لاہور کے تبلیغی اجتماع سے دوبارہ کرونا پھیلنے کا خدشہ


تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال حکومت پنجاب کی ہے جس نے تبلیغی جماعت کو ایک مرتبہ پھر لاہور میں اپنا سالانہ اجتماع عام منعقد کرنے کی اجازت دے دی ہے حالانکہ پچھلے اجتماع سے لاکھوں لوگ کرونا وائرس میں مبتلا ہو کیرئیر بنے تھے اورپھر اس موذی وائرس کو پورے ملک میں پھیلا دیا تھا۔ اب مولانا طارق جمیل کی سفارش پر تبلیغی اجتماع منعقد کرنے کی خصوصی اجازت دیتے ہوئے حکومت پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ اس اجتماع میں کسی بھی صورت پچاس ہزار سے زائد افراد کو شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری طرف طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت جبکہ کرونا دوبارہ پھیل رہا ہے پچاس ہزار افراد کو ایک جگہ اکٹھا ہونے کی اجازت دینا ایک سانحے سے کم نہیں ہے اور اگر اب دوبارہ یہ وائرس پنجاب بھر میں پھیلا تو اس کی ذمہ دار صرف اور صرف حکومت ہوگی۔
یاد رہے کہ ہر سال صوبہ پنجاب کے علاقے رائیونڈ میں تبلیغی جماعت کا اجتماع منعقد ہوتا ہے جس میں ملک اور بیرون ملک سے لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں۔ رواں برس مارچ میں جب تبلیغی جماعت کے ارکان رائیونڈ کے تبلیغی سینٹر سے اپنے مقرر کردہ علاقوں تک تبلیغ کی غرض سے پہنچے تو پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آ چکی تھی، اور تبلیغی جماعت کے اراکین میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہونے لگی تھی۔ 6 نومبر کو دوبارہ اس اجتماع کا آغاز ہونے جا رہا ہے تاہم کرونا وائرس کی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اجتماع کی انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ کے مابین بعض معاملات طے پائے ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان معاملات کی روشنی میں دیکھا جائے تو اب کا رائیونڈ اجتماع گذشتہ اجتماعات سے کافی مختلف ہو گا۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر اس دفعہ اجتماع میں شرکا کی زیادہ بڑی تعداد کی شرکت پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اجتماع انتظامیہ کے مطابق مارچ میں ہونے والے مجمعے میں دو لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی لیکن اس مرتبہ شرکا کی تعداد کو کم کر کے 50 ہزار تک رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے اور بیرون ملک سے آنے والے افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اسی طرح انڈیا سے صرف پانچ علما خصوصی اجازت کے بعد اجتماع میں شرکت کریں گے۔ یاد رہے کہ پچھلے تبلیغی اجتماع کے بعد بھارت میں میں مسلمانوں کو کرونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا تھا اور یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ملک میں سب سے ذیادہ وائرس تبلیغی اجتماع کے شرکاء سے پھیلا۔
رائے ونڈ کے سالانہ اجتماع کے بارے میں ڈی سی لاہور مدثر زیاض نے بتایا کہ ‘کرونا وائرس کی وجہ سے اجتماع کی انتظامیہ نے خود ہی رضاکارانہ طور پر اس بات پر آمادگی کا اظہار کر دیا تھا کہ ہم شرکا کی تعداد کم سے کم رکھیں گے۔ جس کے بعد ہم امید کر رہے ہیں کہ جو جماعت میں شامل ٹولیوں کی تعداد کم ہو گی اور 50 ہزار کے قریب افراد شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ دو مرحلوں پر مشتعمل اجتماع کو اس دفعہ ایک مرحلے تک ہی محدود کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد صرف آٹھ حلقے اجتماع میں شرکت کریں گے۔ جس میں کراچی، پشاور، لاہور، سوات، ملتان، ڈیرہ اسماعیل خان، بلوچستان،فیصل آباد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی شخص کو انفرادی طور پر اجتماع میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ اجتماع گاہ کی چار دیواری کے اندر ہی تمام ضروریات کا انتظام کیا جائے گا۔ ڈی سی لاہور کا یہ بھی کہنا تھا کہ اجتماع میں داخل ہونے والے شخص کو ایک دفعہ اندر جانے کے بعد تین دن سے پہلے باہر آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ این سی او سی اور محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ کورونا ایس او پیز بھی اجتماع کے شرکا کو دے دی گئی ہیں جن کا خیال رکھتے ہوئے یہ اجتماع تین دن تک جاری رہے گا۔ ایس اور پیز کے تحت اجتماع گاہ میں ٹھہرنے اور سونے کی ترتیب کے مطابق دو بستر کی بیچ میں ایک بستر کے درمیان فاصلہ رکھا جائے گا۔ شرکا آپس میں بھی چار فٹ کے فاصلے پر بیٹھیں گے۔
اجتماع کے پنڈال کو چاروں طرف سے بند رکھا گیا ہے۔ اجتماع میں شرکت کے لیے ضلعی مرکز سے خاص پرچہ ساتھ لانے والے پر ہی شرکت کی اجازت دی جائے گی جبکہ پنڈال میں داخل ہونے کے لیے ماسک لازمی قرار دیا گیا۔اجتماع کے اختتام پر شرکا کا ایک ساتھ نکلنا منع ہو گا۔ یعنی اجتماع سے جماعتوں کا خروج نہیں ہو گا بلکہ حسب ترتیب اپنے اپنے علاقوں اور مراکز کے مطابق جماعتیں نکلیں گی۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک احاطے میں پچاس ہزار افراد کو کئی روز اکٹھے رکھنا کرونا وائرس کے بم کو ایٹم بم میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے اور ایسا کرکے حکومت ایک بہت بڑی غلطی کر رہی ہے جس کا خمیازہ پوری پاکستانی قوم کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا ایک مریض سینکروں افراد تک اپنا وائرس منتقل کر سکتا ہے لہذا پچاس ہزار افراد میں سے اگر چند درجن لوگ بھی اس موذی مرض میں مبتلا ہوئے تو پھر متاثرین کی تعداد ہزاروں سے لاکھوں میں چلی جائے گی۔
دوسری طرف تبلیغی جماعت کے روح رواں مولانا طارق جمیل کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی بات نہیں ہے اور ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اپنائی جارہی ہیں تاکہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ کم سے کم ہو سکے۔ انکا کہنا ہے کہ رائیونڈ اجتماع کی تمام تر انتظامی ذمہ داریاں ان کی اپنی انتظامی ٹیموں کے سپرد ہوتی ہیں۔ جبکہ ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی نافذ کرنے والے ادارے اجتماع کے معاملات ان کے ساتھ مل کر دیکھتے ہیں۔ اجتماع میں پارکنگ اور پہرہ دینے کی خدمات ادا کرنے والے افراد کا قیام پنڈال سے باہر کیا جائے گا۔ جبکہ اجتماع گاہ کے اندر کھانے کی چار کنٹینیں ہوں گی۔ جہاں سے شرکا کھانا لے کر اپنی مختص کی گئی جگہ پر جا کر کھا سکیں گے۔ اس کے علاوہ عارضی ہسپتال کا قیام اور ریسکیو حکام کو ڈیوٹی پر مامور کیا گیا ہے تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال پیش آنے کی صورت میں ان کی خدمات حاصل کی جا سکیں۔ معمول کے مطابق رائیوئڈ اجتماع کے اختتام پر مختلف اضلاع میں جانے والی ٹولیاں پہلے ضلعی مرکز میں جاتی ہیں اور پھر انھیں آٹھ سے دس افراد کی چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم کر کے مختلف علاقوں کی مساجد میں تبلیغ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
لیکن بتایا گیا ہے کہ اس سال ایسا نہیں کیا جائے گا۔ ڈی سی لاہور مدثر ریاض کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ہم اجتماع کے تین دن کے دوران اجتماع کے شرکا میں کورونا وائرس کی موجودگی دیکھنے کے لیے رینڈم ٹیسٹنگ کریں تا کہ ہمیں صورتحال کا اندازہ ہو سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اجتماع کی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں اور ان کی جانب سے ہر قسم کا تعاون کیا جا رہا ہے۔ اس لیے اجتماع میں شریک ہر ایک شخص کی تفصیلات بھی رکھی گئی ہیں تاکہ پچھلی دفعہ کی طرح ہمیں کسی قسم کی مشکل کا سامنا ہو۔ جبکہ ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب شرکا رائیونڈ سے روانہ ہوں تو انھیں خود سے اپنے آپ کو کم از کم دس دن تک اپنے گھر میں ہی قرنطینہ کرنا لازمی ہوگا۔ تاہم پچھلی دفعہ بھی اجتماع کی اجازت دیتے وقت مقامی انتظامیہ نے اسی طرح کے بلند و بانگ دعوے کیے تھے لیکن بعد ازاں کرونا وائرس تیزی سے پھیل گیا اور اجتماع کے کرتا دھرتا افراد کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button