سخت پشتون روایات پر مبنی ڈرامے خئی میں خاص کیا ہے؟

نجی ٹی وی چینل پر پیش کیا جانے والا سخت پشتون روایات پر مبنی ڈرامہ خئی صارفین میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔’قلم اٹھانے والا ہاتھ بندوق نہیں اٹھاتا۔ ‘ ڈراما خئی اسی مکالمے کو آگے لے کر بڑھ رہا ہے کہ تعلیم بہت ضروری ہے کیونکہ تعلیم انسانی مزاج کو دھیما کر دیتی ہے۔ علم کی اپنی بھی طاقت ہوتی ہے جو باقی طاقتوں پہ فتح پا لیتا ہے۔ڈرامے میں اس خواب کی بات ہوئی ہے جو ہر پڑھا لکھا انسان چاہتا ہے کہ اس کے گاؤں میں بھی سکول ہو، اس کی زمین پہ بھی امن ہو اور پیار کی کھیتی لہلہائے مگر روایات کے سامنے انسان بےبس ہو جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے حسین منظرنامے پر اس زمین کی ایک روایتی کہانی فلمائی کی گئی ہے۔ دو بڑے زمین داروں کی زر، زمین اور زن کے درمیان جنگ ہے۔

ڈرامہ خئی کی کہانی کے مطابق دراب خان نے درویش خان کے باپ کو مار دیا تھا۔ درویش خان ملک چھوڑ کر چلا گیا۔ 25 برس کے بعد واپس آیا اور اس نے اپنے باپ کے قاتل کو معاف کرنے کا فیصلہ کر کے امن کا پیغام دیا۔دراب خان کا خیال تھا کہ پڑھا لکھا انسان بندوق نہیں اٹھا سکتا، کمزور ہو جاتا ہے لیکن روایت پرستی اسے یہ یقین نہیں دلا رہی کہ معاف کرنا زیادہ بڑی طاقت ہے جو درویش خان کر رہا ہے۔

روایت  کے مطابق دراب خان کے ظالم و روایتی بیٹے چنار خان کا دل درویش خان کی بیٹی زمدہ پہ آ گیا ہے۔ وہ دو شادیاں کر چکا ہے او ر اپنے باپ سے دوستی کی آزمائش میں زمدہ نکاح میں مانگ رہا ہے۔ روایتی باپ بھی دوستی کے چکر میں رشتہ مانگ لیتا ہے۔روایت کے سینے میں چونکہ دل نہیں ہوتا لہٰذا سب جائز لگتا ہے۔

ظاہر ہے درویش خان اگر غیر روایتی پن کا مظاہرہ معاف کر کے کر رہا ہے تو بیٹی کے رشتے میں بھی اس کی پسند کو ہی فوقیت دے گا۔ زمدہ اپنے پھوپھی زاد بادل خان کے ساتھ خوش بھی ہے۔زمدہ بھی جذباتی ہو کر دوستی و امن کے چکر میں چنار خان کے لیے کوئی نرمی ظاہر نہیں کرتی، نہ ہی اپنے باپ کو تکلیف میں دیکھ کر کوئی روایتی فیصلہ کرتی ہے۔

بادل خان بھی خاندانی دشمنی کے ہاتھوں مجبور ہے۔ اسلام آباد میں پڑھ رہا ہے۔ اپنے علاقے میں نہیں رہ سکتا۔رشتہ والے واقعے کے فوری بعد دوریش خان کی بیوی فیصلہ کرتی ہے کہ زمدہ کی شادی ایک ہفتے میں ہی بادل سے کروا دی جائے۔عین شادی کے موقعے پر دراب خان اور اس کا بیٹا اپنے روایتی ٹھاٹ باٹ سے شادی والے گھر میں آتے ہیں۔ درویش خان اور اس کے دونوں بیٹوں کو گولیوں سے مار دیتے ہیں۔ زمدہ اور اس کی ماں چیختے چلاتے رہ جاتے ہیں۔

ڈراما تیسری ہی قسط میں مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھ گیا ہے لیکن یہ حساس ناظر کا ڈراما نہیں ہے۔ ایسے ایسے سفاک ایکشن سین آتے ہیں کہ حساس انسان دیکھ نہیں سکتا۔اسے ایکشن اور گلیمرس ڈراما کہا جا سکتا ہے۔

لیکن یہ کہنا درست نہیں ہے کہ یہ پشتون کلچر کی نمائندگی کرتا ہے۔ خئی ایسا ڈرامہ ہے جس میں گلیمر، ایکشن اور تخیلاتی کہانی زیادہ ہے۔جہاں اتنے بڑے بڑے پہاڑ ہو نگے، دل ڈوب جانے والے ندی نالے ہوں گے، سناٹوں جیسے جنگل ہوں گے، وہاں انسان یا کہانی کیسے ملائم ہو سکتی ہے؟

زمدہ کے والد اور بھائی کا انتقال ہو گیا ہے وہ اکیلی رہ گئی ہے جو امن کا، سکول بنانے کا، تعلیم کا، معافی کا پیغام بن کے آئی تھی وہ انتقام کی راہ پہ چل نکلے گی۔ اب زمدہ کے گرد کہانی چلے گی اور ہم دیکھیں گے ایک تنہا لڑکی کیسے اپنے باپ، بھائیوں اور دادا کے خون کا بدلہ لیتی ہے لیکن اسے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کو انتقامی حالات بناتے ہیں۔عمل کا رد عمل شدید ہوتا ہے اور عورت کا انتقام نسلیں ختم کر دیتا ہے۔

ناقدین کے مطابق ڈرامے میں فیصل قریشی چنار خان کے روپ میں شدید پٹھان نہیں لگ سکے اور درفشاں زمدہ کے روپ میں تو ڈھل گئی مگر کردار کو ایک الگ رنگ نہیں دے پائیں۔ درفشاں کا اپنا انداز ہے بس وہی ہر تہذیب میں فٹ کر لیتی ہیں۔نور البتہ درویش خان کے روپ میں اپنا چھوٹا سا کردار بہت بڑا کر گئے ہیں۔اداکاری اور کاسٹ کا حصہ کمزور ہے لیکن باقی شعبوں نے اس کمی پہ پردہ ڈال دیا ہے۔ کیمرا ورک بہت اچھا ہے۔ اور موسیقی عمدہ ہے۔کہانی کی جزیات بہت عمدہ لکھی گئی ہیں مکالمہ تو بہت ہی اچھا اور منجھا ہوا ہے۔

Back to top button