گندم کا بحران، لاہور ہائیکورٹ کی حکومت سے جواب طلبی

ملک میں جاری آٹے کے بحران پر لاہور ہائیکورٹ نے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ بتایا جائے کہ آٹے کا بحران کیسے اورکس نےپیداکیا اور اس میں کون سے عناصر ملوث ہیں دوسری طرف آٹے کے بحران پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹے کا بحران ان افراد کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو لوٹ مار کے عادی ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے آٹا مہنگا ہونے کے خلاف درخواست پر سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری فوڈ اور ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک کو طلب کرلیا ہے.چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مامون رشید شیخ نے آٹے اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کونوٹس جاری کرکے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ آگاہ کیاجائے بحران کیسے پیداہوااورکس نےپیداکیا. عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری فوڈ پنجاب اور ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک کو بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔
درخوست گزار اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ حکومت نے چار لاکھ میٹرک ٹن گندم ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی، گندم 29روپے فی کلو کے حساب سے برآمد کی گئی اوراس پر بھاری ریبیٹ بھی دیا گیا جبکہ اب زیادہ قیمت پر گندم درآمد کی جا رہی ہے.
دوسری طرف چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ نے صوبے میں گندم کے بحران شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ لوٹ مار کی عادی لوگوں کی وجہ سے آٹے کا بحران پیدا ہوتا ہے ایسے لوگ ہی بڑی شخصیات کی ایما پربحران کا فائدہ اٹھاتے ہیں. اس حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے ملزم ہریش مل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اب پیٹ بھرا کہ نہیں؟ شکل کو سامنے لاؤ، ایسے لوگ ہی بڑی شخصیات کی ایما پر بحران کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سندھ کے مختلف اضلاع سے گندم چوری کا ریفرنس دائر کردیا ہے تاہم ملزمان نے گوداموں سے گندم چوری کرکے مارکیٹ میں فروخت کردی تھی۔ بعدازاں ملزم انیس الرحمان، موہن لعل، ابراہیم تھیم اور دیگر کی درخواست ضمانت کا معاملہ سکھر بینچ کو منتقل کردیا گیا۔
دوسری طرف ملک میں گندم بحران کے اسباب جاننے کیلئے ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، سپیشل ٹیم بحران میں ملوث مافیا اور ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے خصوصی ٹیم کے سربراہ مقرر جبکہ 2 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور دیگر عملہ بھی ٹیم کا حصہ ہوگا۔ ذرائع کے مطابق خصوصی ٹیم گندم اور آٹے کے بحران میں ملوث مافیا اور ذمہ داروں کی نشاندہی کرے گی، بحران میں ملوث سرکاری ملازمین اور حکومتی شخصیات بھی بے نقاب ہوں گی۔ فلور ملز مالکان نے کتنی گندم خریدی، کتنا آٹا بنایا، گندم کی مجموعی پیداوار کتنی ہوئی، اوپن مارکیٹ سے گندم کن کن افراد نے خریدی، تمام معاملات کی رپورٹ تیار کر کے اعلیٰ حکام کو بھجوائی جائے گی۔ ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم رپورٹ میں گندم اور آٹے کے بحران پر فوری قابو پانے کے لیے تجاویز بھی دے گی۔
