شوگر مافیا سٹے بازی سے چینی کی قیمت کیسے بڑھاتا ہے؟

پاکستان میں ایک مرتبہ پھر چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت کا ذمہ دار شوگر ملز مالکان کا ایک منظم سٹہ مافیا ہے جو دھوکے اور جعل سازی سے چینی کی قیمت کو مصنوعی طور پر برھا رہا ہے۔ یہ انکشاف وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اعلی افسران نے کیا ہے جو پچھلے برس بھی چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی تحقیقات کرتے رہے ہیں۔
ایف آئی اے ذرائع کا کہنا یے کہ پاکستان میں جس قسم کا کیپٹلزم پایا جاتا ہے، یہاں منافع خوروں کے لیے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ انکا کہنا یے کہ شوگر ملز مالکان کے ایجنٹ اور بازار میں بیٹھے بڑے منافع خور دونوں چینی کی سٹے بازی کو کنٹرول کرتے ہیں اور ناجائز منافع خوری کےلیے کئی ماہ پہلے ہی چینی کی پیشگی قیمت طے کرلیتے ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق گزشتہ سال تقریباً ساڑھے پانچ ارب کلو چینی استعمال ہوئی اور سٹہ مافیا نے اس سے تقریباً 110 ارب روپے کی ناجائز کمائی کی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل متعدد بااثر شوگر ملز مالکان کے واٹس آپ گروپ بنا کر چینی کی سٹے بازی کے سکینڈل کا انکشاف ہوا تھا جس کے بعد ایف آئی اے نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق چینی سیکٹر میں ایک بہت ہی منظم سٹہ مافیا دھوکے اور جعل سازی سے قیمتوں کو مصنوعی طور پر اوپر لے جا رہا ہے۔ پچھلے سال کے آغاز میں جب چینی کی قیمت 69.50 سے 100 روپے تک پہنچی تو حکومت نے معاملے کی تحقیقات کےلیے شوگر کمیشن بنایا تھا اور اب دوبارہ سے چینی کی قیمت سو روپے فی کلو سے بڑھ جانے کے بعد تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ سال سٹہ مافیا کی جانب سے تقریباً 110 ارب روپے کی ناجائز کمائی کرنے کی اطلاعات کے بعد دس مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق سٹہ مافیا آپس میں مل کر کام کرتا ہے اور اس کے آگے دس مزید گروپس بنے ہیں جن سے منسلک افراد کے خلاف اس برس بھی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔مذکورہ گروپس کے خلاف ثبوت ان سب کی آپس کی واٹس ایپ پر ہونے والی پیغام رسانی ہے، جس کا تمام ریکارڈ ایف آئی اے کے پاس آ چکا ہے۔ ایف آئی اے کے ترجمان ذیشان ملک نے بتایا کہ سٹے کے ذریعے مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھایا جاتا ہے جس سے شوگر مافیا ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔
جب پوچھا گیا کہ سٹے باز کام کیسے کام کرتے ہیں تو ذیشان ملک نے بتایا کہ سٹے باز، جن میں شوگر ملز مالکان کے ایجنٹ اور بازار میں بیٹھے بڑے منافع خور دونوں شامل ہوتے ہیں، چینی کی سٹے بازی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ انہوں نے مثال دے کر بتایا کہ اگر جنوری میں چینی کی فی بوری قیمت پانچ ہزار روپے ہے تو سٹے باز اپریل کےلیے چینی کی قیمت سات ہزار روپے فی بوری پہلے سے ہی مقرر کر لیتے ہیں۔ پھر وہ مارکیٹ میں تاجروں سے کہتے ہیں کہ اپریل میں چینی کی فی بوری قیمت سات ہزار روپے سے زیادہ ہوگی لہٰذا وہ جنوری میں ہی سات ہزار روپے فی بوری کے حساب سے پیشگی بکنگ کروا لیں۔ یوں ملک میں پیدا ہونے والی تمام چینی کی قیمت تین ماہ پہلے ہی متعین کر لی جاتی ہے، جس کا مقصد زیادہ اور ناجائز منافع کمانا ہوتا ہے۔
ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیس اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جس قسم کا کیپٹلزم پایا جاتا ہے یہاں پر منافع خوروں کےلیے بہت سے مواقع ہیں۔ شوگر مافیا کارٹلز بنا کر کام کرتے ہیں۔ ہر طرف سے فائدے اٹھاتے ہیں۔ ایک یہ مارکیٹ کی قیمت سے اضافی قیمتیں وصول کرتے ہیں، پھر جو حکومتی سبسڈی صارف کو ملنی چاہیے وہ بھی شوگر ملز مالکان کو دی جاتی ہے۔ انکا۔کہنا تھا کہ ایسے اسکینڈل پہلے بھی آ چکے ہیں لیکن ان کو روکنے کے لیے کسی قسم کا کوئی حکومتی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ قیس نے مزید کہا کہ یہ سوگر ملز مالکان گنے کے کاشت کاروں کو لمبے عرصے تک پیسے نہیں دیتے۔ اس سے بھی یہ منافع کماتے ہیں۔ اس کے علاوہ بینک شوگر ملز کو ان کے اسٹاک پر قرضہ دیتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ اسٹاک بھی وہ ہوتا ہے جو پہلے سے بک چکا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر قیس کے مطابق شوگر ملز۔مالکان کارٹل بنا کر کئی مہینے پہلے ہی چینی کی قیمت فکس کر دیتے ہیں، جسے سپیکیولیٹیو ٹرانزیکشن کہتے ہیں۔ مثلاً آج کا اسپاٹ ریٹ آج کا ہے لیکن آج سے تین ماہ بعد کا ریٹ یہ پہلے ہی فکس کر دیں گے جسے اسپیکیولیٹیوو ریٹ کہتے ہیں اور اسی کی ذریعے مستقبل کے اسٹاک بیچ کر یہ اسپیکیلیٹیوو ٹرانزیکشن کروا لیتے ہیں، یہی سٹہ کہلاتا ہے جو غیر قانونی ہے۔
ڈاکٹر قیس کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی کیوں کہ مسئلہ یہ ہے کہ جتنے شوگر ملز مالکان ہیں وہ سیاست دان یا بااثر لوگ ہیں۔ حکام ان پر ہاتھ ڈالنے سے گھبراتے ہیں۔ اب بھی ایف آئی اے نے جن لوگوں کو طلب کیا ہے مجھے شک ہے کہ ان کے خلاف کوئی ایکشن ہوگا البتہ ہو سکتا ہے کہ ان کے فرنٹ مین وغیرہ کو کوئی سزا دے دی جائے۔ اس سلسلے میں وہ جہانگیر خان ترین کی مثال دیتے ہیں جن کے خلاف گزشتہ سال شوگر کمیشن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین الزامات عائد کیے تھے اور ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئیں، لیکن اب ایک سال بعد بھی نہ تو ان سے کوئی تفتیش ہو سکی ہے اور نہ ہی ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
