کپتان دور میں جنس تبدیل کروانے کے رجحان میں اضافہ


وزیراعظم عمران خان کے برسراقتدار آنے کے بعد پچھلے تین برس میں پاکستانی مردوں اور عورتوں میں اپنی جنس تبدیل کروانے کا رجحان تیزی سے زور پکڑتا دکھائی رہا ہے۔ سینیٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے تین برسوں میں 28 ہزار 700 سے زائد مردوں اور عورتوں نے اپنی جنس تبدیل کروانے کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی یا نادرا کو اپنے کوائف میں تبدیلی جنس کی درخواستیں دی ہیں۔
10 نومبر 2021 کو وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر مشتاق احمد کے سوال پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اپنے تحریری جواب میں سینیٹ کو بتایا کہ 2018 سے 2021 کے دوران پچھلے تین برس میں 16 ہزار 530 مردوں نے اپنی جنس تبدیل کرکے خود کو عورت کے طور پر رجسٹر کرانے کی درخواست دی ہے۔ عمران خان کے برسر اقتدار آنے کے بعد اگست 2018 سے اگست 2021 کے دوران 12 ہزار 154 عورتوں نے اپنی جنس مرد کے طور پر رجسٹر کرانے کی درخواست کی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا کہ گذشتہ تین برسوں میں نو پاکستانی شہریوں نے اپنی جنس مرد سے خواجہ سرا میں بدلنے کی درخواست دی جبکہ 21 افراد نے اپنی جنس خواجہ سرا سے مرد کے طور پر رجسٹرڈ کرنے کی بھی درخواست کی۔
یاد رہے کہ سینیٹر مشتاق وزارت داخلہ سے سوال کیا تھا کہ گذشتہ تین برسوں میں کتنے شہریوں نے نادرا سے جنس کی تبدیلی کے سرٹیفیکیٹ کی درخواست دی تھی؟ اپنے جواب میں نادرا نے ریکارڈ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نادرا جنس کی تبدیلی کا سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کرتا، تاہم طبی وجوہات کی بنا پر ریکارڈ میں جنس تبدیل کروائی جا سکتی ہے اور خواجہ سرا افراد کی بطور مرد یا عورت نادرا میں رجسٹریشن کی جاتی ہے۔ سینیٹ کو بتایا گیا کہ نادرا نے پچھلے تین برسوں میں ایسے 28 ہزار 723 کیسز پر کارروائی کی ہے۔
یاد رہے کہ کسی بھی پاکستانی شہری کو آپریشن کے ذریعے اپنی جنس تبدیل کروانے کے لئے عدالت سے اجازت حاصل کرنا پڑتی ہے جو کہ ایک مشکل عمل ہے۔ جنس تبدیلی کے آپریشن کرنے والے ایک سینئر ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ مغرب کی طرح کوئی بھی پاکستانی کسی ہسپتال میں چلا جائے اور اپنی جنس تبدیلی کا آپریشن کروا لے۔ ایسا کرنے کے لئے ایک باقاعدہ قانونی طریقہ کار اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لئے میڈیکل کنڈیشن دیکھنی ہوتی ہے۔ اگر میڈیکل کنڈیشن ایسی ہے کہ جنس کی تبدیلی ضروری ہے، تو پھر اس کی اجازت ہے ورنہ ایسا ممکن نہیں۔ مثال کے دور پر کسی میں قدرتی طور پر ہی جنسی رجحان یا علامات مخلتف ہوں، تو ایسی صورت میں سرجری ہو سکتی ہے اور کوئی سینئر سرجن ہی اس کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

Back to top button