طالبان کی سوات آپریشن کی صورت میں جوابی کارروائی کی دھمکی

تحریک طالبان پاکستان نے قومی اداروں کو کھلم کھلا دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کیخلاف سوات میں فوجی آپریشن کیا گیا ماضی کی طرح اسکا بھرپور جواب دینے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ ٹی ٹی پی نے سوشل میڈیا پر جاری اعلامیے میں کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان ایک جہادی تحریک ہے جسے پاکستانی علماء کی قیادت اور نگرانی حاصل ہے اور اس نے ہمیشہ بامقصد اور بامعنی مذاکرات پر یقین رکھا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ رواں مذاکراتی عمل کو بچانے اور کامیاب کرانے کیلئے نہایت صبر وتحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے ساتھیوں کو گرفتار اور شہید کیا جا رہا ہے۔
تحریک طالبان نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں اس مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جائے تاکہ کوئی کامیابی کی صورت سامنے آئے۔ وگرنہ ہم گلگت سے لے کر کراچی تک اور بولان سے لے کر چترال تک ہونے والی خلاف ورزیوں کا بھرپور جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ دھمکی آمیز بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اس بات کو واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے مجاہدین نے کبھی اپنے علاقوں سے مکمل انخلا نہیں کیا۔ بلکہ وزیرستان سے لے کر سوات تک کسی نہ کسی شکل میں اپنا وجود برقرار رکھا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سوات میں طالبان کی آمد اور اس حوالے سے جعلی ویڈیوز کو ہوا دے کر عوام میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سوات سے کبھی مکمل طور پر گئے ہی نہیں تھے بلکہ گذشتہ 12 سالوں سے کسی نہ کسی شکل میں وہاں موجود ہیں۔
ٹی ٹی پی نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمارے مجاہدین کو شہید کرنے کی خبریں کیوں میڈیا میں آتیں۔ ہم یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہماری افرادی قوت میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ملک دشمن سیکولر لابی کا یہ پراپگینڈہ غلط ہے کہ ہمیں پاکستان واپس لایا جا رہا ہے۔ ہم تو کبھی کہیں گے ہی نہیں تے، بلکہ یہیں پر موجود ہیں۔ ہم ہی پاکستان کے اصل مالک اور شہری ہیں اور ہم اپنے ملک واپس آنے کے لیے کسی کے محتاج نہیں۔ اسکے بعد طالبان کی جانب سے کھلم کھلا دھمکی دی گئی کہ اگر سوات میں ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی آپریشن کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم بھر پور جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ سوات میں پاکستانی طالبان کی واپسی کی خبروں کے بعد وہاں پولیس اور فوج کے دستے تعینات کردیئے گئے ہیں اور داخلی اور خارجی راستوں پر چیک پوسٹس بنا دی گئی ہیں۔ پاکستانی حکام ایسا کرنے پر تب مجبور ہوئے جب مقامی افراد نے اکٹھے ہو کر سڑکوں پر احتجاج شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ سوات واپس آ کر پر امن مکینوں کو دھمکانے اور بھتہ مانگنے والے طالبان کو فوری طور پر بے دخل کیا جائے۔ سوات میں خوف و ہراس کی فضا میں تب اضافہ ہو گیا تھا جب حال ہی میں سوات میں متحرک ہونے والے طالبان نے مٹہ پولیس تھانے کے ڈی ایس پی اور دو فوجی جوانوں کو اغوا کر کے یرغمال بنایا تھا۔ بعد ازاں جرگے کے ذریعے مذاکرات کے بعد تینوں کو رہا کروایا جا سکا تھا۔ الیکشن اس سے پہلے پولیس ڈی ایس پی کو ٹانگ پر گولی مار دی گئی تھی۔
معروف صحافی اور جرگہ پروگرام کے میزبان سلیم صافی کہتے ہیں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ سوات اور خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر عسکریت پسندوں نے واپسی کی ہے اور اس کی تصدیق خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری طور پر کی ہے اور بیرسٹر سیف نے بھی۔ وہ کہتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کی تعداد کم بتائی جا رہی ہے لیکن وہ وہاں موجود ہیں اور خطرہ موجود ہے اس لئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان ایک مہینے سے سوات نہیں گئے۔ صافی جے کہا کہ سوات سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت کے ایک ممبر صوبائی اسمبلی نے دھمکی آمیز ٹیلی فون کالز کے بعد اپنے خاندان کو سوات سے اسلام آباد منتقل کر دیا ہے جب کہ دیر میں پی ٹی آئی ایم پی لیاقت پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے بھتہ دینے سے انکار کیا تھا۔
سلیم صافی کے مطابق ہم جب یہ آواز بلند کرتے تھے کہ تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان ایک نظریے اور سوچ کی دو تنظیمیں ہیں تو ہم پر دباؤ ڈالا گیا اور دفاعی امور کے دانشور اور دیگر ادارے یہی کہتے تھے کہ ایسا نہیں ہے۔ لیکن آپ نے دیکھ لیا کہ جب طالبان کابل میں برسراقتدار آئے تو ٹی ٹی پی کو شاہی مہمان بنا دیا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ ریاست کی غلط پالیسی یہی رہی کہ اس نے افغان طالبان کے ساتھ سفارتکاری کی بجائے سیدھا ٹی ٹی پی کے ساتھ مذکرات شروع کیے اور قوم کو اعتماد میں لیے بغیر اُن سے وعدے کر کے ان کو پاکستان وآپس آنے دیا جس کے بعد خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں خصوصا سوات اور مٹہ میں طالبان دوبارہ سے کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سوات امن کمیٹی کے ایک سابق اہلکار نے بتایا کہ طالبان سوات سے کہیں نہیں گئے تھے۔ ان کے مراکز ختم ہوئے تھے۔ لیکن وہ کم تعداد میں یہاں موجود تھے اور وقفے وقفے سے امن کمیٹی کے سابق رضاکاروں اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو مارتے رہے لیکن جب سے انتظامات ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے حوالے کیے گئے ہیں تو حالات مزید خراب ہو گئے ہیں اور اب ایسا لگتا ہے کہ حالات پولیس کے کنٹرول سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سکیورٹی اداروں کی جانب سے اطلاعات ملی ہیں کہ چھوٹے پیمانے پر سوات میں آپریشن شروع کیا جا رہا ہے مگر لوگوں کی نقل مکانی نہیں ہوگی اور نہ ہی 2007 جیسے حالات بنیں گے۔ یاد رہے کہ سوات میں 2007 میں حالات تیزی سے بگڑ گئے تھے اور امن و امان کی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ دس لاکھ کے لگ بھگ لوگوں نے سوات سے خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرف نقل مکانی کی تھی جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے 2009 کے آخر میں آپریشن راہ حق شروع کیا تھا۔ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا تھا کہ سوات طالبان سے محفوظ کر دیا گیا ہے اور اب وہاں حالات نارمل ہیں۔ لیکن سوات سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 2 ہزار کے لگ بھگ مسلح افراد جن کا تعلق ٹی ٹی پی سے ہے، سوات کی طرف واپس آ گئے ہیں جن کے بڑھتے ہوئے قدم رکھنا بہت ضروری ہے ورنہ دوبارہ ماضی جیسے ابتر حالات پیدا ہوجائیں گے۔
