عمران دور کی میڈیا دشمن تاریخ بھلانا ممکن کیوں نہیں؟

اقتدار سے باہر ہو جانے کے بعد آزادی اظہارِ رائے اور آزاد صحافت بارے سیمینار منعقد کروا کر عمران خان اور انکی جماعت چاہے جتنا مرضی آزادی صحافت کا ڈھنڈورا پیٹ لے، مگر اپنے دور میں انہوں نے میڈیا اور صحافیوں کا گلا گھونٹنے کی جو سیاہ تاریخ رقم کی وہ اب مٹائی نہیں جاسکتی۔ حکومت کے ناقد معروف صحافیوں کو اغوا کرنے اور انہیں جیلوں میں ڈلوانے کے بعد اگر خان صاحب کی جماعت سمجھتی ہے کہ ایک دو سیمینار منعقد کروا کر اور اپنے صحافی نما ڈیزائنر ڈھنڈورچیوں سے تقریریں کروا کر وہ اپنے سیاہ چہرے کو دھو پائے گی تو یہ اسکی خام خیالی ہے۔ اپنے دور حکومت میں صحافیوں کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے ریڈ لائن کراس کر جانے والا عمران خان اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کے آزاد میڈیا کو اپنے فسطائی مقاصد کے لئے دوبارہ استعمال کر سکتا ہے تو یہ سراسر اس کی بھول ہے۔
ان خیالات کا اظہار نیا دور کی ایک خصوصی رپورٹ میں کیا گیا ہے جس میں آزادی اظہارِ رائے اور آزاد صحافت بارے منعقدہ ایک سیمینار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس سیمینار کا انعقاد عمران خان کی پارٹی اور ان کے سپورٹرز نے کیا تھا۔ سفید شلوار قمیض پر کالی واسکٹ میں ملبوس خان صاحب ڈائس کے سامنے براجمان تھے اور ان کی کرسی صدارت باقی تمام سامعین سے بالکل الگ اور آگے رکھی گئی تھی۔ کیمرہ مین ایک خاص اینگل سے خان صاحب کو ایسے کور کر رہا تھا کہ وہ باقی تمام سامعین سے علیحدہ اور آگے نظر آئیں اور انکی ہاتھ میں پکڑی تسبیح بھی نظر آتی رہے۔ ڈائس پر لوگ آ کر خطاب کرتے رہے۔ ان خطیبوں میں "عمرانڈو صحافی” عمران ریاض ،سمیع ابراہیم اور ایاز امیر بھی تقریر کرتے نظر آئے جنہوں نے میڈیا کی آزادی پر زور دیا۔ سیمینار کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ تحریکِ انصاف اور عمران خان آزادی اظہارِ رائے اور آزاد صحافت کے علمبردار ہیں جبکہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔
تحریک انصاف کے وہ عام کارکن بھی جو خان صاحب کی سیاست اور ان کے انداز حکمرانی سے اندھی محبت رکھتے ہیں، اس حقیقت کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ عمران خان آزادی اظہار اور صحافت کے سب بڑے مخالف اور کسی حد تک دشمن ہیں۔ آزادی اظہار ان کے نزدیک صرف وہی ہے جو ان کے یا ان کی پارٹی کے متعلق ہو اور وہ اظہار اور صحافت ان کے بیانیے کے مطابق ہو اور اگر ایسا نہ ہو تو ان کی سوشل میڈیا فوج گالی گلوچ کرنے سے لے کر غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے میں دیر نہیں لگاتی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کی تقریباً تمام حکومتوں نے آزادی اظہار اور آزاد صحافت پر مقدور بھر قدغنیں لگائیں، مگر عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت نے اس قدغنوں کو ایک نیا عروج بخشا۔ اگر صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی کی رپورٹس کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تحریک انصاف کے دور میں 8 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ دو درجن سے زائد صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان کے مختلف اضلاع میں کئی درجن صحافیوں کو تحریک انصاف کے عہدیداروں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اگر ایسی فاشسٹ پارٹی آزادی اظہار اور آزاد صحافت پر سیمینار منعقد کرے تو یہ بھیڑیے کو بھیڑ کی کھال پہنانے کے مترادف ہو گا اور ایسے کسی بھی سیمینار کی روداد کو قارئین ایک لطیفہ ہی سمجھیں گے۔
اسی سیمینار سے اپنے صدارتی خطاب میں، اپنے من چاہے مضمون پر گفتگو کرتے ہوئے، عمران خان نے 90ء کی دہائی کا ذکر کیا اور پی پی اور ن لیگ کی حکومتوں کی کرپشن اور باریاں لینے پر گلے کا زور خرچ کیا۔ مگر آزادی اظہار اور صحافت کے حوالے سے اپنے دور اقتدار اور 90ء کی دہائی میں صحافت کے تحفظ پر ایک لفظ بولنا گوارا نہ کیا جبکہ دوسری طرف کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی ہی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ 90ء کی دہائی میں تین صحافیوں کا قتل ہوا۔ اب اگر خان صاحب کے دور سے 90ء کی دہائی کا آزادی صحافت سے تقابل کیا جائے تو خان صاحب کا دور آزادی اظہار رائے کے لئے ایک تاریک دور ثابت ہوا۔
ان حقائق کے باوجود خان صاحب اور ان کی پارٹی پرلے درجے کی ڈھٹائی کے ساتھ آزادی اظہار کے موضوع پر سیمینار منعقد کرتی ہے۔سیمینار سے آزادی اظہارِ رائے کے ڈیزائنر ڈھنڈورچیوں نے بھی خطاب فرمایا اور موضوع پر اپنے گلے کا زور خرچ کیا۔ صحافی ہونے کے دعویدار اور تحریکِ انصاف کے سرگرم میڈیائی کارکن عمران ریاض عرف گیلا تیتر نے کہا کہ نیوٹرلز کی طرف سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اپنی پارٹی کے ساڑھے تین سالہ دور میں جب وہ ایک وڈیرے یا ایک مافیا گینگ سرغنہ کی طرح کالی جیپوں میں مسلح گارڈز کے ساتھ نکلتے تھے تو انہیں کن نیوٹرلز سے خطرہ تھا اور تب سیم پیج کا جو ڈھنڈورا پیٹا جاتا تھا وہ کیا تھا۔
دوسرے عمرانڈو صحافی وہ تھے جنہوں نے فواد چوہدری سے تھپڑ کھائے تھے۔ امریکی گرین کارڈ ہولڈر سمیع ابراہیم نے خان صاحب کی نیوٹرلز کے ساتھ لڑائی کو جہاد قرار دیا اور وہ نظم پڑھی جو اوریا مقبول جان طالبان کے لئے پڑھتا اور لکھتا ہے حالانکہ تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور میں اس کی اپنی صحافت کی اوقات پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ والی تھی۔ خان صاحب میں چی گویرا کا پرتو دیکھنے والے ایاز امیر کی ساری انقلابی گفتگو کا لب لباب تھا کہ اس سیمینارمیں انہوں نے سخت گفتگو سے پرہیز کیا ہے لہذا انہیں مارا پیٹا نہ جائے اوراگر مارا بھی جائے تو کپڑے نہ پھاڑے جائیں وغیرہ وغیرہ۔
معروف صحافی رؤف کلاسرا نے ایک کالم لکھا تھا کہ وزارتِ عظمیٰ کا حلف لینے کے کچھ عرصے بعد جب بطور وزیراعظم عمران خان نے چیدہ چیدہ صحافیوں کے ساتھ ملاقات کی تو انہوں نے صحافیوں سے ہاتھ ملانا تک گوارا نہ کیا اور ایسا سلوک روا رکھا جیسے وہ کسی بھی صحافی سے زندگی میں کبھی ملے ہی نہیں حالانکہ ہم ہی صحافی تھے جو انہیں اپنے لائیو پروگراموں میں لیا کرتے تھے اور فرمائشی سوالات کیا کرتے تھے۔ اسی ملاقات میں وزیراعظم نے حکم نما درخواست کی تھی کہ چھ ماہ تک ان کی حکومت بارے مثبت رپورٹنگ کی جائے اور پھر اسی طرح کا حکم پانچویں پشت کی فرضی ابلاغی جنگ کے خود ساختہ ماہرین سے بھی دلوایا گیا جو اُس وقت سیم پیج پر ہوتے تھے۔ پی ٹی آئی کے ڈیزائنر ڈھنڈورچی اپنے ہر پروگرام میں ان کے لئے دھمال ڈالتے تھے۔ جب کچھ صحافیوں نے ایسے کسی حکم کو ماننے سے انکار کیا تو انہیں ان کے اداروں سے نکلوا کر اپنے بندے صحافی بنا کر نوکریوں پر لگوائے گئے۔ لہٰذا آزادی اظہارِ بارے سیمینار منعقد کرا کے عمران خان اور انکی پارٹی چاہے جتنا مرضی آزادی صحافت کا ڈھنڈورا پیٹے مگر اسکا ماضی کا سیاہ ٹریک ریکارڈ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور کھرچنے سے بھی مٹانا ممکن نہیں۔
