عامر لیاقت نے خودکشی کے لیے نیند کی 20 گولیاں کھائیں


معروف ٹی وی اینکر اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی پراسرار موت کی وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آ پائیں چونکہ ان کے خاندان نے ان کا پوسٹ مارٹم کروانے سے روک دیا ہے، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ ماضی میں ڈپریشن کی وجہ سے خود کشی کی ناکام کوشش کر چکے تھے۔ اپنی اچانک موت سے پہلے عامر شدید ڈپریشن کا شکار تھے اور دل شکستہ ہو چکے تھے اس لیے پولیس یہ جاننے کے لیے ان کا پوسٹ مارٹم کروانا چاہتی ہے کہ آیا انہوں نے خود کشی تو نہیں کی۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عامر نے ماضی میں نیند آور ٹیبلٹس کھا کر خودکشی کی کوشش کی تھی جس کے بعد انہیں آغا خان ہسپتال کراچی لے جا کر ان کا معدہ صاف کرکے ان کی جان بچائی گئی تھی۔ تب ڈاکٹرز نے بتایا تھا کہ انہوں نے نیند کے لیے استعمال کی جانے والی لیگزوٹنل کی 20 گولیاں کھا لی تھیں۔ ڈاکٹرز نے اُن کا معدہ صاف کر کے دوا کا اثر تو زائل کر دیا تھا مگر چونکہ اقدام خودکُشی پاکستانی قانون کے تحت جرم تھا لہٰذا پولیس کیس بن گیا تھا اور ظاہر ہے کہ ہسپتال کے ڈاکٹرز نے قانونی کارروائی کے لیے پولیس کو بلوا لیا تھا۔ تاہم تب انہیں چند صحافیوں کی مداخلت پر کسی قانونی کارروائی کے بغیر ہی ہسپتال سے نکال کر گھر پہنچا دیا تھا۔ لیکن اس مرتبہ جو کچھ بھی ہوا عامر لیاقت کی جان نہ بچائی جا سکی کیوں کہ انکے پاس خاندان کا کوئی فرد موجود نہیں تھا اور وہ اب اکیلے زندگی گزار رہے تھے۔

لندن میں قیام پذیر صحافی جعفر رضوی اپنے دوست اور ساتھی عامر لیاقت حسین کے حوالے سے ایک خصوصی تحریر میں بتاتے ہیں کہ اس روز عامر کو آغا خان ہسپتال سے نکالنے والا شخص میں تھا۔ لیکن انکا کہنا ہے کہ یہ پہلا یا آخری موقع نہیں تھا جب تنازعات سے پھر پور مگر ایک ’ایونٹ فُل لائف‘ گزارنے والے عامر لیاقت نے کوئی انہونی کی ہو۔ جعفر رضوی بتاتے ہیں کہ میں اور عامر 1980 کی دہائی سے دوست رہے تھے، تب سے جب وہ تعلیمی اداروں میں ہونے والے مباحثوں کے بڑے معروف اور نامور ڈیبیٹر ہوا کرتے تھے اور میں نیشنل سٹوڈینٹس فیڈریشن کراچی کا جنرل سیکرٹری اور صدر تھا۔ یہ تعلق دراصل مختلف تعلیمی اداروں کے درمیان بین الاضلاعی ’مباحثے‘ یا پھر ریڈیو پاکستان کی نشریات ’بزمِ طلبا‘ سے استوار ہوا تھا۔

تب ہم دونوں سکول کے طالبعلم تھے اور ایسے مباحثوں اور مقابلوں میں بھرپور شرکت کرتے تھے۔ میں سامع کی حیثیت سے اور وہ بڑے ’دبنگ ڈبیٹر‘ کی حیثیت سے۔ کوئی شک نہیں کہ وہ تب سے ہی واقعی ایک نامور اور مشّاق ’ڈبیٹر‘ تھے بلکہ ’مباحثے‘ کی اصطلاح میں ’پتّے باز‘ ڈبیٹر تھے۔ یہی شہرت انھیں تعلیمی اداروں سے سکول کے زمانے میں ہی ریڈیو تک لے گئی تھی جو اس وقت کا انتہائی طاقتور الیکٹرونک میڈیا تھا۔ آج اور اس زمانے کے بہت بڑے بڑے نام، بی بی سی اردو کے مشہور ترین ریڈیو پریزینٹر شفیع نقی جامعی ہوں یا آگے چل کر نواز شریف اور بے نظیر بھٹّو کے مشیر رہنے والے اور پھر امریکہ میں پاکستان کے سفیر مقرر ہونے والے حسین حقانی، ولی رضوی جیسے صحافی ہوں یا آئندہ زندگی میں ریڈیو ٹی وی کے ذریعے معروف ترین اور مشہور ترین میزبانوں میں سے ایک عامر لیاقت حسین، سب کے سب ’یاور بھائی کی پروڈکشن‘ کہلاتے رہے اور اس پر فخر بھی کرتے رہے۔

جعفر رضوی کے مطابق عامر لیاقت بھی ’یاور بھائی کی پروڈکشن‘ تھے اور کیوں نہ ہوتے۔ وہ شیخ لیاقت حسین اور بیگم محمودہ سلطانہ کے چھوٹے اور چہیتے فرزند تھے۔شیخ لیاقت حسین تب مہاجر قومی موومنٹ کہلانے والی پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما تھے۔ عامر کی والدہ بیگم محمودہ سلطانہ سندھ کے سب سے بڑے قوم پرست رہنما سمجھے جانے والے سائیں جی ایم سیّد کی منہ بولی بیٹی کہلاتی تھیں۔انکے بڑے بھائی عمران لیاقت بھی زبردست خطیب تھے اور مجالس عزا سے بھی خطاب کرتے رہے جبکہ والدین تو سیاسی و سماجی حلقوں میں نامی گرامی شخصیات تھیں۔ عمران بڑے اور عامر چھوٹے فرزند تھے مگر تھا سارے کا سارا گھرانا پورے شہر میں مشہور۔ ایسے گھرانے کے چشم و چراغ عامر لیاقت کو اپنا مقام بنانے سے کون روک سکتا تھا۔ وہ بھی تب جب ’ٹیلنٹ‘ کی بھی کوئی کمی نہیں تھی۔

عامر لیاقت کوئی عالم دین یا مذہبی سکالر تھا یا نہیں؟ ٹی وی پر رمضان ٹرانسمیشن میں آیات و تلاوت اور زبردست و متنازع مذہبی امور پر بحث و مباحثے کو اینکر کر کے اُسی ٹی وی پر ’ناگن ڈانس‘ کر سکتا تھا یا نہیں؟ اپنی نشریات میں شریک ایک سادہ لوح انسان سے ’آم کھائے گا؟‘ کا توہین آمیز سوال حقارت انگیزی سے پوچھ سکتا تھا یا نہیں؟ جعفر رضوی کہتے ہیں کہ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ ٹی وی پر جس عامر لیاقت کو دیکھ کر اُس کے ناظرین، خاص طور پر خواتین سمجھنے لگتی تھیں کہ آج تو رمضان کی اس بابرکت رات میں دعائیں قبول ہو ہی جائیں گی، بند کمرے میں اُسی عامر لیاقت کے ساتھ نشست کی جائے تو باون گز کی زبان کے ’کرشمے‘ سے کانوں سے دھواں نکلنے لگتا تھا۔ عجیب شخصیت تھا۔ شیعہ حلقے میں زبردست عزادار اور محب و مقلد اور امامت کا پیروکار بن جاتا تھا اور سُنّی حلقے میں خلافت کا مکمل مبلغ۔ ایسی ہی کوششوں سے کبھی ایک فرقہ ناراض ہو جاتا تھا تو کبھی دوسرا ،سوشل میڈیا پر اس کے خلاف مہم چلانے لگتا مگر کمال یہ تھا کہ چاہے وہ کسی بھی چینل پر ہو، کسی بھی فرقے کہ اکابرین اُس کی نشریات میں شرکت کو کبھی منع نہیں کر پاتے تھے۔

کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ عامر لیاقت پرنٹ میڈیا کے زمانے میں ’ایم کیو ایم کا اخبار‘ سمجھے جانے والے روزنامہ ’پرچم‘ کا صحافی تھا۔ شاید ملک کی تاریخ کا کم عمر ترین ایڈیٹر بھی رہا۔تنازعات اور عامر کا چولی دامن کا ساتھ رہا مگر اس نے زندگی سے بھرپور ایک ایونٹ فُل اور ڈرامائی زندگی گزاری جسکا اختتام بھی ڈرامائی انداز میں ہوا۔

Back to top button