فوجی قیادت کا عسکری اخراجات میں کمی کا فیصلہ

حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز اورشرح مہنگائی کے پیش نظر افواج پاکستان نے پچھلے دو سالوں کی طر ح اس سال بھی بجٹ کی مد میں کسی اضافی فنڈ کی ڈیمانڈ نہیں کی۔ لیکن اسکے باوجود پاک فوج اپنی حربی صلاحتیوں میں بھی کسی قسم کی کمی نہیں آنے دے گی اور دستیاب وسائل میں ہی ملکی دفاع اور سلامتی کو یقینی بنائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کے استحکام کے لئے مسلح افواج نے بڑے فیصلے کئے ہیں جن میں مختلف ایریاز میں اپنے عمومی اخراجات کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں یوٹیلٹی بلز کی مد میں فوج کے اخراجات کو مزید محدود کردیا گیا ہے اور ڈیزل اور پیٹرول کے استعمال میں خصوصی بچت کیلئے دورس اقدامات کئے گئے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق فوج نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں فیصلہ کیا ہےکہ جمعہ کا دن پوری فوج میں ڈرائے ڈے ہو گا اور سوائے ایمرجنسی کے کوئی بھی سرکاری ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی۔ اسکے علاوہ بڑی تربیتی مشقوں اور ٹریننگ کے لئے دور دراز علاقوں میں جانے کے بجائے کنٹونمنٹس کے قریب چھوٹے پیمانے پر ٹریننگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسی طرح غیر ضروری فوجی نقل و حرکت میں کمی کی جائے گی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کانفرنسوں اور دیگر اہم امور کے لئے آن لائن کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے قومی خزانے کی بچت ہوگی۔
ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر کی بچت کی مد میں عسکری سازو سامان کی خریداری کے لئے کئی معاہدوں میں مقامی کرنسی کو استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ آرمی نے گزشتہ مالی سال میں کرونا کی مد میں الاٹ کی گئی رقم میں سے 6ارب روپے بچا کر حکومت کو واپس کئے ہیں۔ مزید یہ کہ عسکری سازو سامان کی خریداری کیلئے پچھلے بجٹ میں بھی الاٹ کی گئی رقم سے تقریباًساڑھے تین ارب روپے بچا کر قومی خزانے میں واپس جمع کروائے گئے ہیں۔
حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ رواں سال دفاعی بجٹ قومی بجٹ کا صرف 16 فیصد ہے۔ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں پاکستان آرمی اور اس کے رفاعی اداروں نے پچھلے 5 سالوں میں 935 ارب روپے کی خطیر رقم قومی خزانے میں جمع کروائی ہے اور آئندہ بھی یہ عمل جاری رہے گا۔
