ملا عمر نے بامیان میں گوتم بدھ کے مجسمے کیوں تڑوائے؟


2001 میں طالبان کے دور اقتدار میں جب ملا عمر نے بامیان میں موجود بدھ مت مذہب کے بانی گوتم بدھ کے مجسموں کو مسمار کرنے کا حکم دیا تو پاکستان سمیت عالمی برادری نے ملا عمر کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ عالمی برادری کا موقف تھا کہ افغانستان کے مسلم حکمران محمود غزنوی، احمد شاہ ابدالی اور شہاب الدین غوری نے بھی بامیان میں گوتم بدھ کے مجسموں کو مسمار نہیں کیا تھا اس لیے انہیں بھی دوسرے مذاہب کا احترام کرتے ہوئے انہیں مسمار نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم ملا عمر کا کہنا تھا کہ ماضی کے ان مسلمان حکمرانوں کے پاس دھماکہ خیز مواد نہیں ہوتا تھا اس لیے انہوں نے انہیں بخش دیا تھا۔
چنانچہ 20 سال قبل مارچ 2001 میں طالبان نے بامیان میں واقع دنیا کے سب سے بلند ترین گوتم بدھ کے مجسموں کو بارود سے اڑا دیا تھا۔ بامیان کے مجسموں کو مسمار کرنے کا سلسلہ 2 مارچ 2001 سے شروع ہوا اور کئی ہفتے تک جاری رہا۔ پہلے ان پر اینٹی ایئر کرافٹ گن سے فائر کیے گئے، پھر ان پر ٹینک کے گولے داغے گئے۔ طالبان کے وزیر اطلاعات قدرت اللہ جمال کا کہنا تھا کہ یہ کام اتنا آسان نہیں، ان مجسموں کو صرف گولا باری سے نہیں گرایا جایا سکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ چٹانوں سے جڑے ہوئے تھے اور طالبان کو ان کے نچلے حصے میں اینٹی ٹینک سرنگیں رکھ کر انہیں کمزور کرنا پڑا، جس کے بعد ان پر توپیں چلائی گئیں۔ پھر مجسموں کے چہرے میں سوراخ کر کے ان میں بارود بھر کر تباہ کیا گیا۔
یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے امیر ملا عمر نے فروری 2001 میں گوتم بدھ کے مجسموں کو مسمار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت او آئی سی کی تمام اراکین نے اس اعلان کی مذمت کی اور پاکستان نے اس حوالے سے طالبان سے مذاکرات بھی کیے۔
افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر سید ابرار حسین نے اپنے تجربات، مشاہدات اور ملاقاتوں پر مشتمل کتاب ’ملا عمر سے اشرف غنی تک‘ میں لکھتے ہیں کہ 2001 کا موسم بہار تھا اور پاکستان میں جنرل مشرف کی حکومت کو آئے ہوئے ڈیڑھ سال بھی پورا نہیں ہوا تھا۔ طالبان نے بامیان میں گوتم بدھ کے مجمسے توڑنے کا اعلان کیا تھا اور بین الاقوامی طور پر یہ مسئلہ کافی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ قندھار میں وفاقی وزیر داخلہ معین الدین حیدر اور ملا عمر کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے وہ مزید لکھتے ہیں کہ معین الدین حیدر نے ملا عمر کو اسلامی تاریخ کے حوالوں کے ساتھ کہا کہ سلطان محمود غزنوی جیسے بت شکن بادشاہ نے بھی بامیان کے مجسموں کو چھوڑ دیا۔ اسی طرح غوری، ابدالی وغیرہ نے بھی ان مجسموں کو کچھ نہ کہا۔ تو یقینا کوئی نہ کوئی حکمت عملی تھی جس نے 1400 سال تک مسلمان حکمرانوں کو بامیان کے مجسمے توڑنے سے باز رکھا۔ ملا عمر نے معین الدین حیدر کو جواب دیا کہ محمود غزنوی یا دوسرے مسلمان حکمرانوں کے ان مجسموں کو مسمار نہ کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں سوائے اس کہ یہ بہت مضبوط ہیں اور انہیں ڈائنا مائٹ کے بغیر زمین بوس کرنا مشکل ہوتا۔
معین الدین حیدر نے ملا عمر کو بین الاقوامی دباؤ سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ طالبان کے حالیہ فتوے سے مسلم ملکوں سمیت بہت سی اقوام کا رد عمل سامنے آیا ہے اور سب کا یہ خیال ہے کہ موجودہ وقت میں ایسا فتویٰ آنا نہیں چاہیے تھا۔ ایسے وقت میں جب اسلامی امارات یعنی طالبان حکومت کو دوسرے ممالک کی اشد ضرورت ہے ایسا اقدام مناسب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بدھا کے مجسمے توڑنے کا فیصلہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے اثرات افغانستان تک محدود نہیں رہیں گے اور یہ ساری دنیا کو متاثر کرے گا خاص طور پر جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ واضح رہے کہ دنیا میں کروڑوں بودھ چین، جاپان، سری لنکا، تھائی لینڈ برما اور دوسرے ملکوں میں آباد ہیں۔
معین الدین حیدر نے ملا عمر کو یہ بھی بتایا کہ یونیسکو کی تجویز ہے کہ وہ ان مجسموں کو باہر منتقل کر لیں گے اور بصورت دیگر ان کے سامنے دیوار کھڑی کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرار داد منظور کی ہے کہ ان مجسموں کو توڑنے کا فیصلہ ملتوی کر دیا جائے۔ تاہم ملا عمر نے اپنی مختصر گفتگو میں معین الدین حیدر کو آگاہ کیا کہ مجسمے توڑنے کا فتویٰ قومی سطح کے افغان قاضیوں اور مفتیوں نے دیا ہے اور ایسے فتوے پر نظر ثانی نہیں کی جاتی۔ بودھ مذہب کے ماننے والے افغانستان تعداد میں بہت زیادہ نہیں ہیں مگر یہ امکان ہے کہ مستقبل میں ان میں سے کچھ لوگ بتوں کی پرستش شروع کر دیں گے۔ طالبان کے سربراہ نے کہا کہ یہ بت ان کی کمزوری بن سکتے ہیں اور روز آخر ان سے پوچھا جائے گا کہ جب تم روسیوں کو شکست دے سکتے تھے تو تم نے بتوں کو کیوں نہیں توڑا؟ ایک مسلمان ملک میں بتوں کی موجودگی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ یوں ملا عمر مجسمے مسمار کرنے سے دستبردار نہ ہوئے۔
پاکستان میں طالبان حکومت کے سفیر ملا عبدالسلام ظریف اپنی کتاب ’طالبان کے ساتھ میری زندگی‘ میں لکھتے ہیں کہ اس حوالے سے جاپان سب سے متحرک ملک تھا جو چاہتا تھا کہ بدھا کے مجسموں کو مسمار نہ کیا جائے۔ جاپان کے ایک سرکاری وفد، جس میں سری لنکا کے بودھ مت کے پیروکار بھی شامل تھے، نے پیشکش کی کہ وہ ان مجسموں کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے دنیا کے کسی اور ملک میں لے جاکر جوڑ لیں گے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ سر سے لے کر پاؤں تک ان ٹکڑوں کو ایسے جوڑ دیں گے کہ محسوس ہی نہیں ہوگا کہ یہ کبھی الگ تھے۔ جاپانیوں نے طالبان کو بتایا کہ ان کے آباؤ اجداد کا بودھ مذہب رہا ہے اور وہ اس ورثے کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، لیکن اس وقت کی افغان حکومت نے کہا کہ یہ باطل مذہب ہے اور جب انہیں اسلام کی صورت میں ایک سچا مذہب مل چکا ہے وہ ان کی پیروی کیوں نہیں کرتے؟
افغانستان پر اتحادی افواج کے حملے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے سنہ 2003 میں وادی بامیان کو عالمی ورثہ قرار دے دیا، جس کے بعد دنیا بھر سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے یہاں کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ تاہم یہاں پہنچ کر ماہرین کو صرف دو دیو ہیکل خالی غار ملے جو شکستہ مجسموں کے ٹکڑوں اور ان بارودی سرنگوں سے بھرے پڑے ہیں جو پھٹ نہیں سکی تھیں۔
تقریباً دس سال کے بعد یونیسکو نے اعلان کیا کہ وہ ان مجسموں کو دوبارہ تعمیر کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی، بڑے مجسمے کو تعمیر کرنے کےلیے کافی ٹکڑے دستیاب نہیں، جب کہ چھوٹے مجسمےکی تعمیر ممکن ہے، لیکن یونیسکو کے مطابق ایسا ہونے کا امکان کم ہے۔ حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پہاڑ کے وہ حصے جہاں یہ مجسمے بنائے گئے تھے موجودہ حالت میں ہی رہنے دیے جائیں گے تاکہ طالبان دور میں ہونے والے ظلم و تشدد کی عکاسی ہو سکے۔
واضح رہے کہ بامیان افغانستان کے وسط میں موجود ایک شاداب وادی ہے جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ بدھ مت کا مرکز تھی۔ بامیان کے مجسموں کی تاریخ پر محقق اسحاق محمدی لکھتے ہیں کہ یہ صوبہ بامیان کے دارلحکومت کے ساتھ ساتھ پورے ہزارستان کا مرکز بھی گردانا جاتا تھا۔ دوسری صدی عیسوی کے دوران سلسلہ کوشان کے سب سے مقتدر حکمران کنیشکا نے بودھ مذہب اختیار کیا اور گوتم بدھ کے مجسموں اور دیگر بودھ خانقاہوں کی تعمیر شروع ہوئی جس کے بعد بامیان کی رونقیں مزید بڑھ گئیں۔ اس وقت یہ پورا خطہ امن کا گہوارہ تھا اور شاہراہ ریشم کے ذریعے چین اور ہند کا باقی دنیا سے تجارتی رابطے کا ایک اہم ذریعہ بھی تھا۔ چنانچہ تجارتی اشیا سے لدے بڑے بڑے کارواں کی شب و روز یہاں سے آمد و رفت ہوتی تھی۔
ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق پہلا تباہ یونے والا مجسمہ 35 میٹر اونچا تھا جسے مقامی ہزارہ ’شاہ مامہ‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس کی تعمیر کا آغاز دوسری صدی عیسوی یعنی کنیشکا کے دور میں ہوا اور تکمیل تیسری صدی کے دوران ہوئی جب کہ سب سے بڑے 53 میٹر اونچے مجسمے جسے ’صلصال‘ کہا جاتا ہے، کی تعمیر چوتھی اور پانچویں صدی کے دوران ہوئی۔ اسحاق محمدی اپنی تحقیق میں فرانسیسی آرکیالوجیکل مِشن کا حوالہ دیتے ہوتے لکھتے ہیں کہ یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ چند مہینوں، سالوں یا ایک صدی کے دوران نہیں بلکہ صدیوں تک ہزاروں ماہر سنگ تراشوں نے شب و روز پہاڑ کاٹ کر یہ مجسمے بنائے۔ بدھا کے مجسموں کے آس پاس بودھ بھگشوؤں کےلیے سینکڑوں غار بھی کھودے گئے جن میں سے کئی ایک نہایت کشادہ تھے۔ ان کی باقیات بعض غاروں میں اب بھی موجود ہیں، خاص طور پر دونوں بڑے مجسموں سے متصل گنبد نما کشادہ کمروں کی دیواروں اور چھتوں پر رنگین نقش نگاری موجود ہے۔ تاہم اب یہ مجھے اس میں تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button