فالج کا اندازہ لگانے والی موبائل ایپ متعارف

اکثر اوقات لوگ فالج کے خطرات سے ناواقف ہوتے ہیں اور جب وہ ہسپتال پہنچتے ہیںتو تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی ماہر نے مشین لرننگ ایپ بنائی ہے جو متاثرہ شخص کی آواز اور ویڈیو سے اس کیفیت کا اندازہ لگاسکتی ہے۔
یہ موبائل ایپ پینسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی اور ہیوسٹن میتھوڈسٹ ہسپتال نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔ اس کی تیاری کی لیے پہلے 80 کے قریب فالج کے مریضوں کی آواز اور ویڈیو ریکارڈ کی گئی ہے اور اسے ایک ڈیٹا بیس میں شامل کیا گیا ہے۔ فالج کے مریضوں کو بولنے میں دقت ہوتی ہے جبکہ چہرے کے کے عضلات اکڑ جاتے ہیں اور وہ نارمل نہیں رہتے۔ اس کے بعد ڈیٹا کو مشین لرننگ سے گزار کر الگورتھم کو تربیت دی گئی، جب اسے فالج کے مریضوں پر آزمایا گیا تو اس نے 79 فیصد درستگی سے فالج کی کم یا زیادہ شدت کی پیشگوئی کی جس کی تصدیق مختلف ٹیسٹ سے بھی ہوگئی۔ اس ایپ کے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایمرجنسی روم کی تشخیص کی طرح ہی کام کرتی ہے اور صرف چار منٹ میں فالج ہونے یا نہ ہونے کی نشاندہی کرسکتی ہے۔ اس پر تحقیق کرنے والی ماہر پروفیسر شیرون ہوانگ کہتی ہیں کہ یہ اولین کام ہے جس سے ایمرجنسی میں فالج کا اندازہ لگاسکتا ہے۔ چہرے کا ڈیٹا اور آواز اس ضمن میں بہت مددگار ہوتا ہے اور اس طرح گھر بیٹھے مریض دور دراز سے رہتے ہوئے بھی اپنی کسی کیفیت کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ ایپ طبی اہمیت رکھتی ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button