عمران کی خالق اسٹیبلشمنٹ مکافات عمل کا شکار

ایک آئینی عمل کے ذریعے اقتدار سے بے دخل ہونے والا عمران خان اب واقعی خطرناک ہوتے ہوئے فوجی قیادت پر حملہ آور ہو چکا ہے اور اب آرمی چیف پر براہ راست حملے کر رہا ہے. ایبٹ آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے ایک مرتبہ پھر سراج الدولہ کے سپہ سالار میر جعفر کی غداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسکے انگریزوں کے ساتھ مل جانے کے باعث مسلمانوں کا اقتدار ختم ہوا تھا۔ یعنی موصوف خود کو سراج الدولہ اور آرمی چیف کو میرجعفر قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب فوجی ترجمان نے پہلی مرتبہ سخت رد عمل دیتے ہوئے عمران کا نام لیے بغیر وارننگ دی ہے کہ فوج کو مسلسل سیاست میں گھسیٹنے کی کوششیں بند کی جائیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ کل تک اسٹیبلشمنٹ غداری کا جو لقب عمران کے مخالف سیاست دانوں کے لیے استعمال کرتی تھی آج وہی لقب اسٹیبلشمنٹ کا تخلیق کردہ عمران اپنے خالق کے لیے استعمال کر رہا ہے، اور شاید مکافات عمل اسی کو کہتے ہیں۔
پاکستان کی 74 سالہ سیاسی تاریخ میں اب تک سیاست دانوں کو غداری کے طعنے دینے کے لئے میر جعفر اور میر صادق کے القابات استعمال کیے جاتے تھے، لیکن اقتدار سے بے دخل ہونے والے سابق وزیراعظم عمران خان اب ان القابات کو اسٹیبلشمنٹ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ موصوف نے مینار پاکستان لاہور کے جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو کو پھانسی دینے والے میر جعفر اور میر صادق نے اب شہباز شریف کو وزیراعظم بنا دیا ہے۔ اس کے بعد بنی گالہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ان کی حکومت کے خلاف سازش کبھی کامیاب نہ ہوتی اگر پاکستان کے میر جعفر اور میر صادق اس میں حصہ نہ ڈالتے۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ القابات اور اس سے ملتے جلتے بہت سے اور، سیاست میں تو سیاسی مخالفین کے لیے عام طور پر استعمال ہوتے رہے تھے مگر یہ پہلا موقع ہے کہ ماضی میں میر جعفر اور میر صادق کے القابات سیاست دانوں کے لیے استعمال کرنے والی اسٹیبلشمنٹ اب خود ان کا نشانہ بن گئی ہے۔ اہل سیاست کے اس چلن کی جانب آنے سے پہلے محقق ڈاکٹر صفدر محمود سے جان لیا جائے کہ میر جعفر اور میر صادق دھوکے اور غداری کا دوسرا نام کیوں قرار پائے۔
ڈاکٹرصفدر مرحوم نے لکھا ہے کہ مغلیہ سلطنت کمزور ہوئی تو کئی صوبے آزاد ہو گئے جن میں بنگال بھی شامل تھا۔
’نواب سراج الدولہ 1756 میں بنگال کی گدی پر بیٹھے۔ اس دور میں تجارت کی آڑ میں ایسٹ انڈیا کمپنی اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی تھی۔ کمپنی نے نواب کی منظوری کے بغیر اپنے تجارتی مراکز کے اردگرد حصار بنا لیے۔ وہ ان کے مخالفوں کی حمایت کر رہی تھی اور تجارتی مراعات سے ناجائز فائدے اٹھانا شروع کر دیے تھے۔ نواب نے کلکتہ پر قبضہ کر لیا، رابرٹ کلائیو نے حملہ کر کے یہ واپس لے لیا اور نواب سے معاہدہ بھی کر لیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی کمپنی نے نواب سے نجات حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا۔‘
صفدر محمود بتاتے ہیں کہ ’نواب سراج الدولہ کے سب سے قابل اعتماد سپہ سالار میر جعفر تھے جو اُن کی فوج کے سربراہ بھی تھے۔ انگریزوں نے بنگال کی حکمرانی دینے کا وعدہ کر کے اُن سے خفیہ معاہدہ کر لیا۔ طے شدہ حکمت عملی کے تحت جنگ پلاسی 1757 میں ہوئی جس میں انگریزوں کی فوج تین ہزار جب کہ سراج الدولہ کے پاس پچاس ہزار کی فوج تھی۔ 23 جون 1757 کو پلاسی کی اس جنگ میں میر جعفر فوج لے کر نواب سے علیحدہ ہو گئے۔ یوں نواب سراج الدولہ کو شکست ہوئی اور وہ جان بچا کر بھاگ نکلے۔ میر جعفر کے بیٹے میراں نے تعاقب کر کے سراج الدولہ کو قتل کر دیا۔‘
سراج الدولہ کی جگہ میر جعفر بنگال کے حاکم بن گئے لیکن عملی طور پر انھیں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ معاہدے میں بُری طرح جکڑ دیا گیا۔ یہ وہی لارڈ کلائیو ہیں جو آگے چل کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ عملاً بنگال میں مسلمانوں کے عروج و اقتدار کا سورج غروب ہو گیا۔‘
ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’وہ ٹیپو سلطان کی مجلس کے صدرِ اعظم تھے۔ ٹیپو انگریزوں کے توسیع پسندانہ عزائم کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ مکمل جنگی تیاریوں اور سازشوں کا جال پھیلانے کے بعد انگریزوں نے جنرل ہیرس کی سربراہی میں مارچ 1799 میں میسور اور پھر بنگلور پر قبضہ کر لیا۔‘
’ٹیپو سلطان کو صلح کے لیے شرمناک شرائط پیش کی گئیں جو انھوں نے مسترد کر دیں۔ اپریل کے اواخر میں سرنگا پٹم کے قلعے کے باہر انگریزوں نے توپیں نصب کر دیں اور گولا باری شروع کر دی۔ تین مئی کو قلعے کی فصیل میں چھوٹا شگاف پڑ گیا۔ میرصادق کے مشورے پر انگریزوں نے حملہ کیا اور میرصادق نے تنخواہیں دینے کے بہانے ان سپاہیوں کو بلا لیا جو فصیل کے اس شگاف کی حفاظت پر مامور تھے چنانچہ انگریز فوج قلعے میں داخل ہو گئی۔ جب ٹیپو سلطان کو خبر ملی تو وہ پیدل دوڑے اور منتشر فوج کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ جب سپاہی اپنی قوت کھو بیٹھے تو ٹیپو سلطان گھوڑے پر سوار ہو کر قلعے کے ایک دروازے کی طرف بڑھے۔‘
ڈاکٹر صفدر محمود بتاتے ہیں کہ میر صادق نے وہ دروازہ بند کروا دیا تھا تاکہ ٹیپو سلطان باہر نہ جا سکیں۔ ٹیپو سلطان کے وفاداروں نے میرصادق کی غداری کو بھانپتے ہوئے انھیں قتل کر دیا اور ٹیپو سلطان انگریزوں کے خلاف لڑتے لڑتے جان سے گئے۔ میر صادق کے ساتھ اس سازش میں میر غلام علی، میر قمرالدین، میر قاسم علی اور وزیر مالیات پورنیا بھی شامل تھے۔‘ آج زائرین ٹیپو سلطان کے مزار کو ایک بزرگ کی درگاہ کی طرح سمجھتے ہیں۔ لیکن میر صادق کی قبر تباہ حال ہے۔ کچھ سیاح اپنے جذبات کی تسکین کو اس پر پتھر بھی پھینکتے ہیں۔ میر جعفر نے 1757 میں ہندوستان میں برطانوی راج کی بنیاد رکھنے کی راہ ہموار کی تو 1799 کی میسور کی چوتھی جنگ میں میر صادق کی غداری نے بالآخر غیر ملکی حکمرانی کو مستحکم کیا۔
یوں میر جعفر اور میر صادق برصغیر کی تاریخ میں غدار قرار پائے، یہاں کی سیاست میں مخالفین کے لیے ان ناموں کا ان کے بقول غداری کے مترادف کے طور پر استعمال معمول رہا ہے۔ سیاسی مخالفین کو بُرے نام یا القابات دینا اس کے علاوہ ہے۔ صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ تحریک آزادی ہی سے ایسی زبان استعمال ہوتی آئی ہے کہ سیاسی مخالفین کو کافر یا غدار قرار دیا گیا۔ کبھی بانی پاکستان محمد علی جناح اس کی زد میں آئے، کبھی ابوالکلام آزاد، کبھی حسین شہید سہروردی، کبھی غفارخان تو کبھی جی ایم سید۔ اب اقتدار سے نکلنے کے بعد عمران خان مسلسل یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ میر جعفر اور میر صادق نے بیرونی سازش میں حصہ ڈالتے ہوئے شہباز شریف کو قوم پر مسلط کر دیا ہے۔ یوں کل تک پاکستانی اسٹیبلشمنٹ جو القاب سیاستدانوں کے لیے استعمال کرتی تھی آج عمران خان وہی القاب اسٹیبلشمنٹ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ شاید مکافات عمل اسی کو کہتے ہیں۔
