لاہور: وباء پھیل گئی، 6 لاکھ 70 ہزار سے زائد کرونا کیسز

صوبائی پرائمری اینڈ سیکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو دو ہفتے قبل ایک خطرناک سمری پیش کی گئی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں ‘کوئی بھی کام کی جگہ یا رہائشی علاقہ بیماری سے محفوظ نہیں’ جبکہ صرف لاہور میں 6لاکھ 70ہزار 800 کورونا کے نئے کیسز کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
مزید یہ کہ شہر کے تمام علاقے متاثرہ ہونے کی وجہ سے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی مخالفت کی گئی تھی جبکہ سمری میں بتایا گیا کہ اور علامات کے بغیر سامنے آنے والے کیسز شہر میں انفیکشن اور مقامی سطح پر وائرس کی منتقلی کا بنادی ذریعہ ہیں۔
سمری میں بتایا گیا کہ ایک طریقہ کار وضع کر کے چند مقامات پر اہداف مقرر کر کے لوگوں کے ٹیسٹ کیے (آر ٹی ایس) اور اسمارٹ سیمپلنگ (ایس ٹی) بھی کی گئی، لوگوں کے ٹیسٹ کرنے کا مقصد لاک ڈاؤن کے دوران بھی کام کرنے والوں میں بیماری کی موجودگی کا پتہ لگانا تھا جبکہ اسمارٹ سیمپلنگ کے ذریعے عام آبادی میں وائرس کے پھیلاؤ کا پتہ چلا۔
سمری میں بتایا گیا کہ اس طریقہ کار کے بعد یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چلا کہ ایک کروڑ 10لاکھ آبادی کے حامل لاہور شہر میں اس وقت کورونا وائرس کے 6لاکھ 70ہزار 800 کیسز موجود ہیں البتہ یکم جون تک پورے صوبہ پنجاب میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کورونا کے مریضوں کی تعداد 26ہزار 240 ہے اور 497 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
اس عمل سے مقامی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ اور منتقلی کی ایک انتہائی خطرناک شکل نکل کر سامنے آئی جس سے شہر میں مختلف اہم مقامات اور وائرس کا مرکز تصور کیے جانے والی کام کی جگہوں اور رہائشی علاقوں سے رپورٹ ہونے والے کیسز کا موازنہ کیا جا سکتا ہے اور وہاں آر ٹی ایس کے کیسز کی شرح 5.18فیصد اور اسمارٹ سیمپلنگ کی شرح 6.01 ہے۔
وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی سمری کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں کوئی بھی کام کی جگہ یا رہائشی علاقہ اس بیماری سے محفوظ نہیں اور لاہور میں وائرس کی منتقلی کا ایک خطرناک رجحان نظر آرہا ہے۔صوبائی دارالحکومت میں کیے جانے والے ٹیسٹس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جن لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے ان میں سے 6فیصد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جبکہ شہر کے کچھ علاقوں میں یہ شرح 14.7فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جن کیسز میں علامات ظاہر نہیں ہو رہیں وہ کیسز کی طور پر رپورٹ نہیں ہو رہے لیکن یہ کیسز کی منتقلی اور انفیکشن کا اصل ذریعہ ہیں۔اگر شہر کے ہر ٹاؤن کا جائزہ لیا جائے تو واہگہ کے سوا تمام ٹاؤن کی اوسط تین فیصد سے زائد بنتی ہے اور یہ شرح 2.11 اور 9.33 فیصد کے درمیان ہے۔وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی سمری کے مطابق 50 سے زائد عمر کے افراد سانس کی بیماریوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جیسا کہ ہم عالمی تحقیق میں بھی دیکھ چکے ہیں۔
سمری میں تجویز دی گئی کہ لاؤک ڈاؤن کے نفاذ یا اس کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ اکیلے نہیں لیا جانا چاہیے، اس بات کا فیصلہ اتفاق رائے اور ثبوتوں کی روشنی میں کیا جائے۔
وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کو بھیجی گئی سمری میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاہور میں کرونا وائرس خطرناک حد تک پھیل گیا ہے، کوئی بھی رہائشی علاقہ اور قصبہ وبا سے محفوظ نہیں ہے۔سیکریٹری محکمہ صحت کیپٹن ریٹائرڈ عثمان کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کی جانب سے 15 مئی کو وزیر اعلی پنجاب کو لاہور میں کرونا کے کیسز کی صورتحال کے حوالے سے سمری ارسال کی گئی ہے۔
وزیر اعلی پنجاب کو بھیجی گئی سمری میں بتایا گیا ہے کہ کرونا کے ہاٹ سپاٹ،رہائشی اور کام کی جگہ سے سیمپل لیے گئے ۔عمومی طور پر لیے گئے سیمپلز میں 5.18 اور اسمارٹ سیمپلنگ میں 6.1 فیصد ٹیسٹ مثبت آئے۔سمری میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تمام سیمپلز میں 6 فیصد کا ٹیسٹ پازیٹو رہا۔ جبکہ بعض ٹاؤنز میں سات اعشاریہ چودہ فیصد رہا۔محکمہ صحت کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو بھیجی گئی سمری میں لاہور میں کرونا کے اصل نئے مریضوں کا اندازہ 6 لاکھ 70ہزار لگایا گیا ہے۔



سمری میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ تناسب لاہور میں خطرناک حد تک دکھائی دیتا ہے، کوئی بھی رہائشی علاقہ ایسا نہیں جہاں یہ بیماری نہ ہو۔محکمہ صحت کے ٹیکنیکل ورکنگ گروپ نے لاہور میں چار ہفتوں کے مکمل لاک ڈاؤن کی سفارش کی ہے۔سمری میں سفارش کی گئی کہ پچاس سال سے اوپر کے لوگوں کو قرنطینہ میں یا پھر علیحدہ رکھا جائے اور لوگوں کا گھروں میں رہنا لازمی قرار دیا جائے۔
