فوج کی عزت صرف ایک بہانہ ہے، آزاد میڈیا اصل نشانہ ہے


کپتان حکومت کی جانب سے مسلح افواج کی عزت و تکریم یقینی بنانے کے آئینی ترمیم بل کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فوج کی تکریم صرف ایک بہانہ ہے جبکہ آزاد میڈیا اصل نشانہ ہے۔
صحافتی حلقوں اور آئینی ماہرین نے مسلح افواج سے متعلق ترمیمی بل پیش کیے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1973 کے آئین میں پہلے سے مسلح افواج کی تکریم سے متعلق آرٹیکلز موجود ہیں لہذا اس ترمیمی بل کے پیش کیے جانے کی کوئی تُک نظر نہیں آتی۔ ویسے بھی پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پہلے ہی اتنے سخت ریاستی شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے کہ کوئی شخص فوج کی عزت و تکریم پر انگلی اٹھانے کی جرات ہی نہیں کر سکتا۔ لیکن بعض لوگوں کے مطابق اس بل کی ٹائمنگ بتاتی ہے کہ سی پیک اتھارٹی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کی بیرون ملک اربوں روپے مالیت کی جائیدادوں اوربزنس ایمپائر کے ہوشربا انکشافات کے بعد ان سے منی ٹریل مانگے جانے کی وجہ سے یہ بل متعارف کروایا جا رہا ہے۔ تاہم آئینی و قانونی کا ماہرین یہ نکتہ بھی اٹھا رہے ہیں کہ عاصم باجوہ ایک ریٹائرڈ جرنیل ہیں تو پھر ان پر اعتراض اٹھانے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب صحافتی حلقے اس نکتے پر متفق ہیں کہ بل کا اصل مقصد میڈیا کی آزادی کو مزید کچلنا ہے۔ اب مین سٹریم میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی فوج سے متعلق سوال اٹھانے والوں کو اس قانون کے تحت نشانہ بنایا جائے گا جس کا ٹریلر حالیہ دنوں سنیئر صحافیوں ابصار عالم، بلال فاروقی اور اسد طور کے خلاف ایف آئی آرز اور سنیئر صحافی سہیل وڑائچ کی کتاب، یہ کمپنی نہیں چلے گی، کی ضبطگی کی صورت میں چل چکا ہے۔ دوسری طرف قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ادارے کی پالیسیوں پر بحث کرنا اور اس ادارے کے خلاف سکینڈل بنانا دو مختلف چیزیں ہیں اور ان میں فرق رکھنا بہت ضروری ہے۔ کسی ادارے کی پالیسیوں پر بحث یا تنقید کرنا اسے بدنام کرنے کے کسی طور بھی مترادف نہیں۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں امجد علی خان کے بل کو پذیرائی ملنا مشکل ہو گی اور حزب اختلاف بھی شاید اس کی حمایت نہ کرے۔ اس لیے یہ ترمیمی بل پارلیمان میں منظور نہیں ہو سکے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان کی مسلح افواج یا اس کے کسی رکن کوارادتاً بدنام کرنے اور تمسخر کا نشانہ بنانے کو قابل سزا جرم قرار دینے کے لیے ایک بل پارلیمان کے ایوان زیریں میں جمع کرا دیا گیا ہے۔ مذکورہ بل کے ذریعے مسلح افواج یا اس کے کسی رکن کا تمسخر اڑانے والے یا بدنام کرنے والے شہری کے لیے دو سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ یہ بل حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے میانوالی سے رکن قومی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین امجد علی خان نے منگل کو اسمبلی میں جمع کروایا۔ فوجداری قانون ترمیمی بل 2020 پیش کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے امجد علی خان نے کہا کہ اس کا مقصد مسلح افواج کے خلاف نفرت اور حقارت آمیز سلوک اور رویئے کی روک تھام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلح افواج کی بدنامی کا باعث بننے والوں کے خلاف قانون کے تحت سخت اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ تاہم آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان پہلے ہی عدلیہ اور مسلح افواج کو سکینڈلائز کرنے کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق فوجداری قانون ترمیمی بل 2020 میں مسلح افواج یا اس کے کسی رکن کو ارادتاً بدنام کرنے یا تمسخر کا نشانہ بنانے کے لیے دو سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ اس ترمیم میں تعزیرات پاکستان یعنی پاکستان پینل کوڈ اور کریمینل پروسیجر کوڈ میں 500 اے کے نام سے اضافی شق داخل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ تعزیرات پاکستان 1860 میں تجویز کردہ شق 500 اے میں واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ جو کوئی بھی پاکستان کی مسلح افواج یا اس کے کسی رکن کا اردتاً تمسخر اڑاتا ہے، یا وقار کو گزند پہنچاتا ہے، یا بدنام کرتا ہے، وہ ایسے جرم کا قصور وار ہو گا، جس کے لیے اتنی مدت کے لیے سزائے قید جو دو سال تک ہو سکتی ہے یا مع جرمانہ جو پانچ لاکھ روپے تک ہو سکتا ہے یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ ترمیمی بل ایم این اے امجد علی خان نے پرائیویٹ ممبرز ڈے پر اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے ذریعہ جمع کروایا۔ پرائیویٹ ممبرز ڈے پر جمع کی گئی تجاویز سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ پیش کرنے والے رکن پارلیمان کو اس بل کی حد تک ان کی جماعت کی حمایت حاصل نہیں۔ اکثر اراکین حکومت کو کسی مسئلے کی جانب متوجہ کرنے کے لیے پرائیویٹ ممبرز ڈے پر بل اور قراردادیں ایوان میں پیش کرتے ہیں۔صحافتی تنظیموں نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اگر کسی طرح یہ قانون پاس ہوگیا تو یہ آزاد صحافت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا لہذا تمام صحافی تنظیموں کو متحد ہوکر اور ڈٹ کر ایسے اوچھے ریاستی ہتھکنڈوں کو ناکام بنانا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button