شہبازشریف نے مقبولیت میں مریم کو کیسے پیچھے چھوڑدیا

ووٹ کو عزت دو کے نعرے سے پھرنے اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت کے بعد کیے جانے والے ایک حالیہ سروے کے مطابق مریم نواز کی مقبولیت کا گراف نون لیگ کے کارکنان میں تیزی سے گرا ہے.
حیرت انگیز طور پر گیلپ پاکستان کے تازہ ترین سروے کے مطابق 49 فیصد لیگی کارکنان اور ووٹرز نے مریم نواز کے مقابلے میں شہبازشریف کو پارٹی صدر کے عہدے پر برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا جبکہ اس عہدے کے لیے نواز شریف کی بیٹی کو صرف 12 فیصد ووٹرز اور کارکنان کی حمایت حاصل ہو سکی۔ تاہم مریم کے قریبی حلقوں نے گیلپ سروے کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ مریم نواز کا بیانیہ کیا ہے اور شہباز شریف کا بیانیہ کیا ہے۔ لہٰذا اگر مریم نواز کی مقبولیت کا گراف اس بنیاد پر گرتا دکھایا جاتا ہے کہ نون لیگ نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے سے انحراف کیا تو اس انحراف کے روح رواں تو شہباز شریف ہیں جو آج دن تک ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے سے انکاری ہیں تاہم گیلپ سروے کے ذریعے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ نون لیگ میں شہباز سے زیادہ مقبول رہنما اور کوئی نہیں اور پارٹی قائد نواز شریف کی عدم موجودگی میں صرف وہ ہی پارٹی کی کمان سنبھال سکتے ہیں۔ سروے کے مطابق 49 فیصد لیگی ووٹروں نے نواز شریف کی غیر موجودگی میں شہباز کو قائدانہ صلاحیتوں کا مالک قراردیا ہے۔ تقریباً ہر 2 میں سے 1 یعنی 49 فیصد لیگی ووٹروں کے مطابق شہباز شریف نواز شریف کی غیر موجودگی میں پارٹی کی قیادت اچھے طریقے سے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
گیلپ سروے رپورٹ کے حیران کن نتائج کے مطابق 14 فیصد ووٹروں کی رائے میں شہباز شریف کے علاوہ کوئی رہنما پارٹی چلانے کی اہلیت نہیں رکھتا، مریم نواز اپنے چچا شہباز شریف کے 49 فیصد کے مقابلے میں صرف 12 فیصد ووٹروں کی مثبت رائے حاصل کر سکی ہیں۔ سروے رپورٹ میں پارٹی چلانے کی اہلیت رکھنے کے معاملے میں حمزہ شہباز کے حق میں 3 فیصد اور شاہد خاقان عباسی کے حق میں صرف 2 فیصد لیگی کارکنوں نے ووٹ دیا، 19 فیصد ووٹروں نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا۔
نون لیگ میں موجود نواز شریف دھڑے کے مطابق شہباز شریف کے ووٹ کی بجائے بوٹ کو عزت دینے کے بیانیے کی وجہ سے پارٹی کارکنان کی اکثریت انہیں پسند نہیں کرتی۔ اور شاید پارٹی کارکنان کے رد عمل کی شدت کو کم کرنے کیلئے ہی اس طرح کے عجیب سروے جاری کیے جا رہے ہیں تاہم نون لیگی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے برعکس اب کارکنان باشعور ہو چکے ہیں اس لئے وہ اس طرح کے ڈھکوسلوں میں نہیں آئیں گے اور شہباز شریف کو آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت کے غیر مقبول فیصلے کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری طرف گیلپ سروے کے بارے ن لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا تارڈ نے کا کہنا ہے کہ یہ سروے ہم نے نہیں کروایا بلکہ گیلپ نے اپنے طور پر کیا ہے، شہباز شریف پارٹی صدر ہیں ،مریم نواز پارٹی کی نائب صدر اور اہم لیڈر ہیں۔ پارٹی میں کوئی تقسیم نہیں اور تمام فیصلے متفقہ ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button