پی ڈی ایم جلسہ: وفاقی وزرا اپوزیشن پر برس پڑے

حکومتی اجازت نہ ملنے کے باوجود پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) کے پشاور میں جلسہ کرنے پر وفاقی وزراء پی ڈی ایم قیادت پر برس پڑے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود جلسے ہونا قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے، جبکہ کرونا کے شدید خطرات میں عوام کی زندگیوں کو داؤ پر لگانا سیاسی سفاکی اور ظلم ہے، معمولی سیاسی فائدے کیلئے بے گناہ انسانوں اور کارکنان کی زندگیوں سے کھیلنا مفاد پرست سیاسی ٹولے کی ذہنیت بے نقاب کرتا ہے۔
کورونا کے شدید خطرات میں عوام کی زندگیوں کو داؤ پر لگانا سیاسی سفاکی اور ظلم ہے۔ معمولی سیاسی فائدے کیلئے بے گناہ انسانوں اور کارکنان کی زندگیوں سے کھیلنا مفاد پرست سیاسی ٹولے کی ذہنیت بے نقاب کرتا ہے۔
— Senator Shibli Faraz (@shiblifaraz) November 22, 2020
ایک اور ٹوئٹ میں وفاقی وزیر شبلی فراز کا مزید کہنا تھا کہ پیمرا کو عوام کی صحت کیلیے خطرناک سرگرمی نشرکرنےکی اجازت نہیں دینی چاہیے،کرپشن کے کورونا سے عوام حساب لیں گے۔
کورونا کے شدید خطرات میں عوام کی زندگیوں کو داؤ پر لگانا سیاسی سفاکی اور ظلم ہے۔ معمولی سیاسی فائدے کیلئے بے گناہ انسانوں اور کارکنان کی زندگیوں سے کھیلنا مفاد پرست سیاسی ٹولے کی ذہنیت بے نقاب کرتا ہے۔
— Senator Shibli Faraz (@shiblifaraz) November 22, 2020
وفاقی وزیرِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ اپوزیشن اپنے دو کلوگوشت کے لیے پوری گائے ذبح کرنا چاہتی ہے، نادانوں اگر بیماری پھیلتی ہے اور لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگتی ہیں تو کاہے کی سیاست؟ سیاست، اقتدار زندگی کے ساتھ ہیں، اگر زندگی ہی چیلنج ہو جائے تو سیاست کیا ہونی ہے، اپنی حکمت عملی بدلیں، اگرجلسوں کا زیادہ شوق ہے ورچوئل جلسےکر لیں۔
