شاہین آفریدی کا شاہد آفریدی کا داماد بننا ایک منفرد واقعہ کیسے؟

ٹیسٹ کرکٹر شاہین شاہ آفریدی کی سابق کپتان شاہد آفریدی کی بیٹی سے شادی ایک انوکھا واقعہ ہوگا کیوں کہ دنیائے کرکٹ میں کوئی سسر اور داماد ایک ہی وقت میں کرکٹ فیلڈ میں متحرک نہیں رہے۔
سابق کرکٹر شاہد آفریدی کی صاحبزادی اقصٰی اور نوجوان فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی کے رشتے کی بات سوشل میڈیا پر کیا وائرل ہوئی لوگوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ آفریدی خاندان میں قربت کی قیاس آرائیوں نے اُس وقت حقیقت کا روپ دھارا جب شاہد آفریدی نے شاہین کے اہلِ خانہ کی جانب سے رشتے کے سلسلے میں رابطوں کی تصدیق کر دی۔ واضح رہے کہ کرکٹ لیجنڈ شاہد آفریدی اور نوجوان فاسٹ باولر شاہین شاہ دونوں کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔ اگر شاہد آفریدی کی صاحبزادی سے شاہین کی شادی ہو جاتی ہے تو کرکٹرز کی آپس میں رشتے داری کی یہ ایک انوکھی مثال ہو گی۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان اب یہ رشتہ ساتھی کھلاڑی، سینئر و جونیئر کرکٹر سے بڑھ کر خاندانی احترام کے رشتے میں بندھنے کی جانب گامزن ہے۔ یہ رشتہ اس لیے انوکھا ہو گا کہ دنیائے کرکٹ میں کوئی سسر اور داماد ایک ہی وقت میں کرکٹ فیلڈ میں متحرک نہیں رہے۔ شاہد آفریدی اور شاہین آفریدی دونوں ہی پاکستان سپر لیگ کا حصہ ہیں۔ حال ہی میں دونوں نے ایونٹ کے چھٹے ایڈیشن میں اپنی اپنی ٹیموں کی نمائندگی بھی کی اور اچھی کارکردگی بھی دکھائی۔
اس حوالے سے یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا دنیائے کرکٹ میں اس سے پہلے کسی کرکٹر نے کسی اور کرکٹر کے ساتھ رشتہ جوڑا جو باپ، بھائی، چچا اور ماموں سے مختلف ہو؟ آئیے آپ کو کرکٹ کی رشتہ داریوں بارے بتاتے ہیں۔
شاہد آفریدی سے پہلے کرکٹ کی دنیا کے مایہ ناز لیگ اسپنر عبد القادر اپنی بیٹی کا ہاتھ ایک ٹیسٹ کرکٹر کے ہاتھ میں دے چکے ہیں۔ عبدالقادر کے داماد اکمل خاندان کے سپوت عمر اکمل ہیں اور اسی رشتے سے وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک اور لیگ اسپنر عثمان قادر کے بہنوئی ہیں۔ کرکٹر عمر اکمل کے بڑے بھائی کامران اکمل کی بھی شادی ایک کرکٹر خاندان میں ہوئی ہے۔ سابق ٹیسٹ کھلاڑی محمد الیاس اُن کے سسر ہیں۔ محمد الیاس کی دوسری بیٹی کی شادی ایک اور ٹیسٹ کرکٹر عمران فرحت سے ہوئی ہے۔ اس طرح عمران فرحت اور کامران اکمل ایک دوسرے کے ہم زلف ہیں اور محمد الیاس ان دونوں کھلاڑیوں کے سسر ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ملک کے وزیرِ اعظم عمران خان کے دورِ کپتانی میں منصور اختر کو ٹیم کا ضروری رکن سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے فرسٹ کلاس لیول پر کئی ریکارڈز بنائے لیکن انٹرنیشنل کرکٹ میں وہ عمران کے عتاب کا شکار ہونے کے بعد اس کامیابی کو جاری نہ رکھ سکے۔منصور اختر کی بیٹی کی شادی موجودہ ٹیسٹ ٹیم کے رکن فواد عالم سے ہوئی ہے۔ منصور کے داماد نے بھی فرسٹ کلاس کرکٹ میں خوب کامیابیاں سمیٹیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں قدم رکھتے ہی سینچری بھی اسکور کی۔ لیکن اگلی سینچری کے لیے فواد عالم کو دس برس سے بھی زیادہ کا انتظار کرنا پڑا تھا۔
1980 اور 1990 کی دہائی میں کرکٹرز سلیم ملک اور اعجاز احمد نے کئی میچز میں اپنی ٹیم کو فتوحات سے ہمکنار کیا۔ سلیم ملک نے تو ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کی قیادت بھی کی۔ لیکن یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سلیم ملک اور اعجاز احمد کی بیویاں سگی بہنیں ہیں۔ اس طرح دونوں کھلاڑی ایک دوسرے کے ہم زلف ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بیٹسمین سعید احمد اور یونس احمد نے انٹرنیشنل لیول پر پاکستان کی نمائندگی کی۔ سابق فاسٹ بالر سرفراز نواز ایک وقت میں ان دونوں کھلاڑیوں کے بہنوئی تھے۔ سرفراز نواز نے بعد میں اپنی پہلی بیوی شگفتہ کو چھوڑ کر فلم سٹار رانی بیگم سے شادی کر لی تھی لیکن پھر ان سے بھی طلاق ہوگئی۔
قیامِ پاکستان سے قبل دو ایسے افراد نے ہندوستان کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی جن کے خاندان میں آگے جا کر ایک چیف سلیکٹر، ایک کرکٹ بورڈ کا چیف ایگزیکٹو اور ایک ملک کا وزیرِ اعظم بنا۔ یہ تھے ڈاکٹر جہانگیر خان اور ان کے بہنوئی بقا جیلانی ۔ ڈاکٹر جہانگیر نے بھارت کی چار ٹیسٹ میچز میں نمائندگی کی جب کہ اُن کے بہنوئی بقا جیلانی نے 1936 کے دورۂ انگلینڈ میں ایک ٹیسٹ میچ کھیلا۔ ڈاکٹر جہانگیر پاکستان کرکٹ ٹیم کے سٹائلش بیٹسمین و سابق کپتان ماجد خان کے والد اور ٹیسٹ کرکٹر و کمنٹیٹر بازید خان کے دادا بھی تھے۔ ماجد خان کے دو کزنز جاوید برکی اور عمران خان نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت کی جب کہ عمران خان اس وقت پاکستان کے وزیرِ اعظم بھی ہیں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار تھے جن کی قیادت میں ٹیم نے ہر ملک کے خلاف اولین سیریز میں کم از کم ایک میچ میں کامیابی ضرور حاصل کی۔ انہی کامیابیوں میں اُن کے برادر نسبتی ذوالفقار احمد کا بھی ہاتھ تھا جن کی بہن کی شادی کپتان سے ہوئی تھی۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کاردار کرکٹ بورڈ سے منسلک ہوئے جب کہ ذوالفقار احمد نے امپائرنگ کا رُخ کیا۔
کرکٹرز کا کرکٹ خاندان میں شادی کرنا صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ سابق بھارتی کپتان اور مایہ ناز بیٹسمین سنیل گواسکر کی بہن کویتا کی شادی ایک اور مستند بلے باز گندپا وشوناتھ سے ہوئی تھی جسکی وجہ سے وشوناتھ گواسکر کے بہنوئی ہیں۔ دو اور بھارتی کھلاڑی جو اپنے بچوں کی شادیوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے رشتہ دار بنے۔ سابق بھارتی وکٹ کیپر سید کرمانی نے اپنی بیٹی کے لیے سید عابد علی کے بیٹے کا رشتہ قبول کیا۔ یوں دونوں ایک دوسرے کے سمدھی بنے۔ بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز مشفق الرحیم اور آل راؤنڈر محمود اللہ بھی کھیل کے میدان سے خاندانی رشتے میں جڑے۔ مشفق الرحیم کی بہن کی شادی محمود اللہ سے ہوئی اور یوں وہ دونوں اپنی قومی ٹیم کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے رشتہ دار بھی بن گئے ہیں۔ انگلش بیٹسمین مارک بچر کا شمار اُن بلے بازوں میں ہوتا تھا جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے تبصروں کی وجہ سے خوب شہرت حاصل کی۔ایک وقت میں وہ سابق انگلش کھلاڑی مکی اسٹورٹ کے داماد اور سابق انگلش کپتان ایلک اسٹورٹ کے بہنوئی بھی رہ چکے تھے۔ اب کچھ بات ایسے کھلاڑیوں کی جن کے خاندان دو ممالک میں بٹے ہوئے ہیں۔ آسٹریلوی کرکٹر اور سابق کوچ ڈیرن لیمن کی شادی انگلش کرکٹر کریگ وائٹ کی بہن اینڈریا سے ہوئی ہے۔دونوں کھلاڑی کئی میچز میں ایک دوسرے کے سامنے بھی آئے لیکن کبھی اپنی رشتہ داری کی وجہ سے کارکردگی خراب نہیں کی۔نیوزی لینڈ کے جارح مزاج سابق بلے باز نیتھن ایسٹل اور کریگ میکملن نے کئی میچز میں نہ صرف کیوی ٹیم کو فتح دلائی بلکہ ایک موقع پر نیتھن ایسٹل ٹیسٹ کرکٹ میں تیز ترین ڈبل سینچری بنانے والے کھلاڑی بھی تھے۔دونوں کھلاڑیوں کی شادیاں دو سگی بہنوں سے ہوئی، جس کی رو سے دونوں ایک دوسرے کے ہم زلف ٹھہرئے۔
