فوجی جوانوں نے مجبوری میں لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگائے

سوشل میڈیا پر وائرل ایک دلچسپ ویڈیو کے حوالے سے عسکری ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ گوجرانوالہ کے قریب پاک فوج کا ایک قافلہ تحریک لبیک کے ایک جلوس میں گھر گیا تھا لہٰذا اسے وہاں سے بحفاظت نکلنے کے لیے فوجی جوانوں کو کارکنان کے ساتھ مل کر لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگانا پڑے۔ فوجی جوانوں نے ایسا مصلحت پسندی اور کی حکمت عملی کے تحت کیا تاکہ مشتعل ہجوم کے ساتھ ٹکراؤ سے گریز کیا جاسکے۔ عسکری ذرائع نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ ویڈیو میں نعرے لگانے والے فوجی جوان دراصل تحریک لبیک سے متاثر ہو کر ایسا کر رہے تھے۔

یاد رہے کے اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل پاکستانی فوجی جوانوں کے ایک قافلے کی ویڈیو زیر بحث ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک پرہجوم سڑک پر سے ایک فوجی گاڑی گزر رہی ہے جس میں سوار دو فوجی مجمع کے ساتھ ناموسِ رسالت اور سعد رضوی کی حمایت میں نعرے بلند کر رہے ہیں۔ یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کی فوجی جیپ پر ایک مشین گن بھی نصب یے۔ فوجی جوان تحریک لبیک کے حق میں نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج کے حق میں بھی نعرے بازی کر رہے ہیں جبکہ تحریک لبیک کے کارکن بھی ان کے ساتھ نعرے بازی کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑک پوری طرح تحریک لبیک کے کارکنان سے بھری ہوئی ہے اور فوج کی گاڑی کو آہستہ آہستہ وہاں سے گزرنے کے لیے راستہ دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا تھا کہ آیا یہ ویڈیو اصلی ہے یا نقلی ہے۔ تاہم کچھ سوشل میڈیا صارفین نے فوجی جیپ کا نمبر چیک کرنے کے بعد کنفرم کیا تھا کہ یہ جییپ پاکستان آرمی کی ہی ہے۔ لیکن اب عسکری ذرائع نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے اس صورتحال کو بیان کیا ہے جس میں فوجی جوانوں کو لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگانا پڑے۔

یاد رہے کہ مذہبی جماعت تحریک لبیک نے ماضی میں متعدد مواقعوں پر ملک بھر میں ایسے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف پورے ملک میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا بلکہ تقریباً ہر بار حکومتِ وقت کو اسکی قیادت کے ساتھ معاہدے کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑا۔ اس وقت بھی ملک کے مخلف شہروں میں تحریک لبیک کا دھرنا جاری ہے جس دوران مظاہرین کی ایسی دو ویڈیوز وائرل ہوگئی ہیں جن پر سوالات کیے جا رہے ہیں اور ریاست کے کردار پر بحث جاری ہے۔ ہر بار اس جماعت کی جانب سے کیے گئے ان مظاہروں پر جو سوال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے وہ ریاستی رٹ کی ‘غیر موجودگی’ یا میبنہ طور پر ریاست کا اس جماعت کے لیے ‘نرم گوشہ’ رکھنے پر کیا جاتا ہے۔ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کس طرح ایک چھوٹی سی مذہبی جماعت سڑکوں پر نکل کر نظام زندگی مفلوج کر سکتی ہے؟

خیال رہے کہ تحریک لبیک نے حکومت کی جانب سے 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کو ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے رکھی تھی جس سے پہلے جماعت کے سربراہ سعد رضوی کو گرفتار کر لیا گیا۔ یوں ملک گیر احتجاج شروع ہو گیا اور تحریک لبیک کے کارکنوں نے ملک بھر کے متعدد مقامات پر مظاہرے شروع کر دیے جس کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہو گیا اور جگہ جگہ ٹریفک جام ہو گئی۔ اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر دو ویڈیوز گردش کر رہی ہیں اور صارفین اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔
سینئر صحافی اور سابق چئیرمین پیمرا ابصار عالم نے فوجی جوانوں کی جانب سے لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگانے کی ویڈیو جاری کی گئی جس پر اب عسکری ذرائع نے وضاحت پیش کر دی ہے۔ اسی طرح ایک اور وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رینجرز کے یونیفارم میں ملبوس ایک افسر چند افراد سے بات کر رہے ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں کہ ‘روز قیامت والے دن ہم سے سب سے پہلے حقوق العباد کے بارے میں بات کی جائے گی۔’

رینجرز کے افسر مظاہرین سے درخواست کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ مظاہرین کو دھرنا ختم کرنے کے لیے نہیں کہہ رہے بلکہ صرف روڈ کی دوسری جانب کرنے کو کہہ رہے ہیں تاکہ ٹریفک بحال ہو جائے۔
وہی لہجہ برقرار رکھتے ہوئے رینجرز کے افسر مظاہرین سے کہتے ہیں کہ ‘آپ میرے بھائی ہیں، دھرنا ختم کرنا نہیں چاہتا لیکن دھرنا سائیڈ پر کر دیں۔’ اس پر مظاہرین میں سے ایک شخص ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ’آپ ہمیں ہٹانے آئے ہیں‘ لیکن رینجرز کے افسر جواب میں کہتے ہیں کہ ‘آپ کو ہٹانے ہرگز نہیں آئے ہیں، آپ کا عزم، بہت اچھا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو تکلیف نہ دیں جو عام لوگ ہیں۔’

سوشل میڈیا پر جہاں بعض صارفین اس پورے معاملے پر تنقید کرتے ہوئے دکھائی دیے وہیں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے فوجی اہلکاروں کے رویے کی توجیہہ پیش کی۔ صارف ندیّا اطہر اسی ویڈیو پر ایک تبصرہ کرتے ہوئے اس حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے نظر آئیں کہ کیا ویڈیو میں نظر آنے والے لوگ واقعی فوج کے ہی اہلکار ہیں؟ اُنھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ سب کچھ خادم حسین رضوی کے بیٹے کو لیڈر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور انھوں نے اسے ’مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک توڑنے‘ سے جوڑا۔ اسی طرح ایک اور صارف ثاقب علی صدیقی نے کہا کہ فوج کا قافلہ ایک مشق سے واپس آ رہا تھا اور یہ گاڑی ٹی ایل پی کے مظاہرے میں پھنس گئی تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ فوجی اہلکاروں کے پاس بھاری اسلحہ تھا اور اُن کی تربیت یہ ہوتی ہے کہ ’حاضر دماغی اور عام فہم‘ استعمال کیا جائے اور مسئلے والی جگہ سے باہر نکل جایا جائے۔ اُنھوں نے نشاندہی کی کہ ایک فوجی اہلکار پیدل وہاں سے جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
خرّم ذاکر نامی صارف نے کہا کہ بظاہر سعد رضوی کا تعارف کروانا مقصد تھا جس سے اب پورے ملک کو اُن کے نام کا علم ہو گیا ہے۔
محمد عباد نامی صارف نے لکھا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران جب لوگ مظاہرہ کر رہے ہوں تو فورسز کے اہلکار محفوظ راستہ حاصل کرنے کے لیے ایسے ہی کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ مظاہرے کی حمایت کر کے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

ان دونوں ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد سے ریاست کے کردار پر زور و شور سے بحث جاری ہے۔ممکنہ طور پر اس کی وجہ ماضی میں ہونے والے واقعات ہیں جب 2017 میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں فیض آباد پر ہونے والے دھرنے کا خاتمہ کرانے کے لیے معاہدے میں ثالثی کا کردار اس وقت آئی ایس آئی میں تعینات میجر جنرل فیض حمید نے کیا تھا۔ اس کے بعد جو ویڈیوز سامنے آئی تھیں اس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ رینجرز سے تعلق رکھنے والے ایک افسر نے مظاہرین کو نقد رقم فراہم کی اور ان کو اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔

ان ویڈیوز پر بھی صارفین نے تبصرے کیے کہ اس رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی سلامتی کے ادارے اس نوعیت کے مظاہروں کے خلاف کارروائی اس لیے نہیں کرتے کیونکہ وہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔
جب ان خدشات کے بارے میں سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی امور کے ماہر سلمان طارق سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ مشتعل ہجوم کی صورت میں سب سے پہلی چیز جس پر توجہ دینی چاہیے وہ ہے کہ معاملات کو ٹھنڈا کیا جائے۔اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے امن نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ایسی سہولیات ہونی چاہییں کہ وہ مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے رابطے قائم رکھیں اور ان سے ایک رشتہ قائم کریں۔ لیکن دوسری جانب سلمان طارق نے پولیس کی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس نے ٹی ایل پی رہنما کو حراست میں لینے کا منصوبہ بنایا تھا تو ان کو یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ ان کی جماعت کے لوگ مشتعل ہوں گے اور ردعمل دیں گے، تو اس کے لیے انھوں نے کیا انتظامات کیے۔

دونوں ویڈیوز میں فوجی اہلکاروں کے رویے کے بارے میں کیے گئے سوال پر سلمان طارق کہتے ہیں کہ دونوں ویڈیوز میں یہ واضح تھا کہ فوجی اہلکار بہت ہی مشتعل ہجوم کے درمیان تھے اور انھیں انتہائی احتیاط سے قدم لینے کی ضرورت تھی۔
گاڑی پر نعرے بازی کرنے والے فوجیوں کی ویڈیو کے بارے میں سلمان طارق کہتے ہیں کہ ‘میرا خیال ہے کہ انھوں نے یہ اپنی جان بچانے کے لیے کیا تھا۔ یہ معمول کی بات ہے اور ان حالات میں یہی کرنا چاہیے۔ انھوں نے ہجوم کے ساتھ نعرے بازی کی اور حفاظت سے وہاں سے نکل گئے۔’

دوسری ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے سلمان طارق کا کہنا تھا کہ اس میں اگر دیکھا جائے تو رینجرز کے افسر کی نیت ایسی نہیں لگ رہی کہ وہ مجمعے کو کسی طرح بھی اکسا رہے ہیں۔ ‘ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ وہ ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اگر ویڈیو میں دیکھیں تو یہ واضح ہے کہ وہ ان کو کہہ رہے ہیں کہ مجھے ناموسِ رسالت عزیز ہے اور میں اس پر یقین رکھتا ہوں، لیکن آپ دھرنا دوسری جانب کر لیں۔’
نومبر 2018 میں آسیہ بی بی کے خلاف کیے گئے دھرنے میں ٹی ایل پی نے حکومت کو معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا لیکن اس دھرنے کے دوران فوجی قیادت کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے گئے تھے، اور معاہدے کے چند روز بعد جماعت کے مرکزی رہنما اور سعد رضوی کے والد خادم حسین رضوی سمیت بڑی تعداد میں کارکنان اور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس پر یہ سوال ذہنوں میں اٹھتا ہے کہ اگر ماضی میں اس جماعت کو قابو میں رکھنے کے لیے اس طرح کا قدم لیا گیا تھا تو ریاست بار بار انتشار پھیلانے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیوں نہیں کرتی۔
سلمان طارق کا اس بارے میں کہنا تھا کہ یہ بہت واضح ہے کہ حکومت کے پاس حکمت عملی اور فیصلہ سازی کی کمی ہے اور اس سے ان کی کمزوری عیاں ہے۔ انکا۔ کہنا یے کہ ‘پالیسی اور حکمت عملی کمزور ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ امن و امان قائم کرنے والے اداروں کے پاس ان حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ ہے یا نہیں۔’
ان کا کہنا تھا کہ ان حالات کے لیے حکومت کو اعلیٰ ترین سطح پر فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
‘بنیادی بات یہ ہے کہ اس کا فیصلہ سب سے اعلیٰ حکومتی سطح پر لیا جانا چاہیے کہ ان جماعتوں یا ایسے عناصر کے ساتھ کیسے نمٹا جائے۔

ناقدین کا کہنا یے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ شہروں کو بند کیا گیا ہے، لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے، اس دوران جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کون کرے گا اس کا ازالہ؟ اور کون لے گا اس کی ذمہ داری؟ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومت کو ایک پختہ پالیسی اپنانی ہوگی لیکن ابھی تک بدقسمتی سے حکومتی رٹ نافذ کرنے کے لیے قوت ارادی نظر نہیں آ رہی۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button