوں کا ذکر کوئی اور بھی نہ کرے۔ ایوب خان کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں اور خود، ان کے اپنے بیٹے گوہر ایوب نے ان باتوں کا تذکرہ تفصیل سے اپنی کتابوں میں کیا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیپٹن ر گوہر ایوب خان کا عروج دراصل ان کے والد فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کا زوال ثابت ہوا۔ گوہرایوب 8 جنوری 1937ء کو ہری پور میں پیدا ہوئے۔ گوہر نے 1957 کو پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔گوہر ایوب نے فوجی تربیت مکمل کرنے کے بعد 1958ء میں اپنے والد یعنی اس وقت کے کمانڈر ان چیف کے اے ڈی سی کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ گوہر ایوب نے چند سال فوج میں گزارنے کے بعد کیپٹن کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا۔ سابق جنرل حبیب اللہ کی بیٹی زیب کے ساتھ شادی کے بعد تھا۔ گوہر ایوب نے اپنے سسر کے ساتھ کاروبار کا آغاز کیا اور وہی کاروبار ان کے والد فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کے لیے ایک دردِ سر بن گیا، کیونکہ حزبِ اختلاف کی جانب سے گوہر ایوب کی کاروباری سرگرمیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ م ۔ب۔ خالد اپنی کتاب ’ایوان صدر میں سولہ سال‘ میں ’پسرانِ ایوب‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ ’ایوب خان ایوانِ صدر میں منتقل ہوئے تو بَری فوج کی طرف سے اے ڈی سی ان کے اپنے بیٹے کیپٹن گوہر ایوب خان تھے۔ تھوڑے ہی عرصے بعد کیپٹن گوہر ایوب خان نے پاک فوج سے ریلیز لی اور نجی کاروبار میں مشغول ہوگئے۔ ان کی جگہ ایوب خان کے دوسرے صاحبزادے کیپٹن اختر ایوب خان، صدرِ پاکستان کے اے ڈی سی بن کر تشریف لے آئے۔ تھوڑے عرصے بعد انہوں نے بھی پاک فوج سے ریلیز لے لی اور کاروبار میں مصروف ہوگئے۔ ایوب خان کے یہی 2 بیٹے فوج میں تھے جنہوں نے یکے بعد دیگرے فوجی ملازمت کو خیرباد کہہ دیا۔
فیلڈ مارشل محمد ایوب خان، جس شخص کا پشتوں سے پیشہ آبا سپہ گری رہا ہو اور جو صرف اپنے فوجی عہدے کی بدولت صدرِ پاکستان کے بلند ترین مقام تک پہنچا ہو، وہ اپنے لڑکوں کو عین عالمِ شباب میں جب وہ تقریباً 25 یا 26 برس کے ہوں ، چند سال کی سروس کے بعدفوج سے ریلیز کرکے نجی کاروبار میں لگادے، یہ ناقابل فہم ہے۔ ایسے میں سوالات اٹھائے گئے کہ والد کے صدرِ پاکستان بن جانے کے بعد اولاد کے لیے فوج سے وابستگی کیا مقدس پیشہ نہیں رہا تھا؟ کیا صدرِ پاکستان کے لڑکوں کا فوج میں رہنا غیر محفوظ یا غیر منافع بخش ہوگیا تھا؟ ایک کیڈٹ کی تعلیم و تربیت پر حکومت کا زرِ کثیر خرچ ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عام حالات میں اتنے کم عرصے سروس کے بعد فوج سے ریلیز لینا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اگر صدرِ پاکستان کے علاوہ کسی عام شہری کے لڑکے ہوتے تو کیا وہ بھی یوں آسانی سے ریلیز حاصل کرسکتے تھے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صدر ایوب خان نے عہدِ صدارت میں یا باقی ماندہ زندگی میں کبھی نہ دیا۔ ایوب خان سے پہلی غلطی یہی ہوئی کہ وہ خود تو جنرل کے عہدے سے فیلڈ مارشل بن گئے مگر اپنی اولاد کو فوج سے نکل جانے کی اجازت دی، بعد میں اس کی انہیں بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ ان کے بیٹوں کے بارے میں جھوٹی سچی کئی کہانیاں مشہور ہوئیں اور باپ ہدفِ تنقید بنتا رہا۔ پاکستانی عوام یہ سوچنے لگے کہجو باپ اپنی اولاد کو کنٹرول نہیں کرسکتا، پورے ملک کو سنبھالنے کا اہل نہیں ہوسکتا۔ کیپٹن گوہر ایوب نے اپنے سسر لیفٹیننٹ جنرل حبیب اللہ خان کے ساتھ مل کر گندھارا انڈسٹریز کی بنیاد رکھی مگر کیپٹن اختر ایوب خان چھوٹے موٹے کاروبار پر قناعت کرتے رہے۔ گندھارا انڈسٹریز کا نام اس سے پہلے جنرل موٹرز تھا جس کے حصص خریدنے کے بعد گوہر ایوب کے سسر لیفٹیننٹ جنرل ر حبیب اللہ خان خٹک نے اس کا نام گندھارا موٹرز تجویز کیا۔ گندھارا موٹرز کے قیام کے ساتھ ہی حزبِ اختلاف کے ہاتھوں گویا ایوب خان کے خلاف تُرُپ کا پتا آگیا۔ حزبِ اختلاف نے اس معاملے کو ایوب خان کی جانب سے اقربا پروری کی بدترین مثال قرار دیا۔ حزبِ اختلاف کی رائے تھی کہ ایک سازش کے تحت جنرل موٹرز کو اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ اپنا کاروبار پاکستان سے سمیٹے۔ اس کے نتیجے میں انہیں کمپنی ایوب خان کے بیٹے اور اس کے سسر کو فروخت کرنی پڑی۔ مخالفین نے اس بات کو عام کیا کہ صدر ایوب خان نے لیفٹیننٹ جنرل ر حبیب اللہ کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا۔ گوہر ایوب کے بقول ایک موقعے پر صدر ایوب خان نے بھی تسلیم کرلیا تھا کہ جنرل موٹرز خرید کر ہم نے غلطی کی ہے۔
اس کے بعد صدارتی انتخاب کے معرکے میں بھی گوہر ایوب نے اپنے والد کو رسوا کروایا۔ یاد رہے کہ ایوب خان اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے درمیان صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان 3 جنوری 1965ء کو کیا گیا۔ صدر ایوب کے حق میں49 ہزار 647 ووٹ اور فاطمہ جناح کے حق میں 28 ہزار 345 ووٹوں کا اعلان ہوا۔ بظاہر ایوب خان 21 ہزار 302 ووٹوں کی اکثریت سے جیت گئے تھے لیکن سچ تو یہ ہے کہ مادر ملت کو دھونس دھاندلی کے ذریعے ہروایا گیا تھا۔ قدرت اللہ شہاب کے مطابق انتخابات میں ڈھاکہ اور کراچی نے بھاری اکثریت سے صدر ایوب کے خلاف ووٹ ڈالے تھے۔ ڈھاکہ کے متعلق تو وہ خون کا گھونٹ پی کر رہ گئے لیکن کراچی میں ان کے فرزند گوہر ایوب نے اہلیانِ شہر کی گوشمالی کا بیڑا ٹھایا۔ چنانچہ 5 جنوری کو جشنِ فتح کے نام پر کراچی میں ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا۔ جس کی قیادت گوہر ایوب کے ہاتھ میں تھی۔ ان کے جلوس میں سڑکوں پر جیپوں، ویگنوں، بسوں اور رکشوں کی طویل قطار تھی۔’اس کا بدلہ چکانے کے لیے رات کے اندھیرے میں ان بستیوں پر شدید حملے کیے گئے۔ آگ لگائی گئی اور کافی جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ اس نقصان کا صحیح اندازہ کسی کو نہیں، لیکن شہیدانِ لیاقت آباد کی یاد منانے کے لیے ہر سال 5 جنوری کو ایک تقریب منائی جانے لگی۔ کئی روز تک کراچی میں خوف و ہراس طاری رہا اور پٹھانوں اور مہاجروں کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔صدارتی انتخاب جیتنے کے فوراً بعد یہ صورتحال صدر ایوب کے نئے دورِ حکومت کے لیے صریحاً ایک شدید بدشگونی کی علامت تھی۔ گندھارا انڈسٹریز کے بعد گوہر ایوب کا یہ دوسرا شگوفہ تھا، جس نے صدر ایوب کی ساکھ پر بدنامی، بدسگالی، بدفالی اور نحوست کی گہری دھول اڑائی۔ اس کارنامے کے بعد گوہر ایوب نے مزید کل پرزے نکالنا شروع کیے جس سے بادی النظر میں یہ گمان گزرتا تھا کہ شاید صدر ایوب اس برخوردار کو اپنی ولی عہدی کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ رفتہ رفتہ وہ کراچی کے نظم و نسق میں بڑی حد تک دخیل ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد جب انہیں کراچی مسلم لیگ کی رابطہ کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تو یہ افواہ پھیل گئی کہ اس تقرری کے پردے میں اس نوجوان کو اگلا صدارتی انتخاب لڑنے کی تربیت دی جارہی ہے۔ کراچی میں ایسے لوگوں کی کمی نہ تھی جن کے دل میں گوہر ایوب کے خلاف غم و غصے کی آگ پہلے ہی سے سلگ رہی تھی۔ اس افواہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اس صورتحال کا علم نہ صدر ایوب خان کو تھا نہ گوہر ایوب کو، کیونکہ بیشتر سرکاری اور سیاسی ادارے ان دونوں کی خوشامد و چاپلوسی میں لگے ہوئے تھے۔ اہلیانِ کراچی کی آشفتگی، برہمی اور جھلاہٹ کا بھانڈا اس وقت پھوٹا، جب رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کے موقع پر گوہر ایوب نے کراچی کی میمن مسجد میں تقریر کرنے کی کوشش کی۔ اس پر مسجد میں زبردست ہنگامہ برپا ہوگیا۔ لوگوں نے تقریر سننے سے صاف انکار کردیا۔ کسی قدر ہاتھا پائی بھی ہوئی اور گوہر ایوب کو بمشکل پولیس کی حفاظت میں مسجد سے باہر لایا گیا۔ اس احتجاجی واقعہ نے ایک طرف تو گوہر ایوب کی بڑھتی ہوئی توقعات اور خواہشات کی بساط الٹ دی۔ دوسری جانب صدر ایوب کے اقتدار کی سیڑھی کے پائیدان کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ میمن مسجد والے حادثے سے تقریباً 4 ماہ قبل کراچی میں ایک اور واقعہ بھی رونما ہوچکا تھا۔ جولائی 1967ء میں مادرِ ملّت مس فاطمہ جناح کی وفات پر کراچی میں لاکھوں شہری ان کے جنازے میں شامل ہوئے۔ جلوس کے ایک حصے نے سیاسی رنگ اختیار کرلیا، کچھ نعرے حکومت کے خلاف بلند ہوئے، کچھ نعروں میں ’ایوب خان مردہ باد‘ کہا گیا۔ اس پر پولیس حرکت میں آئی اور لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے علاوہ گولیاں بھی چلائی گئیں۔ مرنے والوں کی صحیح تعداد مصدقہ طور پر کبھی بھی متعین نہیں ہوئی، لیکن خون کی جو قدر مقدار بھی اس موقع پر بہائی گئی بلاشبہ اس نے صدر ایوب کے زوال کی راہ کو ہموار کرنے میں بدنصیبی کا چھڑکاؤ کیا۔ کراچی کی میمن مسجد میں گوہر ایوب کو جو سانحہ پیش آیا تھا اس کے بعد پے درپے بدفال واقعات کا ایسا تانتا بندھ گیا جس نے صدر ایوب کے راج سنگھاسن کو نہایت بُری طرح جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ الطاف گوہر اپنی کتاب ‘ایوب خان، فوجی راج کے پہلے دس سال’ میں لکھتے ہیں کہ ’ایوب خان کو اس نقصان کا بھی کوئی اندازہ نہ تھا جو ان کی ذات اور حکومت کو ان کے خاندان پر بدعنوانیوں کے الزامات کے نتیجے میں پہنچا تھا۔ وہ ایک غیر ملکی جریدے میں پاکستان کے بارے میں ایک تبصرہ پڑھ کر بہت غضب ناک ہوئے جس میں کہا گیا تھا کہ ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب نے اپنے والد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انہیں ‘افواہ سازی’ کا کارخانہ الاٹ کرادیں کیونکہ ملک میں اس جنس کی سب سے زیادہ کھپت تھی۔ انہوں نے سیکرٹری اطلاعات سے پوچھا کہ ‘آخر یہ سب لوگ میرے بیٹے کے پیچھے کیوں پڑگئے ہیں؟ سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ اس لیے جناب صدر کہ وہ آپ کو اپنی اولاد کے اعمال کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ بالآخر ایوب خان کے کرتوت اور ان کی اولاد کی حرکتوں نے مل کر انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button