عمران خان دوبارہ الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہو گئے

قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے فوراً بعد تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہوئے اور کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو خفیہ ایجنسیوں سے سیکرٹ بریفنگ لینی چاہئے تا کہ انہیں پتا چل سکے کہ سینیٹ الیکش میں کتنا پیسہ چلا۔ لیکن خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے اقتدار میں آنے اور پھر ان کے اشاروں پر چلنے والے عمران خان شاید یہ بھول گئے کہ جن لوگوں نے سینٹ الیکشن میں انکے دعوے کے مطابق پیسہ وصول کیا، 6 مارچ کے روز وزیراعظم نے انہی لوگوں سے اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کیا۔ خیال رہے کہ 3 مارچ کو یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں حفیظ شیخ کی شکست کے بعد عمران خان بطور وزیراعظم قومی اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھے تھے جسے حاصل کرنے کے لیے انہوں نے فوری طور پر 4 مارچ کو آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف سے ملاقات کی اور پھر 6 مارچ انہوں نے اعتماد۔کا ووٹ بھی حاصل کر لیا۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں یوسف رضا گیلانی کی جیت کے بعد وزیراعظم عمران خان نے شدید غصے میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے 16 اراکین قومی اسمبلی نے ضمیر فروشی کی اور اپوزیشن کے ساتھ مل گئے جس کی ساری ذمہ داری الیکشن کمیشن پر آتی ہے جس نے سپریم کورٹ کی رائے کے باوجود خود خفیہ الیکشن کروائے۔ عمران نے یہ بھی کہا کہ اب اگر میں ان اراکین اسمبلی کے خلاف ایکشن لینا چاہوں تو مجھے ان کی شناخت کیسے پتہ کرے چلی گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم کو انکی خفیہ ایجنسیاں پی ٹی آئی کے 16 باغی ارکان اسمبلی کے بارے میں بتا چکی تھیں لیکن عمران نے ان کے خلاف ایکشن لینے کی بجائے ان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ورنہ ان کی وزارت عظمی ختم ہوجاتی ہے۔ لہذا اخلاقی طور پر نہ تو وزیراعظم کا الیکشن کمشنر کو یہ مشورہ دینا بنتا ہے کہ وہ ضمیر فروش اراکین اسمبلی کے بارے میں ایجنسیوں سے بریفنگ لیں اور نہ ہی ان کے اعتماد کے ووٹ کی کوئی اخلاقی حیثیت بنتی ہے۔
اس صورتحال میں عمران کے ناقدین کا کہنا یے کہ دوسروں کو اخلاقیات، اصولوں اور ایمانداری کے بھاشن دینے کی بجائے بہتر ہے کہ عمران خان خاموشی اختیار کریں اور اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈالنے کی بجائے اپنی صفوں کو درست کریں۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جو سینیٹ کے الیکشن ہوئے ہیں،،، انہیں دیکھ کت مجھے شرم آتی ہے سپیکر صاحب،، بکرا منڈی بنی ہوئی تھی،، اور ہمیں ایک مہینے سے پتا تھا،، لیکن الیکشن کمیشن کا۔کہنا یے کہ ہم نے بڑا اچھا الیکشن کرایا ہے،،، اس سے مجھے اور صدمہ ہوا،، اگر آپ نے یہ الیکشن اچھا کرایا ہے تو پھر پتا نہیں کہ برا الیکشن کیسا ہوتا ہے۔‘ اسکے بعد عمران خان نے الیکشن کمیشن کو مشورہ دیا کہ وہ خفیہ ایجنسیوں سے بریفنگ حاصل کریں تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ سینیٹ الیکشن میں کتنا پیسہ چلا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی عمران الیکشن کمیشن پر شدید تنقید کرچکے ہیں اور یہ الزام لگا چکے ہیں کہ اس نے سیاست میں کرپشن کو فروغ دیا۔ تاہم چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان نے نے عمران کے الزامات پر کرارا جواب دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انہیں آئینی اداروں پر کیچڑ اچھالنے سے گریز کرنا چاہیے اور خود میں شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔
6 مارچ کو اعتماد کا نام نہاد ووٹ حاصل کرنے کے بعد عمران نے الیکشن کمیشن کے علاوہ، اپوزیشن رہنماؤں اور نو منتخب سینیٹر یوسف رضا گیلانی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ آصف زرداری جو دنیا بھر میں کرپٹ ثابت ہو چکا ہے، اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک زرداری سب پر بھاری۔۔ دوسری طرف نواز شریف جو ملک لوٹ کر اور جھوٹ بول کر باہر بھاگا ہوا ہے، آج وہاں تقریریں کر رہا ہے اور سکیمیں بنا رہا ہے کہ اس کو اتنا پیسہ دو ادھر اتنا پیسہ چلاؤ۔ یہ سب ڈاکو اکٹھا ہو کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جس طرح پرویز مشرف نے ڈر کر این آر او دیا تھا، اس طرح میں بھی ان کو این آر او دے دوں۔ لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ عمران خان نے کہا کہ وہ یوسف رضا گیلانی جس نے ملک سے باہر ملک کا 60 ملین ڈالر لانے کے لے خط لکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ اور وہ اب وہ ایسے پھر رہا ہے جیسے نیلسن مینڈیلا ڈس کوالیفائی ہو گیا ہو۔
دوسری جانب عمران خان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ایک سرٹیفائیڈ بد کردار عمران خان کس منہ سے ان لوگوں پر کیچڑ اچھال رہا ہے جنہیں اس ملک کے عوام نے بار بار منتخب کیا ہے۔ اسے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ کیا وہ آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا اترتا ہے۔
