فیصل واوڈا کا بوٹ کاشف عباسی کے گلے پڑ گیا

ایک لایئو ٹی وی پروگرام میں بوٹ کی رونمائی پر فوجی حلقوں کے سخت ترین ردعمل کے بعد ملک میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا نے اے آر وائے نیوز کے پروگرام ‘آف دی ریکارڈ’ اور اسکے میزبان کاشف عباسی پر پیمرا قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں 60 روز کی پابندی عائد کر دی ہے۔
یاد رہے کہ اے آر وائے کے ایک پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے دیگر مہمانوں اور میزبان کاشف عباسی کی موجودگی میں میز کے نیچے سے ایک جوتا نکال کر میز پر رکھ دیا اور پھر یہ کہا کہ لیگی قیادت نے اپنے اصولوں اور نعروں سے پھرتے ہوئے اس جوتے کو لیٹ کر چوما اور چاٹا اور پھر آرمی ترمیمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دے دیا۔ انہوں نے کالے رنگ کے فوجی بوٹ کی چمک کا راز بتاتے ہوئے کہا کہ اس کو نون لیگ والوں نے زبان سے چاٹ کر چمکایا ہے۔
چنانچہ پیمرا کی جانب سے جاری کردہ تحریری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ فیصل واوڈا کا یہ عمل انتہائی ’غیراخلاقی‘ تھا اور ان کی جانب سے دئیے گئے دلائل نہ صرف ’توہین آمیز‘ تھے بلکہ ایک ریاستی ادارے کی ‘تذلیل‘ کرنے کی کوشش تھی۔
تحریری نوٹس میں مزید لکھا ہے کہ پروگرام کے میزبان کا کردار بھی ’انتہائی غیر پیشہ وارانہ‘ تھا جنھوں نے نہ ہی کوئی مداخلت کی اور نہ ہی ایک مہمان کی جانب سے کی گئی غیر اخلاقی حرکت کو روکنے کی کوشش کی اور الٹا اس معاملے کو غیر سنجیدہ انداز میں لیا۔ میزبان کا یہ عمل پیمرا قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس لیے پیمرا قانون کے سیکشن 27 (اے) کے تحت پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ کی نشریات پر 60 روز کی پابندی لگا دی جاتی ہے جس کا اطلاق جنوری 16 سے ہو گا۔ اس کے علاوہ پروگرام کے میزبان کاشف عباسی کی کسی بھی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شرکت پر 60 روز تک پابندی عائد کی جاتی ہے۔‘ پیمرا نے یہ بھی بتا دیا کہ اس پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں اے آر وائی نیوز کو بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پیمرا نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی اور چینل کاشف عباسی کو اپنے پروگرام میں مدعو کرے گا تو اس کے خلاف بھی پیمرا قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ضابطہ اخلاق کے تحت ٹاک شوز اور دیگر ایسے پروگراموں میں چینل کا مالک اور ملازمین اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اگر کسی پروگرام میں نامناسب الفاظ استعمال ہوتے ہیں تو میزبان پر لازم ہے کہ وہ مہمان کو فی الفور ٹوکے اور الفاظ واپس لینے اور معذرت کرنے کا کہے۔ تاہم اس کے برعکس کاشف عباسی وفاقی وزیر کی جانب سے جوتا میز پر رکھے جانے کے بعد مسکراتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ’اچھا یہ بوٹ کس کا ہے؟‘
پیمرا نوٹس کے مطابق کم از کم تین منٹ تک بوٹ پر گفتگو جاری رہتی ہے اور کاشف عباسی پھر سوال داغتے ہیں کہ ’یہ بوٹ کافی چمک رہا ہے۔ کس نے چمکایا ہے اس کو؟‘ جواب میں فیصل واوڈا بتاتے ہیں کہ ’یہ چمک انسان کے ہاتھ کی نہیں ہو سکتی یہ زبان سے چمکا ہوا لگ رہا ہے۔‘ اس گفتگو کے دوران یہ واحد موقع ہوتا ہے جس پر کاشف عباسی کہتے ہیں کہ ’یہ بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ آپ وفاقی وزیر ہیں۔‘ مگر پھر بھی وہ فیصل واوڈا کو میز سے جوتا ہٹانے کا نہیں کہتے اور نہ ہی ٹوکتے ہیں۔ لگ بھگ دس منٹ تک جوتا میز پر موجود رہتا ہے اور بالآخر فیصل واوڈا اسے اٹھا کر واپس زمین پر رکھتے ہیں۔
دوسری طرف کاشف عباسی نے کہا ہے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جتنی جلدی انھیں مداخلت کرنی چاہیے تھی وہ نہیں کر سکے۔ ’میرے لیے یہ ایک حیران کن بات تھی، اسے میں دھچکہ نہیں کہوں گا لیکن آپ ایک وفاقی وزیر سے اس حرکت کی امید نہیں کرتے۔‘ انھوں نے خود پر کی جانے والی تنقید کے جواب میں کہا کہ میں 12 برس سے یہ پروگرام کر رہا ہوں، میں ریٹنگز کے لیے ایسی حرکتیں نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ فیصل واوڈا کی تلاشی کیوں نہیں لی گئی وہ شاید مکمل طور پر لاعلم ہیں کہ یہ پروگرام کیسے چلائے جاتے ہیں؟’یہ ایسے ہی ہے کہ اگر کوئی مہمان آپ کے گھر آئے اور آپ اس کے سامان کی تلاشی لینے لگیں۔‘
کاشف عباسی کی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ ان کے آفس اور سٹوڈیو کے درمیان استقبالیہ ہے۔ ’جب فیصل واوڈا ہمارے آفس آئے تو وہ خالی ہاتھ تھے۔ اینکر پہلے جا کر سٹوڈیو میں بیٹھ چکے تھے۔ جوتے استقبالیے پر ایک خاکی لفافے میں رکھے تھے۔ فیصل واوڈا آفس سے نکل کر استقبالیے پر گئے اور لفافہ وہاں سے اٹھایا۔ آیا یہ وہ خود لے کر آئے تھے یا کوئی اور مجھے معلوم نہیں۔‘ ’ہمیں نہیں معلوم تھا کہ خاکی لفافے میں کیا ہے اور جب انھوں نے پروگرام کے دوران نکالا تو یہ ہمارے لیے بھی حیرت کی بات تھی۔‘
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر نے کہا کہ بنیادی اخلاقیات سے آگاہی اور ان پر عملدرآمد کے لیے کسی ادارے کے ضابطہ اخلاق کی ضرورت نہیں ہوتی۔انھوں نے کہا کہ ایک پروگرام کے دوران جب آپ کے سامنے تین ایسے افراد بیٹھے ہوں جن کے سیاسی خیالات مختلف ہیں تو یہ اینکر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ سوالات کے ذریعے سب کا نقطہ نظر عوام تک پہنچایا جائے کیونکہ اینکر عوامی مفاد میں کام کر رہا ہوتا ہے۔’اگر کوئی مہمان اشتعال انگیز حرکت کرے اور گفتگو کے دوران اچانک میز پر جوتا رکھ دے، خواہ وہ فوجی بوٹ ہو یا عام، تو یہ حرکت بنیادی اخلاقیات کے دائرے میں نہیں آتی اور یہ اخلاق اور تہذیب کی خلاف ورزی ہے۔‘حامد میر کہتے ہیں کہ آپ کو بعض اوقات معلوم نہیں ہوتا کہ کوئی مہمان کیا کرے گا۔ ’مگر ایسا ہونے کی صورت میں میزبان کا فرض بنتا ہے کہ وہ فی الفور مہمان کو ٹوکے اور اس معاملے میں اینکر کو کہنا چاہیے تھا کہ جوتا نیچے رکھیں۔‘ ’اگر مہمان بات نہیں مانتا تو میزبان فوراً پروگرام میں وقفہ لے اور وقفے کے دوران یا تو مہمان کو مجبور کرے کہ وہ اس نوعیت کی حرکت نہ کرے یا خود اٹھ کر یہ کام کرے اور پھر بھی کوئی نہیں مانتا تو انھیں پروگرام سے اٹھا دیں۔‘ انھوں نے بتایا کہ ان کے ایک پروگرام کے دوران ایک مہمان نے دوسرے کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے تو انھوں نے انھیں فوراً ٹوکتے ہوئے درخواست کی وہ اپنے الفاظ واپس لیں مگر انھوں نے انکار کر دیا جس پر حامد میر نے پروگرام میں وقفہ لیا۔ اس مہمان سے بات کی اور بریک سے واپس آ کر نہ صرف اس مہمان نے اپنے الفاظ واپس لیے بلکہ معذرت بھی کی۔
تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اے آر وائے اور کاشف عباسی پیمرا کا فیصلہ تسلیم کرتے ہیں یا اس کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔
