عمران خان کا اپنے اتحادی چوہدریوں کو مزید رگڑا دینے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے سیاسی قوت حاصل کرنے کے بعد نیب کے ذریعے چوہدری برادران کو مزید رگڑا لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کے خلاف مزید ریفرنسز تیار کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہناہے کہ کپتان کی جانب سے گرین سگنل ملتے ہی چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نئے ریفرنسز کے تحت کارروائی کی منظوری دے دیں گے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مرکز اور پنجاب میں کلیدی اتحادی ہونے کے باوجود عمران خان کو مسلم لیگ ق کی قیادت کے حوالے سے کئی تحفظات ہیں۔ کپتان کا خیال ہے کہ چوہدری بردران کی وزیر اعلی بننے کی خواہش کی وجہ سے عثمان بزدار مشکلات کا شکار ہیں اور ان کے خلاف سازشوں کے دروازے بند نہیں کیے جا رہے۔ اس کے علاوہ نئے بلدیاتی انتخابات اور سینیٹ الیکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے ق لیگ کو کنٹرول کرنا تحریک انصاف کی سیاسی بقا کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ایسے میں چوہدری برادران اور ان کی فیملی کے دیگر افراد کے خلاف 19 سال پرانے کیس کو کپتان نے ترپ کا پتہ سمجھتے ہوئے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ اب جبکہ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے قانون سازی میں کامیابی کے بعد کپتان کے سامنے کوئی بڑا چیلنج نہیں رہا اس لئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ق لیگ کی قیادت کے لئے مشکلات کا آغاز ہونے والا ہے۔
قومی احتساب بیورو یعنی نیب کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں کا ریفرنس چیئرمین نیب کو منظوری کے لیے بھیجا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری حتمی مراحل میں ہے۔نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف ریفرنس چیئرمین نیب کے پاس موجود ہے۔ اس ریفرنس میں پرویز الٰہی پر بحیثیت وزیراعلیٰ اختیارات کے ناجائز استعمال اور لوکل گورنمنٹ بورڈ میں غیر قانونی تعیناتیاں کرنے کا الزام ہے۔نیب پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ چوہدری برادران اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف انکوائری تکمیل کے قریب ہے، پراسیکیوٹر نے تفتیش مکمل کرنے اور ٹرائل کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کے لیے مزید 6 ہفتوں کا وقت مانگا۔تاہم عدالت نے 4 ہفتوں کا وقت دیتے ہوئے پراسیکیوٹر کو آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں نے اپنی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ نیب کے ادارے کو سیاسی انجینیئرنگ کے لیے استعمال کیا گیا اور ان کے خلاف پرانے کیسز مسلسل کھولے اور بند کیے جاتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سال 2000 میں نیب چیئرمین نے ان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال، آمدن سے زائد اثاثہ جات کی تفتیش کی اجازت دی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نیب کے تفتیشی افسر اور ریجنل بورڈ نے 2017 اور 2018 میں اس وقت تمام تحقیقات بند کرنے کی سفارش کی تھی کہ جب سیاسی مخالفین کی حکومت تھی۔تاہم موجودہ چیئرمین نیب نے 19 سال کے عرصے کے بعد ان کے خلاف دوبارہ تفتیش اور انکوائری کی تقسیم کی منظوری دی۔انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ چیئرمین نیب کی جانب سے ان انکوائریز کے اختیار اور ان کی تقسیم کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
چوہدری برادران کی درخواست پر نیب نے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں مسلم لیگ(ق) کے رہنماؤں چوہدری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی پر منی لانڈرنگ کرنے اور غیرقانونی اثاثے بنانے کا الزام لگایا۔نیب کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین کے اہلخانہ نے بھی 12 کروڑ 30 لاکھ سے زائد کی جائیداٰدیں حاصل کیں اور ان کے 2 بیٹوں شافع حسین اور سالک حسین نے اپنی ملکیت میں موجود مختلف کمپنیوں کو ڈیڑھ ارب روپے کا قرضہ دیا۔رپورٹ میں پرویز الٰہی سے متعلق کہا گیا کہ درخواست گزار اور ان کے اہلخانہ کی دولت 1985 سے 2018 تک بڑھ کر 4 ارب 6 کروڑ 90 لاکھ روپے ہوگئی اور ان کی شیئرہولڈنگ 1985 سے 2019 تک بڑھ کر 3 ارب روپے ہوگئیں جبکہ ان کے خاندان نے ڈھائی کروڑ روپے کی جائیدادیں بھی حاصل کیں۔نیب نے الزام لگایا کہ 2004 سے چوہدری پرویز الٰہی کے اہلخانہ کے بینک اکاؤنٹس میں 97 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کی غیر ملکی ترسیلات وصول کی گئیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ق لیگ کی قیادت بھی کپتان کے خطرناک ارادوں سے آگاہ ہے اس لئے چوہدری برادران نے مشکلات سے بچنے اور سیاسی اہداف کے حصول کے لئے کپتان کے ساتھ پنجہ آزمائی کی بجائے چیئرمین نیب کے اختیارات کو چیلنج کیا ہے۔ اگر ق لیگ کو عدالت سے ریلیف نہ ملا تو اسٹیبلشمنٹ کو بیچ بچائو کروانے کے لئے آگے بڑھنا پڑے گا تاہم دونوں صورتوں میں ق لیگ کو کمپرومائز کرنا ہوگا کیونکہ ق لیگ اپنی سیاسی بقا کے لئے بلدیاتی انتخابات اور سینیٹ انتخابات سے قبل ہر صورت تحریک انصاف کے ساتھ چلنا چاہتی ہے۔
