قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں آرمی ایکٹ بل متفقہ طور پر دوبارہ منظور

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے آرمی ایکٹ بل متفقہ طور پر دوبارہ منظور کرلیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں امجد خان نیازی کی صدارت میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی دفاع کا اجلاس ہوا جس میں وزیر دفاع پرویز خٹک کے علاوہ وزارت دفاع کے حکام بھی شریک ہوئے۔
قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس کے دوران پہلے معمول کا ایجنڈا زیر بحث آیا جس کے بعد کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس ہوا جس میں آرمی، نیوی اور ایئرفورس ایکٹس میں ترامیم کا معاملہ زیر غور آیا۔ کمیٹی نے مسلح افواج سے متعلق تینوں ایکٹس میں ترامیم متفقہ طور پر منظور کرلیں.کمیٹی کے چیئرمین امجد خان نیازی نے کہا کہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی پیش کردہ ترامیم سنی تاہم وہ مسودہ قانون کا حصہ نہیں، ترمیمی قوانین متفقہ طور پر منظور کرنے پر تمام جماعتوں کے شکر گزار ہیں
وزیر دفاع پرویز خٹک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے متفقہ طور پر سروسز چیفس مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی مدت ملازمت سے متعلق تینوں بلز کو منظور کرلیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے متفقہ طور پر ترامیم کی منظوری دی گئی، میں پورے ملک اور اپوزیشن جماعتوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ بلز کل (منگل) کو قومی اسمبلی میں ووٹنگ کے لیے پیش کیے جائیں گے۔اس موقع پر صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ٹریک سے پیچھے نہیں ہٹ رہا، ہمیں افواہوں سے گریز کرنا چاہیے، تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہیں۔
علاوہ ازیں بل کی منظوری کے بعد وزیر قانون فروغ نسیم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف (سروسز چیفس کے تقرر کے لیے) ایک پارلیمانی کمیٹی کا رول بنانا چاہ رہے تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ میں نے انہیں قانونی طور پر راضی کیا کہ جو تبدیلی وہ لوگ تجویز کر رہے اس کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کا رول اس وقت ہوتا ہے جب آئینی ترمیم یہ رول بنائے اور دفعہ 243 میں کوئی ترمیم نہیں ہورہی اور نہ ہی سپریم کورٹ نے ہمیں آئین میں ترمیم کا کہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں ترمیم نہیں ہوگی تو پارلیمانی کمیٹی کا رول نہیں بن سکتا اور اپوزیشن نے بڑے دل سے میری بات کو تسلیم کیا۔
واضح رہے کہ جمعے کو ایک ہنگامی اجلاس میں ان ترامیم کی منظوری کے بعد ان بلز کو دوبارہ غور کے لیے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بھیجا گیا تھا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے بل کی منظوری کے بعد اس کی رپورٹ منگل کو ایوان کے سامنے پیش کی جائے گی اور پھر وہاں سے منظوری کے بعد اسی روز اسے مزید کارروائی کے لیے سینیٹ میں بھیجا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی دفاعی کمیٹی سے منگل کو بلز کی منظوری کے بعد اسے بدھ (8 جنوری) کو ایوان بالا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ حکومت کو جلد از جلد ان بلوں کو منظور کروانا چاہتی ہے اسے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں کو ہفتے کو اس وقت ملتوی کرنا پڑا تھا جب اپوزیشن نے حکمراں اتحاد کی جانب سے ‘بہت جلد بازی’ دکھانے پر احتجاج کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا تھا کہ حکومت، اپوزیشن جماعتوں خاص طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مطالبے پر نئی ٹائم لائن پر راضی ہوئی تھی۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے تاحیات قائد نواز شریف کی لندن سے موصول ہونے والی ان ہدایت کی روشنی میں اپنی ٹائم لائن پیش کی تھی، جس میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ یہ بلز 15 جنوری کو منظور ہونے چاہئیں۔
خیال رہے کہ جمعہ کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں برائے دفاع کے اجلاس کے بعد وزیر قانون فروغ نسیم نے اعلان کیا تھا کہ مذکورہ بلز منظور ہوگئے اور سینیٹ کمیٹی سے علیحدہ منظوری کی ضرورت نہیں۔ تاہم وفاقی وزیر کے اس دعویٰ کو اپوزیشن اراکین نے مسترد کردیا تھا۔
