شہباز کے فیورٹ احد چیمہ کا جیل سے اقتدار تک کا سفر


شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے دوران پنجاب کے ڈیفیکٹو چیف منسٹر کہلانے والے احمد خان چیمہ نے تین سال نیب کی حراست میں رہنے کے بعد رہائی پا کر سرکاری ملازمت سے تو استعفیٰ دے دیا لیکن اب انہیں وزیراعظم شہباز شریف کا مشیر مقرر کر دیا گیا ہے۔ احد چیمہ نے پنجاب میں مسلم لیگ ن کے گذشتہ ادوار میں نمایاں پوزیشنز پر کام کیا۔ شہباز شریف کے فیورٹ ہونے اور بیک وقت کئی محکموں کی باگ ڈور سنبھالنے کی وجہ سے انہیں ڈیفیکٹو چیف منسٹر بھی کہا جاتا تھا۔ لہٰذا جب شریفوں پر زوال آیا تو احد چیمہ گرفتار ہونے والے سب سے پہلے بیوروکریٹ تھے۔ پچھلے ماہ احد چیمہ نے سرکاری نوکری سے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ لیکن اب انہیں وزیراعظم شہباز شریف کا مشیر مقرر کردیا گیا ہے۔ ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق صدر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 93 ون کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر احد چیمہ کی بطور مشیر وزیر اعظم تعیناتی کی منظوری دی ہے۔

انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے دوران پنجاب کے تمام بڑے منصوبے ان کی زیر نگرانی مقررہ مدت سے قبل مکمل ہوئے، جس سے شہباز شریف کو بطور وزیراعلیٰ پنجاب ’شہباز سپیڈ‘ کا لقب بھی ملا۔جب 2018 کے عام انتخابات سے قبل پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور قریبی افسران کے خلاف نیب کا گھیرا تنگ ہوا تو سب سے پہلی گرفتاری احد چیمہ کی ہی ہوئی تھی۔ان کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت اور نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد سمیت دیگر افسران کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا اور مختلف کیسز بنائے گئے۔ احد چیمہ نے مختلف مقدمات میں تین سال جیل میں گزارے اور اس دوران انہیں عدالت میں شہباز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے تھے۔ ان کے دورانِ حراست کیسوں میں تفتیش بھی سست روی کاشکار رہی تاہم عدالت سے بے گناہ قرار دیے جانے کے بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا۔

احد چیمہ کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے، کئی دہائیاں پہلے ان کے والد تین بیٹوں کو ساتھ لے کر لاہور آگئے اور گارڈن ٹاؤن میں 10 مرلے کے گھر میں رہائش اختیار کی۔ وہ لاہور میں سکول ٹیچر تھے۔ احد چیمہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کے گریڈ 20 کے افسر تھے۔ وہ پہلے افسر ہیں، جنہوں نے دوران سروس تین سال جیل میں گزارے۔ انہیں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے 2005 میں تعلیم کے پروگرام ’پڑھا لکھا پنجاب‘ کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا لیکن ان کا نام تب ابھر کر سامنے آیا، جب شہباز شریف نے وزیراعلیٰ بنتے ہی 2008 میں احد چیمہ کو اٹھارویں سکیل کا افسر ہونے کے باوجود 20، 21 سکیل کے افسران کو نظر انداز کرکے سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن پنجاب تعینات کردیا۔ اس معاملے پر بیوروکریسی میں کافی کھلبلی مچی مگر انہیں عہدے سے ہٹانے کی بجائے مزید اختیارات مل گئے اور انہیں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کا چارج بھی دے دیا گیا۔ پنجاب میں تب تین سرکاری افسر شہباز شریف کے قریبی اور قابل اعتماد لوگ سمجھے جاتے تھے۔ نبیل اعوان، جو آج کل وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے پرنسپل سیکرٹری ہیں، توقیر شاہ، جنہیں شہباز شریف نے اپنا پرنسپل سیکرٹری تعینات کیا ہے اور تیسرے احد چیمہ، جنہوں نے سرکاری نوکری جاری رکھنے سے انکار کیا تو وزیراعظم نے انہیں اپنا مشیر مقرر کرلیا۔

احد چیمہ کو ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کے ساتھ ساتھ میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، لینڈ ریکارڈ کمپوٹرائزیشن، نندی پور پاور پراجیکٹ، سولر انرجی کے منصوبے اور آشیانہ ہاؤسنگ سکیموں کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔ انہوں نے قانونی پیچیدگیوں کے باوجود کئی منصوبے قبل از وقت مکمل کیے۔ احد چیمہ نے مسلم لیگ ن کے ادوار میں صوبے کی پوری بیورو کریسی کو اپنی مٹھی میں کر رکھا تھا۔ ہر شعبے میں افسران کی تعیناتی میں بھی ان کی رائے لی جاتی تھی جبکہ فواد حسن فواد نواز شریف کے قریب تھےاور وفاق میں ان کی مرضی سے افسران تعینات ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب فواد حسن فواد اور احد چیمہ کو نیب نےگرفتار کیا تو سابق پی ٹی آئی حکومت اور بیورو کریسی میں اچھے ورکنگ تعلقات قائم نہ ہوسکے۔ احد چیمہ کرپٹ تھے یا نہیں یہ تو ثابت نہیں کیا جاسکتا البتہ انہیں دیگر شعبوں میں ذمہ داریاں اداکرنے کی 25 لاکھ روپے تنخواہ ادا کی جاتی تھی۔

نیب نے ان پر سات ارب مالیت کی جائیداد بنانے اور زرعی زمینوں کی خریداری پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنا رکھا ہے۔ احد چیمہ کو دو مرتبہ لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا ڈائریکٹر جنرل لگایا گیا۔ جب 2011 میں پاکستان کی پہلی میٹرو بس سروس بنانے کاآغاز ہوا تو اس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر بھی احد چیمہ ہی تھے۔

خیال رہے کہ یہ پراجیکٹ 11 ماہ میں مکمل ہوا تھا۔ اس کے بعد انہیں پنجاب حکومت کے بجلی کے منصوبوں کی کمپنی قائداعظم تھرمل پاور کا سی ای او بنایا گیا اور گذشتہ دور حکومت میں لگائے جانے والے تیز ترین بجلی کے منصوبوں کی نگرانی بھی وہی کر رہے تھے۔ ان منصوبوں کو چین نے سرکاری طور پر ’پنجاب سپیڈ‘ کا نام دیا تھا کیونکہ یہ تمام منصوبے سی پیک کے تحت چینی سرمایہ کاری سے بنائے گئے تھے۔ شہباز شریف کے دوسرے دور حکومت کے اختتام پر فروری 2018 میں نیب نے انہیں ان کے سرکاری دفتر سے گرفتار کیا اور ان پر دو مقدمات چلائے گئے۔ ایک مقدمہ آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی جبکہ دوسرا آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق تھا۔ ان کی عدالت میں پیشی کے موقع پر کئی بار سرکاری افسران بھی اظہار یکجہتی کے لیے عدالت میں ان کے ساتھ آئے اور اس پر چیف سیکرٹری کے سامنے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔ انہوں نے تب کے وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے سامنے بھی یہ تحفظات رکھے تھے۔

Back to top button