سال 2021 کے 3 مقبول ترین ٹی وی ڈرامے کونسے رہے؟

سال 2021 مقبول ترین ٹی وی ڈرامے کونسے رہے؟


سال 2021 کے دوران جن تین مشہور ٹی وی ڈراموں نے پاکستانیوں کو اپنے سحر میں مبتلا کیے رکھا ان میں’پری زاد‘ مقبولیت کے حوالے سے پہلے نمبر پر رہا۔ اس ڈرامے نے آغاز سے ہی ناظرین کو اپنے ساتھ جوڑے رکھا، اب یہ ڈرامہ اختتام کو پہنچنے والا ہے۔  پری زاد میں رنگت سے جڑے تعصب کو موضوع بنایا گیا جو ہمارے معاشرے میں ایک اہم سماجی مسئلہ ہے اور اکثر لوگوں کو اپنی سانولی رنگت کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شوبز دنیا کے معاملات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2021 پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کے لیے اس لیے بہترین رہا کہ اس برس روایتی موضوعات سے ہٹ کر ایسے ڈرامے بھی نشر ہوئے ہیں جنہوں نے لوگوں کو سماجی مسائل کے حوالے سے سوچ کا ایک نیا زاویہ دیا۔ آج ہم آپکو سال 2021 کے ایسے مقبول ڈراموں کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں جنہوں نے لوگوں کو ٹی وی سکرینوں سے چپکائے رکھا۔ اس سال جس ڈرامے کو پاکستانی شائقین میں سب سے زیادہ پذیرائی ملی اور جو سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ ٹرینڈ کرتا رہا، وہ پری زاد ہے۔ ہاشم ندیم کے تحریر کر دہ ڈرامے میں مرکزی کردار احمد علی اکبر نے ادا کیا جن کی اداکاری نے سب کے دل موہ لیے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس ڈرامے میں احمد علی اکبر نے اپنے کیرئر کی بہترین پرفارمنس دی ہے تو یہ کسی طور غلط نہ ہوگا۔ ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے ایک گہرے رنگ کا نوجوان ’پری زاد‘ لوگوں کے برے رویوں کا سامنا کرتا ہے اور اس کا کس طرح سے استحصال کیا جاتا ہے۔ ’پری زاد‘ کو ایک انتہائی مخلص انسان دکھایا گیا ہے جو ہر قیمت پر اپنے مالک کا وفادار رہتا ہے مگر اس کے باوجود وہ غلط اور صحیح کی پہچان بھی رکھتا ہے۔  
اسے اپنی وفاداری کا صلہ اپنے مالک کی طرف سے جائیداد کی ملکیت کی صورت میں ملتا ہے اور جب وہ ایک مالدار شخص بن چکا ہے تو بھی اس کی عاجزی میں کوئی کمی نہیں آتی بلکہ وہ ضرورت مند اور غریب لوگوں کے لیے ایک مسیحا ثابت ہوتا ہے۔  
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں کوئی بھی ڈرامہ "لو” سٹوری کے بغیر ادھورا رہتا ہے۔ اس ڈرامے میں بھی دکھایا گیا ہے کہ عینی یعنی یمنی زیدی نامی نابینا لڑکی پری زاد یعنی احمد علی اکبر کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ڈرامے کو کس طرح سے سمیٹا جائے گا اور اس کا اختتام کیا لوگوں کو چونکا دے گا یا پھر ہیپی اینڈنگ ہوگی۔   
سال 2021 میں مقبولیت کے حساب سے دوسرے نمبر پر ڈرامہ خدا اور محبت رہا۔ اسکے سیزن 3 کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈرامے کی پہلی قسط 2021 میں پاکستان میں یوٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیوز میں ٹاپ پر تھی۔ 
ناول نگار ہاشم ندیم کے ناول پر بنایا گیا ڈرامہ ’خدا اور محبت 3‘ سیونتھ سکائی کے عبدللہ کادوانی اور اسد قریشی نے پروڈیوس کیا تھا۔ اس ڈرامے میں اداکار فیروز خان اور اقرا عزیز نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔  ڈرامے کی کہانی ایک لو سٹوری تھی جس میں فرہاد یعنی فیروز خان ماہی یعنی اقرا عزیز کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ فرہاد اور ماہی کا خاندانی پس منظر ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتا ہے، ماہی ایک بااثر اور مالدار گھرانے سے تعلق رکھتی ہے جبکہ فرہاد کو ایک ایک مڈل کلاس گھرانے کا نوجوان دکھایا گیا۔ ماہی اور فرہاد کی اس محبت کا انجام بہت دردناک تھا اور دونوں کی موت نے ڈرامہ شائقین کو بھی افسردہ کر دیا۔  
سال 2021 مین مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرنے والا ایک اور ڈرامہ ہے عمیرہ احمد کا تحریر کردہ ‘ہم کہاں کے سچے تھے’۔ ڈرامے کے اوریجنل ساؤنڈ ٹریک کو بھی خاصا پسند کیا گیا۔ اس ڈرامے سے ماہرہ خان نے چھ سال بعد چھوٹی سکرین پر واپسی کی ہے اور ان کے ساتھ مرکزی کردار میں کبریٰ خان اور اداکار عثمان مختار ہیں۔ ویسے تو یہ ایک ’لو ٹرائی اینگل‘ سٹوری ہے لیکن اس کے ساتھ اس ڈرامے میں ذہنی صحت اور نفسیاتی مسائل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے اور یہ بھی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح والدین کے اپنے بچوں کی مرضی کے بغیر ان کی زندگی کے کیے گئے فیصلے ان کے بچوں کی زندگیاں تباہ کر دیتے ہیں۔ 
مہرین یعنی ماہرہ خان کو ایک انتہائی حساس لڑکی دکھایا گیا ہے جو بچپن میں اپنے باپ کو نشے کی عادت کی وجہ سے کھو دیتی ہے۔ بعد میں اسے اپنی نانی کے گھر زندگی گزارنے پڑتی یے جہاں اسے اپنی ممانی اور کزن سے جلی کٹی طنزیہ باتیں سننے کو ملتی ہیں جو اس کی ذہنی صحت کو متاثر کرتی ہیں۔ ماہرہ خان نے مہرین کا کردار جس طرح نبھایا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کردار ان کے لیے ہی لکھا گیا تھا۔ یہاں کبریٰ خان کی اداکاری کا بھی ذکر کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ پہلی بار منفی کردار میں نظر آئیں اور مشعل کے کردار کو بڑی خوبصورتی سے نبھایا۔ اس ڈرامے کی مقبولیت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب بھی اس کی نئی قسط نشر ہوتی ہے سوشل میڈیا پر اس پہ بحث چھڑ جاتی ہے۔

Back to top button