صدارتی اختیارات کے تحت طالبان کو معافی دینے پر غور

تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ سزا یافتہ طالبان جنگجوؤں کو صدر اپنے صدارتی اختیارات کے تحت معافی دے دیں۔ تاہم آئینی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست کی جانب سے کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات بارے آئین پاکستان خاموش ہے۔ دوسری جانب نہ صرف اس تنظیم کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں بلکہ ایک مہینے کا عارضی سیز فائر بھی ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان ایک غیر ملکی چینل کو انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو گئے تو طالبان کو عام معافی بھی دی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ناقدین سوال کرتے ہیں کہ کیا وزیراعظم یا ان کی حکومت کو شہیدوں کے خون کا سودا کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے؟انکاکہنا ہے کہ کپتان حکومت 85 ہزار سے زائد پاکستانیوں کے قتل کی ذمہ دار دہشت گرد تحریک طالبان کو صدارتی اختیارات کے تحت معافی دینے کا سوچ تو رہی ہے لیکن آئین کے مطابق جب تک شہداء کے لواحقین انہیں معاف کرنے پر راضی نہیں ہوتے، تب تک ریاست یا حکومت دہشتگردوں کو معافی نہیں دے سکتی۔ اس حوالے سے آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ معافی کا اختیار صرف صدر کو حاصل ہے اور وہ بھی صرف سزا یافتہ مجرمان کے لیے لیکن اس اختیار کو استعمال کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ متاثرہ فریق بھی مجرم کو معاف کرنے پر تیار ہو۔ یعنی کہ یہ اختیار صدر کے پاس نہیں ہے کہ اگر کسی نے کوئی قتل کیا ہے اور مقتول کے ورثاء اسے معاف نہیں کرتے تو صدر ان کی سزا معاف کر سکے۔ خیال رہے کہ عمران خان کی جانب سے دہشت گردوں کو عام معافی دینے کی بات کے بعد سانحہ آرمی پبلک اسکول کے متاثرین نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ طالبان دہشت گردوں نے ان کے پیاروں کو شہید کیا لہذا ان کے ساتھ مذاکرات یا انہیں معافی دینے کا فیصلہ بھی شہداء کے کے لواحقین ہی کرسکتے ہیں۔ حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے اور انھیں عام معافی دینے کے بارے میں سوچے۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مذاکرات کے انکشافات کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بھی باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ حکومت نے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ اس مذاکراتی عمل میں افغانستان کی عبوری حکومت ’سہولت کار‘ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ فواد کے بیان کے بعد تحریک طالبان کا بھی ایک اعلامیہ سامنا آیا جس میں انہوں نے بھی مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ فریقین ایک ماہ کی فائر بندی پر متفق ہوئے ہیں۔
دوسری جانب حزب اختلاف کی جانب سے بھی ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدے کی تفصیل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔حال ہی میں ہوئے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت قومی اسمبلی اور سینیٹ کی منظوری کے بغیر ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات نہیں کرسکتی۔ سپریم کورٹ کے وکیل اور ماہر قانون طارق آفریدی سمجھتے ہیں کہ آئین میں ٹی ٹی پی یا ایسی کسی بھی تنظیم یا کسی ادارے کے ساتھ مذاکرات کا ذکر موجود نہیں ہے اور نہ آئین ان چیزوں کے لیے بنا ہے کہ اس میں مذاکرات کے حوالے سے بات ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ آئین میں دیگر مسائل جیسے کہ کسی شخص کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانا یا حکومتی معاملات کو چلانے کے حوالے سے شقیں موجود ہیں اور مذاکرات حکومت کے اختیار میں ہیں اور اس کی پالیسی یا منشور کے مطابق سیاسی جماعتیں کام کرتی ہیں۔طارق آفریدی نے بتایا کہ مذاکرات دشمن کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں اور آئین یا قانون میں اس پر کوئی قدغن نہیں ہے لیکن جہاں تک مذاکرات کا ذکر آئین یا قانون میں موجودگی کا ہے، تو اس کا کوئی ذکر آئین میں موجود نہیں ہے۔ طارق آفریدی سے جب صدر کے سزائیں معاف کرنے کے اختیار کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ صدر کے پاس مجرمان کی سزائیں معاف کرنے کا اختیار تو موجود ہے لیکن وہ ریاستی معاملات کے حوالے سے یعنی اگر ریاست کے خلاف کوئی جرم ہوا ہے تو اس میں وہ کسی مجرم کی سزا معاف کر سکتے۔ طارق آفریدی نے بتایا کہ اب یہ اختیار تو صدر کے پاس نہیں ہے کہ کسی مجرم نے کسی کو قتل کیا ہے اور اس کے ورثا ان کو معاف نہیں کرتے تو صدر بھی ان کی سزا معاف نہیں کرسکتے۔
