قوم دیکھے گی کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور کسے پسینہ آتا ہے؟

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں دیکھیں گے کہ کس کی ٹانگیں کانپتیں ہیں اور کس کو پسینہ آتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان گلگت بلتستان کے 73 ویں یوم آزادی کی مرکزی تقریب میں شرکت کے لیے گلگت بلتستان پہنچے جہاں انہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میں ایک خوشی کے موقع پر گلگت بلتستان آیا ہوں، جہاں 73 سال قبل گلگت اسکاؤٹس نے اپنی جان کی قربانی دے کر گلگت بلتستان کو آزاد کروایا، مجھے خوشی ہے کہ میں دوسرے سال یہاں خوشی منانے آیا ہوں اور جب تک میں وزیراعظم رہوں گا میری کوشش رہے گی کہ میں یکم نومبر گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ گزاروں۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا میں 15 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ گلگت آیا، جب قراقرم ہائی وے بن رہی تھی، میں اسکول کی ٹریکنگ ٹیم کے ساتھ آیا، مجھے اس وقت جو ٹریکنگ کا شوق ہوا وہ آج تک ہے کیونکہ اس علاقے میں جو ٹریکنگ ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں ہے، تاہم وزیراعظم بننے کا یہ نقصان ہوا ہے کہ میں ٹریکنگ نہیں کرسکتا۔عمران خان کا کہنا تھا آج گلگت اسکاؤٹس اور ان شہدا کو خراج تحسین پیش کرنا تھا جنہوں نے قربانیاں دے کر اس علاقے کو آزاد کروایا، دوسرا مجھے یہاں کے لوگوں کو مبارک باد دینی تھی کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینی ہے جو یہاں کے لوگوں کا مطالبہ تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے گلگت بلتستان انتخابات قریب ہونے کی وجہ سے علاقے کے لیے ترقیاتی پیکج پر بات کرنے سے گریز کیا۔
وزیراعظم کے مطابق ہماری حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ اپنے کمزور طبقے کو اٹھایا جائے، جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں ان کو اوپر اٹھانا اولین ترجیح ہے، ساتھ ہی گلگت بلتستان، قبائلی علاقے اور بلوچستان، پنجاب کے مغربی حصے اور اندرون سندھ پیچھے رہ گیا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ان سب علاقوں کو اوپر اٹھایا جائے، آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے ہمارا سارا ترقیاتی پروگرام ان علاقوں کی طرف جائے گا۔اپنے خطاب میں قوم کو پاکستان کے لیے مضبوط فوج کی اہمیت کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری مسلم دنیا میں دیکھیں اور لیبیا سے شروع کریں پھر صومالیہ، شام، یمن، افغانستان اور عراق کو دیکھیں تو تباہی مچی ہوئی ہے یا تو جنگیں ہوچکی ہیں یا ہورہی ہیں اور عوام مشکل کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یہ دیکھیں کہ ہمارے ملک کا جو ہمسایہ ہے بھارت وہاں وہ حکومت ہے جو 73 سال کی سب سے زیادہ انتہا پسند، مسلمانوں اور پاکستان سے نفرت کرنے والی ہے، جو وہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں اور 2 قانون بنائے ہیں وہ ان کے خلاف ہیں تاکہ انہیں برابر کا شہری نہ سمجھا جائے جبکہ جو 5 اگست 2019 کو جو انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں کیا وہ کسی بھارتی حکومت نے نہیں کیا جو اس انتہا پسند، نسل پرست حکومت جو ہندوتوا کا نعرہ لےکر آئی ہے اس نے کیا۔
اپنے خطاب کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ ہمیں کتنی مضبوط پاکستانی فوج اور سیکیورٹی فورسز کی ضرورت ہے، کوئی ہفتہ ایسا نہیں گزرتا جب پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے جوان قربانی نہ دیں، سابقہ قبائلی علاقوں سے لیکر بلوچستان اور کبھی کبھی کراچی تک ایک پورے پلان کے ساتھ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی جارہی ہے جبکہ ان کے سامنے ہمارے فوجی اور سیکیورٹی فورسز کھڑی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح کی دہشت گردی گزشتہ 15 سال میں ہوئیں اور ملک کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کی ہم اپنی سیکیورٹی فورسز کو داد دیتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کی وجہ سے آج ہمارا وہ حال نہیں جو کئی دیگر مسلمان ممالک کا ہے۔
دوران خطاب انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ نریندر مودی کی حکومت یہ پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہ رہی ہے، بھارت نے منصوبہ بندی کی ہوئی تھی کہ ملک میں شیعہ، سنی علما کو قتل کروایا جائے اور انتشار پھیلایا جائے لیکن میں اپنی انٹیلی جنسی ایجنسیوں کو داد دیتا ہوں جنہوں نے ان کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کل کے دنوں میں ایک منصوبہ بنا ہوا ہے اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو جمہوریت پسند سیاست دان کہتے ہیں انہوں نے پاکستانی فوج اور عدلیہ کو بدنام کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے، جب میں وزیراعظم بنا تو میں نے کہا کہ جنہوں نے اس ملک کو 30 سال لوٹا اور پیسہ چوری کرکے باہر لےکر گئے وہ سب اکٹھے ہوجائیں گے، یہ میرے خلاف اس لیے اکٹھے ہوں گے کیونکہ میری مہم ہی کرپشن کے خلاف ہے۔
وزیراعظم کے مطابق میں نے کہا تھا کہ جس چیز میں پاکستان کا فائدہ ہے اس میں ان کا نقصان ہے اور جس میں ان کا فائدہ ہے اس میں پاکستان کا نقصان ہے، یہ لوگ چاہتے ہیں ان کی ساری کرپشن اور لوٹے ہوئے پیسے پر کہ کسی نہ کسی طرح مجھے بلیک میل کریں اور میں انہیں این آر او دے دوں، یعنی انہیں معاف کردوں، تاہم پاکستان کا فائدہ ایک چیز میں ہے کہ یہاں قانون کی بالادستی ہو، کمزور اور طاقتور کے لیے ایک قانون بنے۔
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا مفاد پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے جو آج ثابت بھی ہورہا ہے، سب اکٹھے ہوگئے ہیں، پہلے انہوں نے مجھے معیشت، انتخابات اور کورونا پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد ایف اے ٹی ایف پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی، جب میں بلیک میل نہیں ہوا تو انہوں نے پاکستانی فوج، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف بندوقیں تانی ہوئی ہیں، تاہم میں شکر ادا کرتا ہوں کہ اگر یہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے خلاف بات کر رہے ہیں تو مطلب میرا انتخاب بالکل ٹھیک تھا کیونکہ ڈاکو جب ان کے خلاف بول رہے تو یہ ٹھیک لوگ ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسلام اور برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ پڑھیں تو مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان میر جعفر اور میرصادق نے پہنچایا، یہ وہ غدار تھے جنہوں نے صرف ذاتی فائدے کے لیے اندر سے سازش کرکے اقوام کو غلام بنادیا۔انہوں نے کہا کہ ’ہم آج پاکستان کے میرجعفر، میر صادق اور میر ایاز صادقوں کو دیکھ رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو آج نریندر مودی کی زبان بول رہے ہیں‘، دنیا نے کہا کہ جس طرح پاکستان نے پلوامہ کے بعد اپنا ردعمل دیا اس پر مجھے تمام سربراہان مملکت کے مبارکباد کے پیغامات آئے جبکہ ’یہ کہہ رہا کہ پاکستان نے ڈر کر کیا’۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد ایک ہے کہ کسی نہ کسی طرح عمران خان بلیک میل ہو ان کی اربوں روپے کی لوٹی ہوئی دولت کے لیے این آر او دے دے، میں آج قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کبھی ان ڈاکوؤں کو معاف نہیں کرے گا بلکہ جس طرح انہوں نے عدلیہ پر حملہ کیا اور فوج پر دباؤ ڈالا ہوا ہے یہ صرف اس لیے ہے کہ ہم اتنے دباؤ میں آئیں کہ انہیں معاف کردیں۔انہوں نے کہا کہ اب تک میرا پورا زور معیشت کو ٹھیک کرنے پر تھا لیکن اب معیشت کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی پر بھی اتنا ہی زور لگاؤں گا اور ریاست کے اداروں کو میں خود دیکھوں گا کہ قانون کی بالادستی قائم کریں اور اس ملک کے طاقتور مجرم جو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں قانون کے نیچے لےکر آئیں اور آنے والے دنوں میں قوم دیکھے گی کہ کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور کس کے ماتھے پر پسینہ آتا ہے۔
خیال رہے کہ یکم نومبر 1947 کو گلگت اسکاؤٹس کی قیادت میں گلگت بلتستان کے لوگوں ڈوگرا گورنر کے خلاف کھڑے ہوئے تھے اور ڈوگرا راج سے گلگت بلتستان کی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کا پرچم تھامہ تھا۔اپنے دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان استور نیشنل پارک سمیت دیامر بھاشا ڈیم سائٹ کا دورہ بھی کریں گے اور تعمیراتی کام کا جائزہ لیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button