تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

پاکستان کی حکومت نے رواں ہفتے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے نظامِ زندگی درہم برہم کرنے والی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس بات کا اعلان پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پابندی لگانے کا فیصلہ انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت کیا گیا ہے اور پنجاب کی صوبائی حکومت نے تنظیم پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے جس کے بعد اس سلسلے میں وفاقی کابینہ کو سمری بھیجی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریکِ لبیک پر سیاسی حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ تنظیم کے کردار کی وجہ سے پابندی لگائی جا رہی ہے۔ تحریکِ لبیک پاکستان کی جانب سے حالیہ احتجاج کا آغاز پیر کو جماعت کے سربراہ سعد رضوی کی لاہور سے گرفتاری کے بعد ہوا تھا۔ اس دوران جماعت کے کارکنوں نے لاہور، اسلام آباد اور کراچی سمیت متعدد شہروں میں سڑکیں بند کر کے دھرنے دے دیے تھے۔ ان کارکنوں کو منتشر کرنے کی کوششوں کے دوران تصادم میں جہاں تین سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے وہیں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد جان سے بھی گئے۔ تحریکِ لبیک کے سربراہ نے 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کو ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی کیا ہوا ہے۔ حکومت نے اس معاملے پر تحریکِ لبیک سے ایک معاہدہ بھی کیا تھا جس کے تحت پارلیمان میں اس سلسلے میں کارروائی کی جانی ہے۔ شیخ رشید نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے جو معاہدہ کیا تھا وہ اس پر قائم تھی لیکن ’ہماری ان کو منانے کی کوششیں ناکام ہوئیں۔ یہ فیض آباد آنا چاہتے تھے۔ ہم قرارداد اسمبلی میں اتفاق رائے سے پیش کرنا چاہتے تھے، ہماری بڑی کوششیں تھیں لیکن وہ ہر صورت فیض آباد آنا چاہتے تھے، یہ ایسا مسودہ چاہتے تھے کہ یورپ کے سارے لوگ ہی واپس چلے جائیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ مذاکرات پر آنے سے پہلے یہ لوگ سوشل میڈیا پر پلاننگ کرکے آتے تھے اور قانون سوشل میڈیا پر سڑکیں بند کرنے اور بےامنی کے پیغامات دینے والوں کا پیچھا کر رہا ہے۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ تحریکِ لبیک کا سوشل میڈیا چلانے والے افراد کو سرینڈر کر دینا چاہیے جب کہ آج ہم نے ان کو عطیات دینے والوں سے بھی باز پرس کی ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد میں بدھ کی صبح وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی زیر صدارت امن و امان کی صورت حال پر اجلاس منعقد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کے علاوہ سکریٹری داخلہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا جہاں وزیر داخلہ نے شرکا سے کہا کہ ریاست کی رٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے تحریکِ لبیک پر پابندی کے اعلان سے قبل بدھ کو ہی کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اس جماعت کی حمایت کا اعلان سامنے آیا تھا۔ اس بیان میں تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے پر خراجِ تحسین پیش کرنے کے علاوہ تنظیم کو متنبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ حکومت اور عسکری اداروں کی باتوں پر اعتماد نہ کرے بلکہ مسلح جدوجہد کی راہ اختیار کرے۔ ادھر تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنوں کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں پیر سے جاری پرتشدد مظاہروں میں کمی کے بعد بدھ کو حالات میں بہتری نظر آ رہی ہے اور مختلف علاقوں میں حکام نے بند راستے کھلوا لیے ہیں اور نظامِ زندگی بحال کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ شب پولیس نے لاہور اور کراچی میں سعد رضوی سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے ہیں۔ یہ مقدمات قتل، اقدام قتل کی دفعات کے علاوہ امنِ عامہ کے آرڈیننس اور انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے تھے۔ شہر کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے صبح اپنی ٹویٹ میں کہا کہ اسلام آباد کے تمام داخلی و خارجی راستے اور اندرون شہر موجود شاہراؤں کو کلیئر کر دیا گیا ہے جب کہ حکام کے مطابق راولپنڈی کے لیاقت باغ روڈ اور فیض آباد کے علاقوں کو بھی کلیئر کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فیض آباد کے میٹرو بس کے ٹریک پر پولیس حکام ٹی ایل پی کے گرفتار کارکنوں کی پریڈ کروا رہے ہیں جن کے بارے میں ذرائع کا بتانا ہے کہ آج صبح سحری کے بعد ان عناصر کے خلاف آپریشن کیا گیا تاکہ ٹریک پر سے ان کا قبضہ ختم کرایا جا سکے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے تمام راستے اور سڑکیں کھل گئی ہیں اور معمول زندگی بحال ہوگئے ہیں۔ کراچی میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے بلدیہ حب ریور روڈ اور نادرن بائی پاس پر دھرنے جاری تھے لیکن گزشتہ شام سے لیکر رات گئے تک پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں جاری رہیں اور اس کے بعد بلدیہ کا دھرنا بھی ختم ہوگیا۔ اس سے قبل رینجرز کے ڈی جی میجر جنرل افتخار حسن چوہدری کی صدارت میں اجلاس منعقد کیا گیا جس میں کراچی میں تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے باعث پیدا کردہ امن و امان کی صورت حال اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس اجلاس میں وہ تمام اقدامات زیر بحث آئے جن کے ذریعے حکومتی احکامات اور ہدایات کو بروئے عمل لایا جا سکے۔ اجلاس میں مذہبی جذبات کو سیاسی استعمال سے روکنے کےلیے نئی حکمت عملی ترتیب دی گئی اور اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ تمام قانونی ذرائع کے استعمال کے ذریعے عام آدمی کو کسی قسم کی ایسی تکلیف اور پریشانی سے بچایا جائے جو شاہراہوں، کاروبار اور ٹرانسپورٹ کے بند ہونے سے پیدا ہو سکتی ہیں۔ لاہور کے کم از کم دس علاقوں تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنان کی جانب سے دو روز سے جاری مظاہروں کے باعث ابھی بھی بند ہیں اور ٹریفک معطل ہے۔ دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق لگ بھگ دس مقامات پر سڑکیں احتجاج کی وجہ سے بند ہیں جہاں سے ٹریفک کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان میں یتیم خانہ چوک، داروغہ والا، چونگی امر سدھو، کماہاں روڈ، شنگھائی پل، اسکیم موڑ، مانگا منڈی ملتان روڈ، شاد باغ، بھٹہ چوک، بتی چوک، کرول گھاٹی وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم پولیس کے مطابق یتیم خانہ چوک، شنگھائی پل، چونگی امر سدھو، اسکیم موڑ اور داروغہ والا میں حالات زیادہ کشیدہ تھے جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔ لاہور ٹریفک پولیس کے مطابق ان مقامات پر مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کرکے سڑکوں کو بند کر رکھا ہے۔ پولیس کے مطابق شنگھائی پل چونگی امر سدھو میں مظاہرین کی تعداد سو سے زیادہ تھی جہاں مظاہرین میں شامل افراد نے میٹرو بس کے ٹریک سے ٹائل اکھاڑ کر پتھر تیار کیے تھے جو پل کے اوپر سے بھی پولیس پر برسائے جا رہے تھے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق شاہدرہ چوک میں سے رکاوٹیں ہٹائی جا رہیں تھیں جہاں رینجرز کا ایک دستہ بھی تعینات تھا اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کےلیے ٹریفک وارڈن بھی موجود تھے۔ اس علاقے میں دکانداروں کو دکانیں کھولنے کی ہدایات بھی دی گئیں ہیں۔ لاہور انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ گزشتہ رات پولیس نے رینجرز کی مدد سے کئی علاقے مظاہرین سے خالی کروا لیے تھے تاہم جہاں کشیدگی زیادہ دیکھنے میں آئی وہاں تاحال سڑکیں بند تھیں۔ دوسری جانب بدھ کو پولیس تحریکِ لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے سامنے پیش کرے گی جہاں ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ شب سعد رضوی کے خلاف تھانہ شاہدرہ میں قتل، اغوا اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بلوچستان میں تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے پہلے اور دوسرے روز جن علاقوں میں شاہراہیں بند کی گئی تھیں وہاں بدھ کو تیسرے روز صورتحال معمول پر ہے۔ بلوچستان میں پہلے اور دوسرے روز خضدار، حب، نصیر آباد اور سبی میں احتجاج ہوا تھا اور سبی کے سوا باقی علاقوں میں قومی شاہراہوں کو بند کیا گیا تھا۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ پر تشدد احتجاج خضدار میں ہوا تھا جہاں تحریک لبیک پاکستان کا ایک کارکن فوت ہوا تھا تاہم گزشتہ روز کامیاب مذاکرات کے بعد مظاہرین نے کوئٹہ کراچی ہائی وے سے رکاوٹوں کو ختم کر دیا۔ خضدار سٹی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او گل حسن نے بتایا کہ خضدار شہر میں آج کوئی احتجاج نہیں ہورہا ہے اور کوئٹہ کراچی شاہراہ کلیئر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھرنے کے شرکا کے مطالبے پر ان کے کارکن کی موت کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے لیکن پولیس کی جانب سے دھرنے کے شرکا کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے آج صبح کی صورت حال کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ موٹر ویز کھلی ہوئی ہیں لیکن سینٹرل زون میں قومی شاہراہ مختلف مقامات پر احتجاج کے باعث بند ہے۔ ان مظاہروں سے جہاں ملک کے مخلتف شہروں میں سڑکیں بند اور نظام زندگی متاثر ہوا، وہاں سب سے زیادہ مصیبت کا شکار وہ مریض ہیں جو اسپتال تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ گاڑی نہ ملنے اور راستوں کی بندش کی وجہ سے لوگ کئی کئی گھنٹوں کے انتظار کرنے پر مجبور ہوئے۔ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں جہاں لوگ اپنی گاڑیوں سے اتر تحریک لبیک کے کارکنوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ انہیں جانے کا راستہ دیں لیکن ان کی شنوائی نہیں ہوتی۔ ستر سالہ محمود ڈار اس انتظار میں تھے کہ وہ اپنے دل کا علاج کروا سکیں۔ انہیں حال ہی میں دل کا دورہ پڑا تھا اور دل کے تین والو بند ہیں جس پر ڈاکٹرز نے انہیں فوری طور پر بائی پاس کروانے کا کہا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جہلم شہر میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور دو گھنٹوں کا سفر اس لیے نہیں طے کر پا رہے کیوں کہ راستے بند ہیں۔ دوسری جانب ایک اور شخص نے بتایا کہ ان کی بہن اسپتال میں وینٹی لیٹر پر ہیں لیکن اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مظاہروں کی وجہ سے آکسیجن کا بہت کم اسٹاک باقی رہ گیا ہے کیوں کہ آکسیجن سلنڈر روات میں پھنسے ہوئے ہیں۔
