سینٹ الیکشن میں کون سا امیدوار کس کا رشتہ دار ہے؟


تین مارچ کے سینیٹ الیکشن سے پہلے تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو میرٹ کی خلاف ورزی کرنے اور اپنوں کو نوازنے یا پیسے لیکر ٹکٹیں دینے کے الزام کا سامنا ہے۔ لیکن اس حوالے سے سب سے زیادہ الزامات کا سامنا تحریک انصاف کی قیادت کو ہے جس کے لیے ملک کے چاروں صوبوں میں مسائل کھڑے ہو چکے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق میرٹ کی بالادستی کے نعرے لگانے والے کپتان نے سینیٹ کے لیے ٹکٹیں تقسیم کرتے وقت میرٹ کی بجائےاپنے فنانسرز اور قریبی دوستوں کو نوازا جس سے مسائل پیدا ہوئے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو کس بنیاد پر ٹکٹ دیے گئے اور کونسا امیدوار کس سیاست دان کا رشتے دار ہے۔
تحریک انصاف نے کے پی کے میں سینیٹ انتخابات کے لیے 11 امیدواروں کو ٹکٹ دیے ہیں۔ پی ٹی آئی امیدوار محسن عزیر، فیصل سلیم، لیاقت ترکئی اور ذیشان خانزادہ ارب پتی صعنتکار ہیں۔ فیصل سلیم، لیاقت ترکئی اور ذیشان خانزادہ سابق سینئر وزیر خیبرپختونخوا عاطف خان کے رشتے دار ہیں جب کہ لیاقت ترکئی صوبائی وزیر تعلیم شہرام ترکئی کے والد ہیں۔
ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر دوست محمد محسود اور ڈاکٹر ہمایوں مہمند کا شمار وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ نجی اللہ خٹک کا تعلق مڈل کلاس سے ہے جب کہ خواتین کی نشستوں پر ثانیہ نشترکو احساس پروگرام بہتر انداز میں چلانے اور فلک ناز چترالی کو پارٹی کی دیرینہ ورکر ہونے کی بنا پر ٹکٹ دیا گیا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک سچ ہے کہ ثانیہ نشتر کا ماضی میں پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں رہا اور انہیں عمران خان نے صرف ذاتی تعلق کی بنا پر ٹکٹ دیا ہے۔
اقلیتی نشست پر پی ٹی آئی کے سینیٹ امیدوار گردیپ سنگھ سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی کابینہ میں شامل سورن سنگھ کے بردار نسبتی ہیں، یاد رہے کہ سورن سنگھ کو بونیر میں قتل کر دیا گیا تھا۔
سینیٹ انتخابات میں اے این پی کے امیدوار ہدایت اللہ خان بھی ارب پتی ہیں، اے این پی کے دیگر امیدواروں کا تعلق متوسط گھرانوں سے ہے۔
اسی طرح جے یو آئی (ف) نے جنرل نشست پرمولانا عطاء الرحمان کو ٹکٹ دیا جومولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی ہیں، جے یو آئی کے دیگر امیدواروں کا تعلق مڈل کلاس خاندانوں سے ہے اور وہ پارٹی کے پرانے کارکن ہیں۔ پیپلز پارٹی نے جنرل نشست پر فرحت اللہ بابر کو جبکہ خواتین کی نشست پرشازیہ طہماس کو ٹکٹ دیا، دونوں پارٹی کے وفادار اور پرانے کارکن ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے جنرل نشست پر عباس آفریدی کو امیدوار بنایا ہے جو ارب پتی ہیں، لیکن (ن) لیگ کے دیگر امیدواروں کا تعلق مڈل کلاس خاندانوں سے ہے۔
جماعت اسلامی کے تمام امیدوار پارٹی کے پرانے کارکن ہیں جب کہ بلوچستان عوامی پارٹی کی صوبائی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد چار ہے۔ پارٹی کی جانب سے جنرل نشست پرتاج محمد آفریدی میدان میں ہیں جو ارب پتی ہیں اور ان کے دو بھتیجے رکن اسمبلی ہیں۔ تاج محمد آفریدی شاہ جی گل کے چھوٹے بھائی بلاول آفریدی اور شفیق شیر آفریدی کے چچا ہیں جب کہ شکیل آفریدی تاج آفریدی کے بھتیجے ہیں۔
واضح رہے کہ 11 مارچ کو سینیٹ کے 52 سینیٹرز ریٹائر ہو جائیں گے جن میں مسلم لیگ (ن) کے سب سے زیادہ 16 جب کہ پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے 7،7 سینیٹرز ریٹائرڈ ہوں گے۔سندھ اور پنجاب سے 11،11 جب کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے 12 ، 12 سینیٹرز ریٹائر ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے پنجاب سے 11، اسلام آباد، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے 2 ، 2 سینیٹرز ریٹائر ہوں گے جبکہ سینیٹ انتخابات 2021 کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا 28 نشستوں کے ساتھ ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بننے کا امکان ہے جبکہ 100 رکنی ایوان میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کی تعداد تقریباً برابر رہنے کی بھی توقع ہے۔ پیپلز پارٹی 19 نشستوں کے ساتھ دوسری، مسلم لیگ ن 18 نشستوں کے ساتھ تیسری اور بلوچستان عوامی پارٹی کا 12 نشستوں کے ساتھ چوتھی بڑی جماعت بننے کا امکان ہے۔
الیکشن کمیشن حکام کے مطابق اس بار سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ فاٹا کی نشستوں پر انتخابات نہیں ہوں گے جس کے باعث سینیٹ کی نشستیں 104 سے کم ہو کر 100 رہ جائیں گی۔اس وقت صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن کو مدنظر رکھا جائے تو سینیٹ الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو 21 نئی نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ پی ٹی آئی کی سینیٹ میں اس وقت 14 نشستیں ہیں جن میں سے 7 سینیٹرز ریٹائر ہوں گے۔تحریک انصاف کو اپنے ہوم گراؤنڈ یعنی خیبر پختونخوا اسمبلی سے 10، پنجاب سے 6 ، اسلام آباد سے 2، سندھ سے 2 اور بلوچستان سے ایک سینیٹر کی کامیابی کی توقع ہے۔ اس طرح 28 نشستوں کے ساتھ تحریک انصاف پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بن جائے گی۔ ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹ میں نشستیں 21 سے کم ہو کر 19 رہ جائیں گی ۔ پیپلز پارٹی کے 7 سینیٹرز ریٹائر ہوں گے۔ ان تمام ارکان کا تعلق سندھ سے ہے۔ پیپلز پارٹی کو سندھ سے 5 نئی نشستیں ملنے کا امکان ہے۔اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سب سے زیادہ 17 سینیٹرز ریٹائر ہوں گے۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹرز میں سے 11 پنجاب جبکہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد سے دو دو ریٹائر ہوں گے۔ اس طرح مسلم لیگ ن کی سینیٹ میں نشستیں 30 سے کم ہو کر 18 رہ جائیں گی۔ مسلم لیگ ن کو سینیٹ میں صرف پنجاب سے 5 نئی نشستیں آنے کا امکان ہے۔ایوان بالا سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 2 سینیٹرز ریٹائر ہوں گے، ایک کا تعلق بلوچستان اور ایک کا خیبرپختونخوا سے ہے۔ نئے انتخابات کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیٹرز کی تعداد 5 ہونے کا امکان ہے۔ایم کیو ایم کی سینیٹ میں نشستیں 5 سے کم ہو کر 3 رہ جائیں گی۔ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے باعث فاٹا سے سینیٹ میں کوئی نئی نشست نہیں آئے گی۔ فاٹا سے سینیٹ میں ارکان کی تعداد 4 رہ جائے گی۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کے ریٹائر ہونے کے بعد ایوان بالا میں جماعت اسلامی کا صرف ایک سینیٹر رہ جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button