فاسٹ باؤلر وہاب ریاض کی سیاسی میدان میں دبنگ انٹری

کرکٹ پیچ پر تیز گیندیں پھینکنے والے بائولر کی سیاست کی پچ پر انٹری ہو گئی ہے ۔کون ہیں وہ بائولر جو سیاست میں پنجہ آزمائی کے لئے میدان میں اترے ہیں ؟خبروں اور کابینہ کی زینت بننے والے وہ فاسٹ بائولر وہاب ریاض ہیں جن کا پنجاب کی گیارہ رکنی ٹیم میں سلیکشن ہوا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ سلیکشن ہونے کے باوجود بھی انہوں نے تاحال حلف کیوں نہ اٹھایا ؟سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے۔

اس سے پہلے کہ یہ بتائیں کہ ایسا کیوں ہے جان لیں کہ سوشل میڈیا پر شائقین کرکٹ نے دلچسپ تبصروں کی بھرمار کر دی ہے، ٹوئٹر صارف سہیل تنولی کا کہنا تھا کہ عمران خان وزیراعظم بن سکتے ہیں تو وہاب ریاض کابینہ کے رکن کیوں نہیں؟ علی حسن نامی ٹوئٹر صارف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ذرا سوچیں، اگر بابر اعظم بحیثیت کپتان وہاب ریاض کو ٹیم سے نکال دیں تو؟ ایک اور ٹوئٹر صارف نے خوشگوار موڈ میں حسن علی کی تصویر کے ساتھ لکھا ’وہاب ریاض، پنجاب کے وزیر کھیل بابراعظم کی کپتانی میں پشاور زلمی کی فتح کے لیے کھیلتے ہوئے، صفی نامی ٹوئٹر صارف نے وہاب ریاض کی پنجاب کے کابینہ کا حصہ بننے پر لکھا: ’محمد عامر کو بھی لے لیتے۔ابھی تک نا تو انہوں نے حلف اٹھایا ہے اور نا ہی یہ طے ہے کہ انکو وزارت کون سی دی جائےگی پہلے تو اس بات میں بھی ابہام ہی تھا کہ کیا یہ وہاب قومی ٹیم والے وہاب ہی ہیں ناں تو اس بات کی تو خیر تصدیق ان کے بھائی نے بھی کر دی ہے کہ ہاں وہاب ریاض کو ہی کابینہ کا حصہ بنایا گیا ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ بی بی سی کی جانب سے جب وہاب ریاض کو اس حوالے سے سوالات بھیجے گئے تو انھوں نے اس بات کی تو تصدیق کی کہ انھیں نگران وزیرِ کھیل کے منصب کی آفر ہوئی ہے تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اس آفر کو قبول کریں گے یا نہیں۔ تاحال وہاب ریاض کی جانب سے اس عہدے کا حلف نہیں اٹھایا گیا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستانی فاسٹ بائولر وہاب ریاض پہلے قومی کرکٹر بن گئے ہیں جن کو پنجاب کی نگران کابینہ کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے،دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خبر کے آتے ہی جہاں شائقین خوشی سے نہال ہیں وہیں وہاب ریاض کے ساتھی اور دوست کرکٹرز نے بھی سوشل میڈیاپر انہیں بہت دلچسپ پیغامات بھیجے ہیں، کرکٹر اعظم خان نے وہاب ریاض کے حلف اٹھانے سے پہلے ہی انہیں وزیر کھیل مانتے ہوئے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ پنجاب کے وزیر کھیل کے ساتھ انجوائے کرتے ہوئے۔اب یہ جان لیں کہ جن کا چرچا ہے ہر سو وہ ہیں کہاں ۔تو جناب اس وقت بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کھیلنے میں مصروف ہیں، جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک مقیم ہیں ،اور کہتے ہیں کہ واپس آکر وزیر کھیل کا حلف اٹھاوں گا۔وہاب ریاض پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم پشاور زلمی کا بھی حصہ ہیں، جس کا آغاز 13 فروری سے ہوگا۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ وہاب ریاض نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے تینوں فارمیٹس میں نمائندگی کی ہے۔ انھوں نے 27 ٹیسٹ میچوں میں 83، 91 ون ڈے انٹرنیشنلز میں 120 جبکہ 36 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں 34 وکٹیں حاصل کی ہیں، انھوں نے تاحال کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان تو نہیں کیا، لیکن وہ گذشتہ دو سال سے قومی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں اور وہ پی سی بی کے سینٹرل کانٹریکٹڈ کھلاڑی بھی نہیں ہیں۔

اب معاملہ یہاں پر رکتا ہے کہ کیا قانونی اور آئینی طور پر وہ نگران وزیر ہونے کے ساتھ ساتھ کرکٹ کھیل سکتے ہیں اور اس پر پی سی بی کا کیا کہنا ہے تو شائقین افسردہ نہ ہوں کیوں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان سمیع برنی کہتے ہیں کہ پی سی بی کے قواعد کے مطابق وہاب ریاض پاکستان سپر لیگ میں بطور نگران وزیر کھیل حصہ لے سکتے ہیں۔ تو پھر تیار ہو جائیں ایک ٹکٹ میں دو مزے لینے کے لئے کیونکہ اس بار پی ایس ایل میں آپ سیاست کے ساتھ ساتھ نگران وزیر کو کرکٹ میدان میں ان ایکشن دیکھیں گے۔

تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہاب ریاض سیاسی گرائونڈ میں مخالفیں کو بائونسر پھینک سکیں گے ۔کیا پی سی  بی ان کو حلف اٹھانے دے گا یا روایتی رویہ اپناتے ہوئے نو بال دے کر مشکل میں ڈال دے گا ۔ اس کرکٹ اور سیاست کی ڈبل وکٹ پر تھرڈ امپائر کون ہے اور سکور بورڈ کی کیا پوزیشن ہے ۔ کیا ایکشن پر اعتراض اٹھا کر نوجوان کھلاڑی کو اسٹیڈیم سے باہر کرنے کی کوشش تو نہیں کی جائے گی۔؟ ان تمام سوالات کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔

Back to top button