ملک بھر کے تاجروں کا 15اپریل سے کاروبار کھولنے کافیصلہ

کراچی سمیت ملک کی مختلف تاجر تنظیموں نے 15 اپریل سے کاروبار کھولنے کا اعلان کردیا ۔
سندھ تاجر اتحادنے کل 15 اپریل سے تمام کاروبار کھولنے کا اعلان کیاتو پنجاب میں تاجربرادری بھی کل سے مارکیٹیں 8 سے 4 بجے تک کھولنے کے مطالبے پر ڈٹ گئی جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی تاجر برادری نے بھی کل سےکاروباری سرگرمیاں شروع کرنےکااعلان کردیا.
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمیل پراچہ نے کہا کہ مارکٹیں بند ہوئے 28دن ہوچکے ہیں، کراچی سے کشمور تک کا تاجر بدحال ہے ، چھوٹے تاجر اوران کے ملازم فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لاکھوں ملازمین کو ایک ماہ کی بمشکل ادا تنخواہ ادا کی ہیں۔ اب ملازمین کو نکالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، تاجر ایک دوسرے سے پیسے ادھار لینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل بروز بدھ 15 اپریل سے تمام کاروبار کھول دیں گے اور دکانیں کورونا کے خلاف احتیاطی تدابیر کو اختیار کر کے کھولیں گے، زبردستی کی صورت میں پھر اپنے ملازمین کو فارغ کرنا پڑے گا۔ جمیل پراچہ کا کہنا تھا کہ لاک ڈاﺅن پر عمل ردآمد نہیں ہو رہا۔ احتیاط کرنا ہے تو پھر مکمل کرفیو لگائیں، اب تک ایک دفعہ بھی سی ایم ہاﺅس اور گورنر نے بلکل رابطہ نہیں کیا۔سندھ بھر کے تاجروں نے کہا کہ اگر حکومت لاک ڈاؤن میں توسیع کرنا چاہتی ہے تو مکمل کرفیو نافذ کرے اور ہمارا کوئی بندوبست بھی کرے۔
دوسری جانب انجمن تاجران پا کستان کل صبح 8 سے 4 بجے دوکانیں کھولنے کے مطالبے پر ڈٹ گئے۔ تاجروں نے صوبائی وزیر اسلم اقبال کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی قتل اب مزید برادشت۔نہیں کر سکتے ، جس پر وزیر قانوں راجہ بشارت نے تاجروں کومذاکرات کے لیے بلا لیا ہے۔
سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل پراچہ نے کہا کہ گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کی آپس کی لڑائیوں نے تاجروں کو اس صورتحال میں لا کر کھڑا کیا ہے کہ آج ان کے گھروں میں فاقے چل رہے ہیں، ہمارا چھوٹا تاجر فاقہ کشی پر مجبور ہے لہٰذا 15 تاریخ سے ہم اپنی دکانیں کھولنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جہاں اجلاس کرتے ہیں وہاں پہلے سے انٹیلی جنس کے لوگ آ کر بیٹھ جاتے ہیں، وہاں پہلے سے مانیٹرنگ شروع ہو جاتی ہے. حکمران یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ تاجر آج اس مقام پر آ کر کھڑے ہو گئے ہیں کہ وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے ساتھ زبردستی کی گئی تو ہم سب گرفتاریاں دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے سندھ کے تاجروں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ خدارااب پیچھے ہٹنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر گرفتاریاں ہوتی ہیں تو ہم بھی گرفتاریاں دینے کے لیے تیار ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ گھر پر بیٹھ کر مرنے سے بہتر ہے کہ ہم ان کے پاس جا کر مر جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں لوگ چیف جسٹس اور چیف آف آرمی اسٹاف کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ اس پر کوئی فیصلہ کریں کیونکہ اگر نہیں کریں گے تو پریشانی ہو گی۔
دوسری جانب بلوچستان کی تاجر برادری نے بھی15اپریل سےکاروباری سرگرمیاں شروع کرنےکااعلان کردیا ہے۔ ترجمان انجمن تاجران کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی تاجربرادری مزید لاک ڈاؤن کی متحمل نہیں ہوسکتی،تاجرکورونا سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیارکرتے ہوئے مارکیٹیں اوربازارکھولیں گے۔ بلوچستان کے تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار کھولنے کے حوالے سے ہم نے حکومتی نمائندوں کو آگاہ بھی کردیا ہے۔
ادھر خیبرپختونخوا میں بھی تاجر برداری نے 15 اپریل سے کاروبار کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یونائیٹیڈ بزنس گروپ کے سربراہ الیاس بلور کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث چھوٹے تاجر فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں، رمضان المبارک سے قبل لوگ خریداری کرتے ہیں،تجارتی مراکز بند ہونے سے مزدور طبقہ بھی بری طرح متاثر ہے۔
یاد رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کے طور پر حکومت سندھ نے 18مارچ سے کراچی کے کاروبار بند کر دیے تھے جبکہ 23مارچ سے مکمل طور پر لاک ڈاؤن کردیا گیا تھا۔پاکستان میں اب تک وائرس سے 100 افراد ہلاک اور ساڑھے پانچ ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button