صرف 39 برس جینے والا امریکہ مخالف انقلابی چی گویرا کون تھا؟

دنیا پر امریکی بالادستی کے مخالف معروف انقلابی لیڈر چی گویرا کو سی آئی اے کے ہاتھوں قتل ہوئے 45 سال سے زائد ہو گئے ہیں، مگر وہ اپنی اصول پسندی، قابلیت، سرمایہ درانہ نظام کے خلاف مسلح بغاوت اور انقلابی سوچ کی وجہ سے آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
دنیا بھر میں جہاں بھی انقلابی تحریکیں چل رہی ہیں وہاں چی گویرا کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔اس کا مرتبہ آج بھی کیوبا میں ایک نیشنل ہیرو کا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ کیوبا کا باشندہ نہیں تھا۔ وہ اپنے ملک ارجنٹائن میں بھی ایک ہیرو کی طرح یاد کیا جاتا ہے۔ محض 39 برس جینے والا چی گویرا دنیا کے ہر انقلابی کا روحانی قائد ہے۔ 14 جون، 1928ء کو ارجنٹائن میں آنکھ کھولنے والے عالمی شہرت یافتہ انقلابی رہنما چی گویرا کی شخصیت عجیب وغریب تھی۔بچپن سے دمہ کا مریض ہونے کے باوجود وہ ایک بہترین ایتھلیٹ تھا اور شطرنج کا بھی شوقین تھا۔چی گویرا بنیادی طور پر میڈیکل کا طالب علم تھا، دوران تعلیم ہی اس کے اندر سیاحت کا شوق پیدا ہوا اور 1950ء سے لیکر 1953ء تک اس نے جنوبی امریکا کو تین بار اپنی سیاحت کا مرکز بنایا۔اس سفر کے دوران چی گویرا کے مشاہدے میں جہاں بے پناہ اضافہ ہوا، وہیں جب وہ دیہاتوں، چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں سے گزرا، تو وہاں کے رہنے والے باشندوں کی حالت زار، غربت اور بھوک اور بیماریوں نے اس کی آنکھیں کھول دیں، وہ غریبوں کے لیے بہت حساس دل رکھتا تھا، اپنے سفری مشاہدے سے وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ امریکی سامراج کی آشیر باد سے تقریباً تمام جنوبی امریکی ریاستیں اس وقت کٹھ پتلی حکمرانوں کے زیر تسلط ہیں۔ چی گویرا جانتا تھا کہ ان کی تسلط سے اس خطے کو آزاد کرانے کے لیے اسے اپنا میڈیکل پروفیشن چھوڑ کر انقلاب کی راہ اپنانی پڑے گی۔
چی گویرا نے مسلح جدوجہد کی ابتدا گواتیمالا سے کی، جہاں کے صدر گزمین کے خلاف امریکن سی آئی اے نے سازش کرکے ایک کٹھ پتلی حکمران بٹھا دیا تھا۔ چی نے مقامی کیمونسٹ گروپوں کے ساتھ ملکر چھاپہ مار کارروائیاں شروع کیں مگر بالاآخر اسے بھی اپنے سفارت خانے میں پناہ طلب کرنی پڑی۔اس کے بعد چی گویرا 1954ء میں میکسیکو چلا گیا، وہاں ایک سال تک جنرل ہسپتال میں الرجی کا شعبہ سنبھالنے کے بعد 1955ء میں اس کی ملاقات کیوبا کے نئے ابھرتے انقلابی لیڈر فیدل کاسترو سے ہوئی۔ اس ملاقات کو اگر چی گویرا کی زندگی کا نقطہ آغاز کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، دونوں نے متضاد شخصیت ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو کافی متاثر کیا اور چی گویرا نے فیدل کاسترو کی تحریک میں شمولیت اختیار کرلی۔ دونوں کا نشانہ امریکی نواز کیوبن حکمران باتستا تھا، جو ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا تھا۔
چی گویرا جیسے انقلابیوں کی چار سالہ جدوجہد کی بدولت 1959ء میں کٹھ پتلی حکمران ملک چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گیا۔ انقلابیوں کی حکومت آئی تو انھیں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، چی گویرا کو صنعت اور خزانے کی وزارتیں دیں گئیں، مگر انقلابی جدوجہد کے مقابلے میں اصلاحات کا کام نہایت دشوار ثابت ہوا، خصوصاً جب امریکا ان کے گرد گھیرا تنگ کر رہا تھا اور طرح طرح کی معاشی پابندیاں عائد کر رہا تھا،اس دوران چی نے کافی کوشش کی، کئی ملکوں کے دورے کیے اور بڑے بڑے جاگیرداروں سے زمینیں چھین کر غریبوں میں تقسیم کیں مگر ان اصلاحات کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکل سکے اور اسے پس پردہ جانا پڑا۔ یہی وہ وقت تھا جب اس کے اندر کے انقلابی باغی نے سراٹھایا اور اس نے اپنی اگلی منزل کے طور پر کانگو کا انتخاب کیا، جہاں ایک اور امریکی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف تحریک چلنے لگی تھی۔چی گویرا 1965ء کی شروعات میں جمہوری جمہوریہ کانگو پہنچا مگر عوام کی عدم دلچسپی اورامریکی سی آئی اے کی کارروائیوں کی وجہ سے وہ تقریباً سات مہینے بعد کانگو سے نکل گیا۔ 1966 کے اواخر میں چی نے اگلی سرگرمی کے لیے بولیویا کا انتخاب کیا، جہاں ایک اور امریکن نواز حکومت عوام کا خون چوس رہی تھی۔چی نے ایک پہاڑی علاقے سے تقریباً 50 ساتھیوں کی مدد سے تحریک شروع کی، ابتدا میں اسے چند بڑی کامیابیاں ملیں اور کئی جھڑپوں میں بولیوین آرمی کو شدید نقصان پہنچایا۔مگریہاں بھی عوامی حمایت نہ ہونے کے برابر تھی بلکہ یہاں تو عوام میں سے ہی اکثر حکومت کے مخبر تھے۔ چی کو بولیوین آرمی کے ساتھ ساتھ امریکن کمانڈوز کا بھی مقابلہ کرنا پڑا، اس کے علاوہ سب سے بڑا دھچکا اسے یہ پہنچا کہ کیوبا کے ساتھ اس کا ریڈیو رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
7 اکتوبر، 1967ء کی صبح ایک مقامی مخبر نے دشمن کو قریبی فوجی اڈے پر چی گویرا اور اس کے ساتھیوں کے ٹھکانے کی اطلاع دی، جس پر فوج حرکت میں آگئی،امریکن سی آئی اے جو کانگو سے اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی تھی،اس آپریشن میں بولیوین افواج کی بھرپور مدد کر رہی تھی۔ پھر پلان بنا کر چی اور اس کے ساتھیوں کے گرد پہاڑیوں میں گھیرا تنگ کیا گیا۔تقریباً 1800 فوجیوں نے اس مشن میں حصہ لیا۔ سی آئی اے انھیں گائیڈ کر رہی تھی، چی اور اس کے ساتھیوں نے اگرچہ مقابلہ کیا، مگر وہ مٹھی بھر تھے، جلد ہی مارے گئے، چی گوئرا زخمی ہوا اور گرفتار کر لیا گیا۔ پھر اسے پوچھ تاچھ کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر لیا گیا۔ جہاں کوشش کی گئی کہ وہ لب کھولے اور اپنے منصوبے اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں ہے سب اگل دے۔ مگر چی گویرا ثابت قدم رھا اور لب سی لیے۔ جب دو دن تک شدید جسمانی تشدد کے بعد بھی سی آئی اے کو کچھ حاصل نہ ہوا، تو صدر نے کسی ممکنہ پریشر سے بچنے کے لیے اس کی فوری موت کا حکم صادر کر دیا۔صدارتی حکم کی تکمیل کی گئی اور اسی شام اسے ایک شرابی جلاد کے حوالے کیا گیا، جو جنگ میں اپنے تین ساتھی کھوچکا تھا اور چی کو ان کی موت کا ذمہ دار سمجھ رہا تھا۔ جب وہ چی گویرا کے سامنے پہنچا تو چی نے اسے اکسایا، وہ ایک آسان موت کی توقع کر رہا تھا، مگر شرابی جلاد نے پلان کے مطابق آڑی ترچھی 9 گولیاں برسائیں اور چی گویرا کو بڑی اذیت ناک موت سے دوچار کیا۔ان کا منصوبہ یہ تھا کہ چی کو واپس اسی مقام پر پھینک کر بعد میں اعلان کیا جائے کہ وہ مقابلے میں مارا گیا، تاکہ اس طرح ٹرائل نہ کرنے کے الزام سے بچا جاسکے تاہم جلد ہی پوری دنیا حقیقت کو جان گئی کہ ایک انقلابی کو کس طرح بیدردی سے قتل کیا گیا۔
چی گویرا رگبی اور شطرنج کا کھلاڑی، دمے کا مریض، ڈاکٹر، فوٹوگرافر، موٹر بائیک رائیڈر، شاعر، گوریلا کمانڈر، باپ، شوہر، ڈائری نویس، ادیب اور انقلابی اور نہ جانےکیا کچھ تھا۔چی گویرا مرنے کے بعد اس طرح زندہ ہوا کہ 1968 میں طلبا کی عالمی تحریک کے دوران چی کی وہ تصویر جو فوٹو گرافر البرٹو کورڈا نے 1960 میں کھینچی تھی لاکھوں ٹی شرٹس اور پوسٹرز پر چھپ گئی۔اور وھاں سے ہوتی ہوئی پرچم، کافی کے مگ اور بیس بال کیپ پر پرنٹ ہوکر ملٹی ملین ڈالر صنعت میں تبدیل ہوگئی ہے اور اب دنیا میں جہاں بھی انقلاب کی بات ہوتی ہے تو چی گویرا کا تذکرہ ضرور ہوتا ہے۔
