قاسم سلیمانی کی تدفین کےدوران بھگدڑ، 50 افرادجاں بحق

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے آبائی شہر کرمان میں جنازے کے جلوس میں بھگدڑ مچنے سے 50 شرکا جاں بحق اور 215 سے زائد زخمی ہوگئے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے بتایا کہ جنرل قاسم سلیمانی کے آبائی علاقے کرمان میں جلوس کے درمیان بھگدڑ مچ گئی تھی۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے اپنی آن لائن رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد بتائی تاہم انہوں نے معلومات کے ذرائع سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔
قبل ازیں ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے ایرانی کی ایمرجنسی میڈیکل سروسز کے سربراہ پیرحسین کولیوند نے تدفین کے دوران بھگدڑ مچنے کی تصدیق کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بھگدڑ کے نتیجے میں تدفین کے دوران ہمارے کچھ ہم وطن زخمی جبکہ کچھ ہلاک ہوگئے ہیں۔ واقعہ پیش آنے سے قبل قاسم سلیمانی کے آبائی علاقے کرمان کی تدفین میں شریک لاکھوں افراد سے خطاب میں ایران کے پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی نے کہا تھا کہ ہم ایک سخت انتقام لیں گے۔
اس دوران قاسم سلیمانی کی تدفین میں شریک افراد نے امریکا مردہ باد کے نعرے لگائے اور ایرانی پرچم بھی لہرائے۔
حسین سلامی نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی دشمن کےلیے زیادہ خطرناک ہے۔
قبل ازیں ایرانی فوجی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کا جسدِ خاکی تدفین کےلیے ان کے آبائی شہر کرمان پہنچایا گیا تھا۔
گزشتہ روز ایران کے دارالحکومت تہران میں جنرل قاسم سلیمانی کی نمازِ جنازہ میں 10 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایئرپورٹ کے نزدیک امریکی فضائی حملے میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی مارے ہوگئے تھے۔
بعدازاں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ان کے نائب اسمٰعیل قاآنی کو پاسداران انقلاب کی قدس فورس کا سربراہ مقرر کردیا تھا۔ قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے قاسم سلیمانی کو مزاحمت کا عالمی چہرہ قرار دیا تھا اور ملک میں 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔
اسی روز امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو بہت پہلے ہی قتل کر دینا چاہیے تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button