لاہور کی ’اُوما‘ دلیپ کمار کی کامنی کوشل کیسے بنی؟

یہ لاہور کی اُوما کی کہانی ہے۔ وہ اُوما جو آج بھی ہمہ وقت اداکاری کے لیے تیار رہتی ہے۔ اس نے میٹرک تک لاہور کے ایک سکول سے تعلیم حاصل کی جس کے بعد اس کا داخلہ کنیرڈ کالج میں کروا دیا گیا۔پروفیسر شیو رام کی بیٹی اُوما نے آنے والے دنوں میں کامنی کوشل کے نام سے شہرت حاصل کی۔ وہ کامنی کوشل جو کبھی لاہور کی پوش بستی راج گڑھ کے ایک بنگلے میں رہا کرتی تھی۔ یہ لاہور کا وہ علاقہ ہے جو آج ماضی کی گرد میں کہیں کھو چکا ہے۔
1946 میں ریلیز ہونے والی فلم ’نیچا نگر‘ کے ذکر کے بنا بالی ووڈ کی تاریخ نامکمل ہے۔ یہہے جس کی ہدایات چیتن آنند نے دی تھیں۔چیتن آنند نے اگرچہ بعدازاں فلم حقیقت، ہیررانجھا، قدرت، ٹیکسی ڈرائیور اور دور درشن پر نشر ہونے والے ڈرامہ سیریل پرم ویر چکرا کی ہدایات بھی دیں مگر یہ فلم ’نیچا نگر‘ ہی تھی جس نے لاہور کی کامنی کو راتوں رات ہندوستان بھر میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
دو سال قبل 1944 میں بالی ووڈ لیجنڈ دلیپ کمار بھی اپنا ڈبیو کر چکے تھے۔ دونوں اداکار 1948 میں ریلیز ہونے والی فلم ’شہید‘ میں ایک ساتھ نظر آئے جس نے ایک ایسی پریم کہانی کو جنم دیا جس کا دردناک انجام ہوا۔
دلیپ کمار فلم کی شوٹنگ کے دوران لاہور کی شوخ و چنچل ’کڑی‘ کامنی کو دل دے بیٹھے۔ کامنی بھی دلیپ کمار کی وجاحت سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکیں۔ دونوں میں محبت پروان چڑھنے لگی۔ وہ شادی کے بندھن میں بندھنے پر تیار تھے مگر کامنی کوشل کے بھائی کی مخالفت کی وجہ سے یہ شادی نہ ہو سکی۔
اس مخالفت کی ایک وجہ کامنی کا شادی شدہ ہونا بھی تھا۔ یہ لاہور کا ایک معمول کا دن تھا جب کامنی کوشل کی بہن اوشا کیشپ ایک کار حادثے میں چل بسیں۔ ان کی بچیوں کی دیکھ بھال کے لیے کامنی نے ان کے شوہر سے شادی کر لی جس کے باعث کامنی کے لیے اس رشتے سے نکلنا آسان نہیں تھا۔
انہوں نے ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’لوگ ہم دونوں کو ایک ساتھ فلموں میں دیکھنا پسند کرتے تھے۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ دلیپ صاحب ایک فطری اداکار تھے۔ وہ اداکاری کرنے کے لیے کوئی محنت نہیں کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی اُن کا اردو زبان پر عبور مثالی تھا۔‘
کامنی کیشپ آج سے 97 برس قبل جنوری 1927 میں پیدا ہوئیں۔ وہ کالج کے دنوں میں آکاش وانی ریڈیو پر ڈراموں میں اداکاری کیا کرتی تھیں جب چیتن آنند نے ان کی آواز سنی تو انہیں فلم ’نیچا نگر‘ میں کاسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کو کامنی کا نام بھی چیتن آنند کا دیا ہوا ہی ہے تاکہ فلم میں ایک ہی اُوما یعنی اُن کی بیوی ہی نظر آئیں۔
ریڈیو کے دنوں میں ہی کامنی نے امتیاز علی تاج کے یادگار ڈرامے ’انارکلی‘ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وہ رفیع پیر کے ساتھ بھی ڈراموں میں کام کرتی رہیں۔ یوں وہ کم عمری میں ہی فنونِ لطیفہ کے مختلف ذائقوں سے آشنا ہو گئی تھیں۔
انہوں نے انگریزی ادب میں بی اے آنرز کیا مگر اداکاری کی وجہ سے ایم اے کرنے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔
کامنی کوشل کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب فلم ’پونم‘ کی کاسٹ ٹرین کے ذریعے کولکتہ جا رہی تھی۔ ایک فین ان کے کمپارٹمنٹ میں داخل ہو گیا اور ان کا سرہانہ چرا لیا۔ وہ جاتے ہوئے ایک نوٹ چھوڑ گیا جس پر لکھا تھا کہ ’اگر آپ کو تکیہ چوری میں کوئی رومانس دکھائی دیتا ہے تو میں آپ کا چور پریمی ہوں۔‘
منوج کمار کی سال 1965 میں ریلیز ہونے والی فلم سے اداکارہ کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوا۔ انہوں نے اس حوالے سے فلم فیئر میگزین سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’منوج نے مجھے ماں کا کردار ادا کرنے پر مجبور کیا۔ میں نے احتجاج کیا کیونکہ میں صرف 40 سال کی تھی اور اس کے سامنے بہت چھوٹی دکھائی دیتی تھی۔ لیکن اس نے بہت زبردست فلمیں بنائیں۔‘
کامنی جی نے فلم فیئر میگزین کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں دلیپ کمار سے ایک تقریب میں ہونے والی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’انہوں نے مجھے نہیں پہچانا۔ میرا دل ٹوٹ گیا۔ مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ وہ میری جانب خالی نظروں سے گھور رہے تھے۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور میں نے ان کی جانب۔ ان کے لیے کسی کو بھی پہچاننا مشکل ہو رہا تھا۔ یہ میرے لیے افسوس ناک تھا۔ ہم نے ایک ساتھ ایک پورا عہد گزارا تھا۔‘
آج جب اداکارہ اپنی 97 ویں سالگرہ منا رہی ہیں تو وہ بہت کچھ بھول جاتی ہیں۔ جو لمحوں میں سکرپٹ یاد کر لیا کرتی تھیں، ان کے لیے چند لفظوں کی ادائیگی بھی مشکل ہو گئی ہے۔ وہ واحد ایسی اداکارہ ہیں جن کے ساتھ پران، راج کپور اور دیو آنند جیسے سپرسٹارز نے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔کامنی کوشل ہی وہ پہلی اداکارہ تھیں جن کے لیے سُروں کی ملکہ لتا منگیشکر نے کسی لیڈ کردار کے لیے پہلی بار پلے بیک سنگنگ کی تھی۔
کامنی جی کو فلم فیئر کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ وہ آج بھی ہمہ وقت اداکاری کے لیے تیار رہتی ہیں مگر اب ان کے وہ ساتھی اداکار کہاں جو ان کے نبض شناس تھے۔ امید ہے کہ ان کا جذبہ یوں ہی جواں رہے اور وہ دوبارہ کسی فلم میں نظر آ جائیں۔
