عدالتی چیمبر میں لڑکی سے جنسی زیادتی، سول جج کے خلاف مقدمہ درج

صوبہ سندھ کے علاقے سیہون شریف میں عدالت میں انصاف مانگنے کے لیے آئی لڑکی سلمیٰ بروہی سےسول جج کی طرف سے عدالتی چیمبر میں مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے پر پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے÷
ایس ایچ او سیہون مظہر نائچ کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کیا گیاہے جس میں سول جج امتیاز بھٹو کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 376 (زیادتی) اور 506 (ہراساں) کے تحت سیہون تھانے میں درج کیا گیا ہے.
واضح رہے کہ21 جنوری کے روز ڈی ایس پی سیہون، بشیر کونہارو نے لاڑکانہ کے دارالامان میں لڑکی سلمیٰ بروہی کا بیان ریکارڈ کرکے رپورٹ اعلی حکام کے حوالے کی تھی، جس کے بعد واقعے کا مقدمہ درج کرنے کے احکامات ملے اور پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔
خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے سیہون میں تعینات جوڈیشل مجسٹریٹ امتیاز بھٹوکی جانب سے مبینہ طور پر شکایت گزار خاتون کی جانب سے لگائے گئے ریپ کے الزامات کے تحت سول جج کو معطل کردیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جوڈیشل مجسٹریٹ کو معطل کر کے فوری طور پر ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ گھر چھوڑ کر پسند کی شادی کے خواہشمند جوڑے کو پولیس نے 13 جنوری کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ سیہون پولیس میں شکایت درج کرانے والی لڑکی کو مجسٹریٹ نے اپنے چیمبر میں بلا کر وہاں موجود تمام اسٹاف اور خواتین پولیس اہلکاروں کو یہ کہہ کر عدالت سے باہر نکال دیا گیا کہ لڑکی کا بیان لینا ہے۔
جج نے لڑکی سے استفسار کیا کہ کیا وہ والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے یا شوہر کے ساتھ؟ جس پر لڑکی نے شوہر کے ساتھ جانے پر حامی بھری۔ رپورٹ کے مطابق جج نے خوف میں مبتلا لڑکی کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے چیمبر میں لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کردی۔ متاثرہ لڑکی کی شکایت پر سیہون پولیس نے لڑکی کا عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ میں میڈیکل کرایا جہاں لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی.
بعدازاں سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں جامشورو کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے معاملے کی ابتدائی تحقیقات کیں اور اس بارے میں ہائی کورٹ کو رپورٹ کیا۔
