کیا امریکی لابنگ فرم عمران کیلئے بائیڈن کو راضی کر لے گی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کی جانب سے ایک امریکی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرنے کا بنیادی مقصد اپنا رانجھا راضی کرنا ہے تاکہ امریکہ کے ساتھ معاملات بہتر کیے جا سکیں اور اب اسی لئے عمران خان امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے ساتھ خفیہ روابط بھی کر رہے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے کہ پی ٹی آئی نے امریکہ میں لابنگ کرنے کے لئے ایک فرم کی خدمات 25 ہزار ڈالرز ماہانہ کے عوض حاصل کی ہیں، یعنی لگ بھگ 60 لاکھ پاکستانی روپے کے مساوی۔ اردو زبان میں لابنگ کا سادہ مطلب کسی کا رانجھا راضی کرنا ہے اور عمران خان کے معاملے میں کسی سے مراد امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی انتظامیہ ہے جن پر عمران پچھلے چند ماہ سے الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کے میر جعفر اور میر صادق کی مدد سے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ لابنگ فرم خان صاحب کے لیے رانجھا کس طرح راضی کرے گی؟ بقول نصرت جاوید، امریکی فرم شاید سب سے پہلے صدر بائیڈن کو یہ بتائے گی کہ عمران خان نے ان کے بارے میں جو بیان دیئے ہیں، ان کا مطلب وہ نہیں تھا، جو وی سمجھے بلکہ کچھ اور تھا اور یہ کہ ان کی امریکہ مخالف مہم کو سیاق و سباق سے ہٹ کر ”مس رپورٹ“ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد درخواست کی جائے گی کہ پی ٹی آئی کا وہ ”سٹیٹس“ بحال کیا جائے جو صدر ٹرمپ کی حکومت میں اس حاصل تھا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں عمران خان کی تفصیلی ملاقات ہوئی تھی جس پر کپتان اتنے خوش تھے کہ پاکستان پہنچتے ہی فرمایا تھا مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے آج میں ایک اور ورلڈ کپ جیت لایا ہوں۔ ان کی وطن واپسی کے فوراً بعد معاملات میں بدلاؤ آیا جو پاک چین سی پیک اور گوادر پورٹ کے پراجیکٹس نگل گیا۔ اب شاید عمران خان ایک بار پھر ویسا ہی کوئی ورلڈ کپ جیت کر لانا چاہتے ہیں۔
نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ ویسے سنا تو یہ بھی ہے کہ جو بائیڈن کا ٹانکا پہلے ہی آصف زرداری اور ان کی پارٹی سے فٹ ہو چکا ہے، ایسے میں دیکھئے امریکی لابنگ فرم، محض 25 ہزار ڈالر کے خرچے سے خان صاحب کے لیے یہ ٹانکا ادھیڑ پاتی ہے یا نہیں۔ رہے پاکستان میں تحریک انصاف کے حامی تو وہ اس ”اباؤٹ ٹرن“ کو بھی خان صاحب کا ٹرمپ کارڈ قرار دیں گے اور داد دیتے نہیں تھکیں گے کہ دیکھا، ہمارے خان نے کیسے ٹرمپ کارڈ کھیلا اور ”حقیقی آزادی“ حاصل کر لی۔
اسی ٹرمپ کارڈ سے متعلق ایک خبر اور بھی گردش کر رہی ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی کی شیریں مزاری نے اسکی تردید کی ہے لیکن متعلقہ حلقے خبر کی صحت پر قائم ہیں اور امریکی سفارتی ذرائع نے بھی خبر کی تصدیق کچھ ان الفاظ میں کی ہے کہ ”ہم اس طرح کی نجی اور دوطرفہ بات چیت پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے”۔ خبر یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خاں نے عمران خان کی امریکی سفیر سے ویڈیو کال پر تفصیلی بات چیت کرائی ہے جس میں انہوں نے نے گلے شکوے کیے ہیں۔
بقول نصرت، سفارتی ذرائع سے یہ بھی سننے کو ملا کہ خاں صاحب نے اپنی نیاز مندی ظاہر کرتے ہوئے امریکی سفیر سے درخواست کی کہ وہ انہیں موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے کوئی کردار ادا کریں۔ صحافتی حلقے کہتے ہیں کہ بحران سے مراد فارن فنڈنگ کیس اور توشہ خانہ کیس والا بحران ہے۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ خان صاحب نے ”حقیقی آزادی“ کے حصول کے لئے امریکہ سے مدد مانگی ہو گی اور امریکہ سے شریک جہاد ہونے کی اپیل کی ہو گی۔جہاں تک حقیقی آزادی کا معاملہ ہے، تو خان صاحب نے 13 اگست کی رات لاہور میں ہاکی سٹیڈیم کی آسٹرو ٹرف اکھاڑ کر جلسہ کیا اور ایک مرتبہ پھر عوام کو حقیقی آزادی حاصل کرنے کا طریقہ بتایا۔ خان صاحب نے عوام کو بتایا کہ وہ امریکہ مخالف نہیں ہیں اور امریکہ سے دوستی چاہتے ہیں لیکن یہ دوستی غلامی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ عمران خان حالیہ مہینوں میں عوام کو حقیقی آزادی حاصل کرنے کا طریقہ چھ سات بار بتا چکے ہیں۔
ماضی میں جب عمران نے عوام کو حقیقی آزادی کا نسخہ بتانے کے لئے اپنے جلسوں میں بلایا تو وہ بڑی تعداد میں وہاں پہنچے۔ عوام ہر بار سڑکوں پر بھی آئے، کم سے کم کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں تو لوگ ڈھول بجاتے، اور رقص کرتے ہوئے حقیقی آزادی کے گیت گاتے ہوئے ضرور باہر نکلے۔ ہرچند لوگ لاکھوں میں نہیں تھے، ہزاروں میں تو بہرحال تھے۔ لیکن حقیقی آزادی نہیں مل پائی، الٹا الیکشن کمیشن کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے، توشہ خانہ کیس، سانحہ بلوچستان کے بعد کی سوشل میڈیا مہم اور شہباز گل پر غداری کیس کے اندراج نے حقیقی آزادی کے چاند کو گرہن پر گرہن لگا دیے ہیں اور اب عمران شدید پریشانی میں مبتلا ہو کر اپنی ممکنہ نااہلی کا رونا رو رہے ہیں۔
حقیقی آزادی سے یاد آیا، یہ پرانی ضرب المثل بصورت مصرعہ غلط ثابت ہوئی ہے کہ کنارے سے کبھی طوفان کا اندازہ نہیں ہوتا، یعنی طوفان کیا ہے، یہ جاننے کیلئے سمندر میں اترنا پڑتا ہے۔ اب یہ بات غلط یوں ثابت ہوئی کہ خان صاحب کو طوفان کا اندازہ ساڑھے تین سال اقتدار کے سمندر میں رہ کر نہیں ہوا اور تب جا کر ہوا جب سمندر نے انہیں اٹھا کر ساحل پر پٹخ دیا اور وہ اقتدار سے باہر ہوں گے۔
بقول نصرت جاوید، ساڑھے تین برس تک تو عمران خان کو علم ہی نہیں ہو سکا کہ پاکستان غلام ہے اور اسے حقیقی آزادی چاہیے۔ اس بات کا اندازہ خان صاحب کو اپنی ساحل پر ”لینڈنگ“ پر ہی ہوا۔ یعنی جیسے ہی وہ اقتدار سے محروم ہوئے، انہیں پتہ چلا کہ ہم تو حقیقی طور پر خبھی آزاد ہی نہیں تھے، چنانچہ انہوں نے آزادی کی خاطر جہاد شروع کر دیا۔ یہ اور بات کہ وہ امریکی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کی خاطر اب امریکی لابنگ فرم اور امریکی سفیر سے بھی مدد کی درخواست کر رہے ہیں۔

Back to top button