سری لنکن وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے استعفیٰ دے دیا

ملک میں پرتشدد احتجاج پر سری لنکن وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے استعفیٰ دے دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا کے وزیراعظم کے ترجمان روہان ویلیویٹا نے کہا کہ 76 سالہ وزیراعظم نے اپنا استعفیٰ اپنے چھوٹے بھائی اور صدر گوٹابایا راجاپکسا کو بھیج دیا ہے، وزیراعظم نے نئی متحدہ حکومت کے لیے ایک راستہ دے دیا ہے۔
مہندا راجا پاکسے کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ میں بحیثیت وزیراعظم استعفیٰ صدر کو پیش کردیا ہے، اس پر فور عمل درآمد ہوگا۔
اس سے قبل سری لنکا کی حکومت نے ملک بھر میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے احتجاج کے دوران درجنوں افراد کو زخمی ہونے کے بعد ہسپتالوں میں داخل ہونے پر فوج تعینات کی تھی اور احتجاج کے دوران لاٹھیوں سے مسلح حکومت کے حامیوں نے مظاہرین پر حملہ کردیا تھا۔
دریں اثنا سری لنکا میں تعینات امریکی سفیر نے پرامن مظاہرین کے خلاف کشیدگی کی مذمت کی تھی اور حکومت سے کشیدگی کے لیے اکسانے والوں کی گرفتاری سمیت مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی سفیر جولی چنگ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ آج زخمی ہونے والوں کے ساتھ ہمدردی ہے اور ہم ملک بھر میں تحمل اور برداشت کے لیے زور دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سری لنکا میں آزادی کے بعد بدترین معاشی بحران کا شکار ہے جہاں کئی مہینوں سے توانائی، غذائی اجناس اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے جبکہ عوام کی جانب سے حکومت کے خلاف پرامن احتجاج کیا جا رہا ہے، تاہم پیر کو دارالحکومت کولمبو میں بدترین احتجاج شروع ہوا جبکہ صدر اور وزیراعظم کے حامیوں کی بڑی تعداد بھی سڑکوں پر آگئی تھی اور ہنگامہ آرائی کی۔
دوسری جانب یونینز نے کہا ہے کہ وہ پیر سے ہر روز احتجاجی مظاہرے کریں گے تاکہ حکومت پر ’ہنگامی‘ صورتحال ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔ایک بیان میں یونین رہنما روی کمودیش نے کہا تھا کہ وہ سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کو منظم اور متحرک کریں گے کہ وہ 17 مئی کو قومی پارلیمنٹ کے آنے والے سیشن کے دوران وہاں جمع ہوجائیں۔ انہوں نے کہاہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ صدر اور ان کا خاندان اقتدار سے نکل جائے۔
مہیندا راجا پاکسے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں زور دیا تھا کہ ‘ہمارے عوام تحمل کا مظاہرہ کریں اور یاد رکھیں کشیدگی سے حالات بدتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا تھا معاشی بحران میں ہمیں معاشی حل کی ضرورت ہے، جس کے لیے یہ انتظامیہ پرعزم ہے کہ حل ہوجائے گا۔
یاد رہے کہ سری لنکا کی حکومت نے جمعے کو ہنگامی صورت حال نافذ کرتے ہوئے فوج کو شہریوں کی گرفتاری کے اختیارات سونپ دیے تھے، وزیردفاع نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت مخالف مظاہرین کا رویہ اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز تھا اور بنیادی خدمات کی فراہمی میں خلل ڈال رہے تھے۔
خیال رہے کہ سری لنکا کے صدر راجا پکسے کو 31 مارچ کو کولمبو میں پرتشدد مظاہرین نے ان کی نجی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا تھا، اس کے بعد انہیں عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا تھا۔
ادھرملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بھی پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ راجا پکسے خاندان کے کسی رکن کی حمایت سے بننے والی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔
واضح رہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے بعد سری لنکا کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے کیونکہ سیاحت اور ترسیلات سے آنے والی آمدنی ختم ہونے سے اس کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے، اس سے ملک کے پاس اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے درکار غیر ملکی کرنسی کی کمی ہوگئی ہے جس سے حکومت کو بہت سی اشیا کی درآمدات پر پابندی لگانا پڑی، اس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی، ادویات، ایندھن کی شدید قلت اور بجلی کی طویل بندش نے جنم لیا۔ اپریل میں ملک نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ 51 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے ادا کرنے سے قاصر ہے۔
