شریفوں کو جرمانہ ادائیگی، حکومتی بیانیے کے لئے جھٹکا

لندن میں نواز شریف کے مبینہ خفیہ اثاثے ڈھونڈنے میں ناکامی کے بعد برطانوی عدالت کے حکم پر براڈشیٹ کمپنی کو قومی خزانے سے ساڑھے سات ارب روپے جرمانہ ادا کرنے والی حکومت پاکستان کو اس معاملے میں تب ایک اور بڑا جھٹکا لگا جب شریف فیملی کی لندن جائیداد سے متعلق دعویٰ واپس لینے پر براڈ شیٹ کمپنی کو نواز شریف کو 20 ہزار پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنا پڑ گیا۔ یوں شریف خاندان کے خلاف عمران خان حکومت کے احتسابی بیانیے کی ساکھ مزید خراب ہوئی ہے۔
یاد ریے کہ براڈشیٹ نے قومی احتساب بیورو کے ساتھ 2000 میں پاکستانی شہریوں کے غیر ملکی اثاثوں کا سراغ لگانے کے لیے معاہدہ کیا تھا لیکن اپنا ٹاسک مکمل کرنے میں ناکامی کے بعد حکومت پاکستان نے یہ معاہدہ 2003 میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔ 2018 میں جب سے برطانوی عدالت نے براڈ شیٹ کمپنی کو حکومت پاکستان کی جانب سے 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا فیصلہ سنایا، تب سے کمپنی اپنی ادائیگی کو محفوظ کرنے کے لیے متعدد کوششیں کرچکی ہے اور شرئف خاندان کو حالیہ جرمانی کی ادائیگی بھی اسی سلسلے کی تازہ ترین پیش رفت ہے۔ اس سے پہلے لندن کی ثالثی عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان اور نیب نے غلط طریقے سے براڈ شیٹ کے ساتھ کیا گیا اثاثہ برآمدگی معاہدہ ختم کیا لہذا کمپنی کو نقصان کی ادائیگی کیے جانے کا فیصلہ سنایا گیا جو وکلاء کی فیسیں اور سود کی رقم ملا جلا کر ساڑھے سات ارب روپے کے قریب بنتا ہے۔ اور یہ بھاری رقم حکومت پاکستان نے عوام کی جیبوں سے نکال کر، یعنی قومی خزانے سے ادا کی۔
دوسری طرف مریم نواز شریف نے کمپنی کی جانب سے شریف خاندان کو جرمانے کی ادائیگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت پاکستان کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ الزام تراش, جھوٹوں کے ٹولے کے منہ پر ایک اور زناٹے دار طمانچہ پڑا ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ براڈ شیٹ کو لندن فلیٹس کے بارے میں سوال اٹھانے اور پھر عدالت سے بھاگ جانے پر نواز شریف کے وکلاء کو 45 لاکھ روپے ادا کرنے پڑے۔ جھوٹ اور فریب کے کھیل میں اسی طرح لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ کچھ شرم کچھ حیا؟
اس فیصلے کے وقت سے براڈ شیٹ کمپنی اپنی خدمات کے لیے رقم کی ادائیگی محفوظ کرنے کے لیے برطانیہ میں ایسے متعدد اداروں کو ہدف بناتی رہی ہے جو مبینہ طور پر پاکستانی حکومت سے منسلک ہوں۔ اسی دوران براڈشیٹ کمپنی نے لندن میں شریف خاندان کے ایون فیلڈ ہاؤس کے 4 فلیٹوں پر دعویٰ کر دیا کہ انہیں ضبط کرکے اسے جرمانے کی ادائیگی کی جائے۔ براڈ شیٹ نے پاکستانی حکومت کو خط لکھ کر نیب پر واجب الادا رقم حاصل کرنے کے لیے ‘پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اثاثے ضبط’ کرنے بھی دھمکی دی تھی۔
اسی سلسلے میں 19 جون 2020 کو براڈ شیٹ نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ حکومت پاکستان اور نیب پر واجب الادا رقم کی برآمدگی کے طور پر ایون فیلڈ ہاؤس کے اپارٹمنٹس منسلک کرنے کا حکم جاری کیا جائے گا۔ کمپنی نے یہ دلیل دی تھی کہ جولائی 2018 میں ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے تناظر میں نیب ان اپارٹمنٹس کی ملکیت حاصل کرسکتا ہے۔ تاہم شریف خاندان کے وکیل نے اس دعوے کا مقابلہ کیا اور کہا کہ احتساب عدالت کا فیصلہ حکومت پاکستان یا نیب کو ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں کسی فائدے کا حقدار نہیں ٹھہراتا۔
بعدازاں براڈ شیٹ ایک تیسرے فریق کے حکم کے تحت اپنی ادائیگی کو محفوظ بنانے میں کامیاب ہوگئی جس کے تحت برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے بینک اکاؤنٹ سے کمپنی کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی پہلی قسط ادا کر دی گئی۔
اس پیش رفت سے چند ہفتوں قبل 2 دسمبر 2020 کو کمپنی کے وکیل نے ہائی کورٹ میں ایوان فیلڈ فلیٹ کی ضبطی کا دائر کردہ اپنا دعویٰ واپس لے لیا تھا۔ عدالت نے بھی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو ڈسچارج کرنے کا حکم دے دیا تھا، نتیجتاً براڈ شیٹ شریف خاندان کو قانونی اخراجات کی ادائیگی کی پابند ہوگئی تھی کیوں کہ سول کیسز کے رائج عمومی قواعد کے مطابق لندن میں کیس ہارنے والا فریق جیتنے والے کو تما تر قانونی اخراجات ادا کرتا ہے۔
چنانچہ براڈشیٹ کمپنی نے پاکستانی حکومت سے رقم وصول کرنے کے بعد نہ صرف ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پر اپنا دعویٰ واپس لے لیا، بلکہ شریف خاندان کو قانونی اخراجات کی مد میں 20 ہزار پاؤنڈ ادا کیے۔ قانونی دستاویزات سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ براڈشیٹ ایل ایل سی نے شریف فیملی کو 20 ہزار پاؤنڈ ادا کیے ہیں، جبکہ شریف خاندان کے قانونی نمائندوں نے بھی براڈ شیٹ سے مذکورہ رقم موصول ہونے کی تصدیق کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button