سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی،ڈالر 188.5 روپے کا ہوگیا

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور آئی ایم ایف پروگروم میں نمایاں کامیابی نہ ملنے کی منفی اثرات سٹاک مارکیٹ پر پڑنے لگے ہیں۔سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے ہی روز شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے اور پیر کو پی ایس ایکس 100 انڈیکس 11 سو پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 43 ہزار کی سطح پر آگیا ہے۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج کی ویب سائٹ کے مطابق کاروبار کے آغاز میں کے ایس ای 100 انڈیکس 44 ہزار 841 پوائنٹس پر تھا جو 11 بجے تک 43 ہزار 506 پر آگیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروبار کے پہلے روز کے دوران انڈیکس میں ایک ہزار 335 پوائنٹس کی کمی ہوچکی ہے۔

اس حوالے سے انٹر مارکیٹ سیکیورٹیز کے سربراہ برائے ایکویٹیز رضا جعفری کا کہنا ہے کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں تاخیر مندی کی ایک اور وجہ ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ معلوم ہوتا ہے کہ حکومت دوست ممالک سے فنڈ اکٹھے کرنے کے معاملے میں ناکام ہے،عالمی ایکویٹی مارکیٹ کا دباؤ بھی مندی کے رجحان کی وجہ ہے۔

انہوں نے خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر مارکیٹ میں بہتری آئے گی، مثبت پیش رفت مندی کے رجحان کو روکنے میں معاون ثابت ہوگی،الفلاح بی ٹیک کے سی ای او خرم شہزاد کا بھی ایسا ہی خیال ہے۔

انکا کہنا تھا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور آئی ایم ایف کی فنڈنگ سے کوئی پیش رفت نہ ہونے پر سرمایہ کار پریشان ہیں، شہباز شریف کا پیٹرول سبسڈی کو آگے نہ بڑھانا پی ایس ایکس میں ’شدید مندی‘ کی وجہ بن سکتا ہے۔

دوسری جانب دوپہر تک روپے کی قدر میں ایک روپے 25 پیسے کمی کے بعد انٹر بینک میں ڈالر 188 روپے 5 پیسے پر پہنچ گیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں امریکی کرنسی کی قیمت 187 روپے 8 پیسے ہے۔

خبردار!خلاف قانون پوسٹ پرنام ای سی ایل میں ڈالا جا سکتا ہے

یاد رہے کہ یکم اپریل کو سیاسی انتشار عروج پر ہونے کے سبب ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح 189 روپے 25 پیسے پر جاپہنچا تھا، حکومت کے تبدیل ہونے کے بعد ڈالر کی قدر میں فوری طور پر کمی دیکھی گئی تھی، تاہم یہ بہتری زیادہ دیر برقرار نہیں رہی اور ڈالر نے ایک بار پھر اڑان بھرنا شروع کردی ہے۔

فوریکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے ڈالر کی قیمت میں آج ہونے والے اضافے کو درآمد شدہ تیل کے عوض رقم کی ادائیگی سے منسوب کیا ہے،ہمیں امید ہے کہ مئی کے اختتامی ہفتے تک روپے کی قدر میں بہتری آئے گی۔

ملک بوستان نے وزارت خزانہ کو تجویز دی کہ سعودی عرب سے موصول ہونے والے پیکج کے حوالے سے فوری طور پر عوام کو آگاہ کیا جائے۔

ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کے قیام کو ایک ماہ ہونے والا ہے لیکن ابھی تک آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔
اس کے علاوہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس صورتحال کا اثر مارکیٹ پر پڑ رہا ہے اور سرمایہ کار محتاط نظر آ رہے ہیں۔ پاک کویت سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ سمیع اللہ طارق نے بتایا کہ ’وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی آئی ایف وفد سے ملاقات کے باوجود ابھی تک آئی ایم ایف پروگرام کا معاملہ حل نہیں ہوسکا ہے۔

انہوں نے کہا حکومت کو فوری طور پر قرضوں کی ادائیگی سمیت دیگر ادائیگیاں کرنا ہیں۔ نئی حکومت نے ابھی تک اخراجات میں کمی کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات بھی نہیں کیے ہیں

سمیع اللہ طارق کا کہنا تھا میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو تیل کی مد میں دی جانے والی سبسڈی کو فوری کم کرنا ہوگا بصورت دیگر صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔‘

سپیکٹرم سیکیوٹیز کے ہیڈ آف ریسرج عبدالعظیم نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے دباؤ بڑھ رہا ہے اور سرمایہ کار محتاط ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں وزیر اعظم شہباز شریف کے سعودی عرب دورے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 3 ارب ڈالر کے قرض کا دورانیہ بڑھانے پر اتفاق کیا تھا تاکہ پاکستان کی نئی حکومت کو معاشی بحران سے نکلنے میں مدد حاصل ہوسکے، سعودی عرب نے پاکستان اور اس کی معیشت کے لیے مسلسل حمایت کا اعلان کیا تھا۔

جس میں مدت میں توسیع کے ذریعے یا دوسری صورت میں مرکزی بینک کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کو بڑھانے پر بات چیت اور پیٹرولیم مصنوعات کی فنانسنگ کو مزید بڑھانے سمیت پاکستان اور اس کے عوام کے فائدے کے لیے اقتصادی اسٹرکچرل اصلاحات کی حمایت کرنے کے اختیارات تلاش کرنا شامل تھا۔

Back to top button