میری عامر لیاقت سے صلح ہو چکی تھی، میں واپس آنے والی تھی

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے، عامر لیاقت حسین سے علیحدگی کے لیے خلع کا دعویٰ کرنیوالی انکی تیسری بیوی دانیہ شاہ نے اب دعویٰ کیا ہے کہ اسکی عامر سے صلح کی بات ہو چکی تھی اور وہ جلد ایک ہونے والے تھے۔
لودھراں میں جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے دانیہ نے دعویٰ کیا کہ موت سے پہلے عامر لیاقت ان کی والدہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور مجھے واپس بلانے پر اصرار کر رہے تھے۔ دانیہ کے مطابق عامر لیاقت یہ بھی کہتے تھے کہ مجھے تم میں اپنی بیوی بیٹی اور ماں نظر آتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عامر لیاقت حسین نے آخری مرتبہ فون پر بات کرتے ہوئے ان سے کہا تھا کہ تم واپس آ جاؤ میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں، ہم ساری باتیں بھلا دیں گے، جو تمہاری اور میری عزت گئی اس کو ہم مل کر دوبارہ حاصل کر لیں گے۔ دانیہ نے مزید کہا کہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ میں ان کی دولت کے لیے اب جھوٹی باتیں کررہی ہوں لیکن ایسا نہیں ہے اور میں بالکل سچ بتا رہی ہوں۔ دانیہ نے کہا کہ اللّہ عامر لیاقت کو جنت میں جگہ دے اور ان کے قبر کا عذاب بھی ختم کرے۔
دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دانیہ شاہ کی والدہ نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ آخری دنوں میں عامر لیاقت ان سے رابطے میں تھے اور وہ اپنی بیٹی کو واپس کراچی بھیجنے پر غور کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی ایک ویڈیو میں عامر لیاقت نے خود یہ تسلیم کیا تھا کہ دانیہ شاہ بہت چھوٹی عمر کی نادان لڑکی ہے جس سے غلطی ہو گئی لہذا میں اسے دل سے معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔ خیال رہے کہ دانیہ نے عامر سے شادی کے صرف تین ماہ بعد ہی خلع کا دعویٰ دائر کر دیا تھا جس کے بعد عامر نے اپنی تیسری بیوی کی قابل اعتراض آڈیو گفتگو جاری کی تھی اور دانیہ نے ردعمل میں اپنے شوہر کی بیڈ روم کی عریاں ویڈیوز جاری کر دی تھیں۔ لیکن عامر لیاقت کے قریبی ذرائع دانیہ اور اس کی والدہ کے اس دعوے کو سختی سے رد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عامر لیاقت کو سب سے زیادہ ذہنی صدمہ دانیہ کی جانب سے اپنی ویڈیوز جاری کرنے پر ہوا تھا جس کے بعد وہ سخت ڈپریشن میں چلے گئے تھے اور لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ کر گھر میں محدود ہو گئے تھے۔ عامر لیاقت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی موت کی ایک بڑی وجہ دانیہ شاہ ہے لہٰذا اب جو بھی دعوے کیے جارہے ہیں وہ بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ان دعوئوں کا مقصد عامر لیاقت کی جائیداد ہتھیانا ہے۔ عامر لیاقت کے قریبی ذرائع نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جسے زندگی میں اس کی اولاد نے نہیں پوچھا اب وہ اپنے باپ کے بچے بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عامر لیاقت کی شدید خواہش کے باوجود ان کا بیٹا اور بیٹی آخری وقت تک ان سے ملنے سے انکاری رہے۔
9 جون کو انتقال کرنے والے عامر لیاقت حسین کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ ایک روز قبل پاکستان چھوڑنے والے تھے۔ یہ انکشاف عامر کی جانب سے 8 جون کو کی جانے والی ایک ری ٹوئٹ سے ہوا، جو صحافی حمزہ اظہر سلام نے کی تھی، جسے بعد ازاں عامر لیاقت نے ری ٹوئٹ کیا تھا۔ حمزہ اظہر سلام نے 8 جون کواپنی ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی عامر لیاقت سے بات ہوئی ہے اور انہوں نے بتایا ہے کہ وہ ملک سے جانے والے ہیں۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ عامر لیاقت نے انہیں بتایا ہے کہ وہ عمرے کی ادائیگی کے لیے جا رہے ہیں جس کے بعد وہ کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہوجائیں گے۔
عامر لیاقت نے ملک چھوڑنے کا منصوبہ تیار کیا تھا یا نہیں؟ اس حوالے سے مستند معلومات تو پولیس کی تفتیشی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی آئیں گی، تاہم انہوں نے گزشتہ ماہ پاکستان چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ عامر لیاقت نے مئی میں تیسری اہلیہ دانیہ ملک سے علیحدگی کے بعد ملک چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، تاہم انہوں نے اس کی کوئی تاریخ نہیں دی تھی۔
عامر لیاقت حسین گزشتہ کچھ عرصے سے نجی زندگی میں شدید مسائل سے دوچار تھے۔ ان کی مشکلات میں اس وقت اضافہ ہوا جب ان کی تیسری اہلیہ دانیہ ملک نے ان سے علیحدگی کے بعد ان کی مبینہ ذاتی ویڈیوز کو ریلیز کیا تھا۔ دانیہ ملک سے عامر لیاقت حسین نے فروری 2022 میں شادی کی تھی، اس سے قبل فروری میں ان کی سابق دوسری اہلیہ طوبیٰ انور نے ان سے خلع لینے کی تصدیق کی تھی۔ عامر لیاقت نے پہلی شادی ڈاکٹر بشریٰ سے کی تھی، جن سے انہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں، جن کی عمریں 20 سال سے زائد ہیں۔ ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے دسمبر 2020 میں تصدیق کی تھی کہ شوہر نے انہیں طلاق دے دی۔
عامر لیاقت نے دوسری شادی ماڈل و اداکارہ طوبیٰ انور سے جولائی 2018 میں کی تھی جو ان سے کئی سال کم عمر تھیں اور دونوں کی شادی 4 سال سے بھی کم عرصے تک چلی۔ فروری میں طوبیٰ انور نے تصدیق کی تھی کہ انہوں نے عامر لیاقت سے خلع لے لی ہے تاہم عامر لیاقت مسلسل اس کی تردید کرتے رہے۔ عامر لیاقت نے تیسری شادی فروری 2022 میں بہاولپور کی 18 سالہ لڑکی دانیہ شاہ سے کی تھی، جنہوں نے گزشتہ ماہ مئی کے آغاز میں خلع کے لیے وہاں کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ لیکن ابھی تک خلع کے کیس کا فیصلہ نہیں ہو پایا اور قانونی طور پر دانیہ اب تک عامر لیاقت کی منکوحہ ہے۔
