پاکستانی سیاست میں آنے والے کھلاڑی اور فنکارکون؟

پاکستان میں کھیل اور شوبز سے تعلق رکھنے والی بہت سی شخصیات نے سیاست میں قدم رکھا جن میں سے کچھ کامیاب ہوئے لیکن اکثریت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
80سے 90 کی دہائی کے دوران پاکستانی کرکٹ میں ہیرو کی حیثیت رکھنے والے عمران خان اپنے دور کے بہترین آل راونڈ کرکٹر رہے اورسنہ 92 میں کرکٹ ورلڈ کپ جتوانے کا سہرا بھی انہی کے سر جاتا ہے، تاہم کرکٹ کیرئیر کے اختتام کے بعد جس کام نے ان کو عوام میں مزید مقبول کیا وہ ان کا سیاست میں قدم رکھنا تھا، عمران کیلئے شروعات میں پاکستانی سیاست میں دیگر منجھے ہوئے سیاستدانوں کامقابلہ آسان نہ تھا لیکن عمران خان نے ہمت نہ ہاری اوراس وقت ملک کے 22 ویں وزیر اعظم بن چکے ہیں، تاہم ان کے ناقدین کا ماننا ہے کہ عمران خان کی اس بڑی کامیابی کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کی سیڑھی تھی جس نے انہیں وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان کر دیا لیکن اس کے باوجود عمران خان کی 24 سے 25 سال کی سیاسی تگ و دو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی ہی جماعت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ابرار الحق بھی پاکستانی سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے شوبز انڈسٹری میں معروف گلوکار کے طور پر اپنے آپ کو منوا چکے ہیں اور انکی وجہ شہرت مزاح سے بھرپور پنجابی گلوکاری بنی۔ پی ٹی آئی کی طرف سے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کے بعد ابرار الحق نے نارووال سے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما احسن اقبال کیخلاف الیکشن لڑےلیکن انہیں اب تک کامیابی نہیں مل پائی اور ان کا ایوان میں پہنچنے کا خواب تاحال ادھورا ہے لیکن حال ہی میں چئیر مین ہلال احمر کی کرسی پر ضرور براجمان ہو چکے ہیں جبکہ اپنے سیاسی قائد عمران خان کی طرح ابرار الحق بھی ایک ہسپتال سہارا ٹرسٹ کے نام سے چلا رہے ہیں۔
طارق عزیز پاکستان ٹیلی ویژن کے مایہ ناز ناموں میں سے ایک ہیں اور کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ سنہ 1975 میں ان کے سٹیج شو نیلام گھر نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا، بعدا زاں اس شو کو بزمِ طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔سنہ 1997 میں طارق عزیز نے سیاست میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا اور یہاں بھی کامیابی نے ان کے قدم چومے اور وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو ئے۔
متعدد پشتوں فلموں میں کام کرکے خود کو اداکارہ کے طور پر منوانے والی مسرت شاہین کو لوگ آج بھی بطور اداکارہ ہی جانتے ہیں، شاید اسی وجہ سے ہی وہ سیاست میں تاحال کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ مسرت شاہین نے 2000 کے بعد سیاست میں آتے ہوئے پاکستان تحریک مساوات کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنائی۔اگرچہ وہ سیاست میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کر پائیں، مگر وہ ہر انتخابات میں معروف مذہبی سیاستدان اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے مد مقابل ہوتی ہیں، جس وجہ سے وہ ہمیشہ خبروں میں رہی ہیں۔
حال ہی میں شوبز انڈسٹری کو خیرآباد کہنے والے نوجوان اداکار حمزہ علی عباسی نے جہاں بطور ڈارمہ اور فلم ایکٹر کام کیا، وہیں وہ پاکستان تحریک انصاف کے اہم رکن کے طور پر بھی سرگرم رہے ۔حمزہ علی عباسی سوشل میڈیا پر اہم سیاسی موضوعات پر بحث کرنے سمیت تحریک انصاف کی حمایت میں ہمیشہ سامنے آتے رہتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی لاہور سے رکن اسمبلی رہنے والی کنول نعمان کو بھی لوگ سیاستدان کے بجائے اداکارہ کے طور پر زیادہ جانتے ہیں۔ لگ بھگ 20 سال تک شوبز انڈسٹری تک متعدد ڈراموں اور فلموں میں کام کرنے والی کنول نعمان سیاست میں آںے سے قبل ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے بھی متحرک رہیں۔کنول نعمان 2013 کے انتخابات میں پی ایم ایل این کی جانب سے مخصوص نشست پر پنجاب کی رکن اسمبلی منتخب ہوئیں۔
23جولائی 1975 کو کراچی میں پیدا ہونیوالی شرمیلا فاروقی پاکستانی سیاست کا ایک خوبصورت چہرہ ہے اور اسی خوبصورتی کے باعث وہ شوبز میں بھی اپنے فن کے جوہر دکھاتی رہی ہیں. سیاست میں آنے سے قبل وہ اعجاز اسلم ، طلعت حسین ، عبداللہ کڈوانی اور گلاب چانڈیو جیسے فنکاروں کے ساتھ ڈرامہ سیریل "پنچوا معصوم” میں نظر آئیں۔اس وقت شرمیلا فاروقی پاکستان پپپلز پارٹی سے منسلک ہیں جبکہ 2008 سے 2011 تک رکن قومی اسمبلی رہ چکی ہیں.
جواد احمد بھی پاکستان کے مشہور گلوکار ہیں۔تاہم گلوکاری کے بعد انہوں نے پاکستانی عوام کی خدمت کے لیے سیاست میں آنے کا انتخاب کیا اور برابری پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی۔ وہ صدر پاکستان مسلم لیگ شہباز شریف اورچیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے مقابلے میں سامنے آئے لیکن لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام رہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button