کسان کے ’قتل‘ میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

ٹھوکر نیاز بیگ میں احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مبینہ طور پر بورے والا کے ایک کسان کی موت کے بعد پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ گزشتہ چند روز میں مزید بڑھ رہا ہے۔
پولیس کے لاٹھی چارج اور واٹر کینن میں آلودہ پانی کے استعمال کی وجہ سے مظاہرے میں شریک کسانوں کا ایک ساتھی کی موت ہونے پر کارروائی پر زور دیتے ہوئے کسانوں نے پولیس افسر کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے جس نے اس کا حکم دیا تھا۔ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سکریٹری فاروق طارق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت غلط دعویٰ کر رہی ہے کہ اشفاق لنگڑیال کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا تھا جب کہ وہ پولیس تشدد اور منگل کی رات ٹھوکر نیاز بیگ میں اپنے حقوق کے متلاشی پرامن کسانوں کو منتشر کرنے کےلیے پولیس کی جانب سے واٹر کینن میں کیمیائی پانی کے استعمال کی وجہ سے انتقال ہوا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کلپ کا ذکر کیا جس میں ایک آفیسر کو مظاہرین کے خلاف اپنے ماتحت افسران کو پانی کے استعمال کا حکم دیتے ہوئے دیکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ’غیر قانونی‘ احکامات دینے پر گرفتار کیا جانا چاہیے اور کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) عمر شیخ کو بھی ہٹایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں پر کیمیکل ملا پانی پھینکنا جنگی جرم ہے، اب پولیس پر امن مظاہرین کے خلاف جنگی ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے۔ فاروق طارق کا کہنا تھا کہ کسان کی موت کے بارے میں سرکاری موقف سراسر غلط اور گمراہ کن ہے جب کہ حکومت نے احتجاج کرنے کے اپنے آئینی حق کو استعمال کرنے والے کسانوں کے خلاف سختی کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے کسانوں کا ایک گروہ منگل کے روز شہر کے جنوبی داخلی راستوں پر گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار اور گنے کی قیمت 300 روپے فی من اور فارم ٹیوب ویلز کےلیے 5 روپے فی یونٹ کی شرح مقرر کرنے کےلیے اکٹھا ہوا تھا۔ رات دیر گئے کارروائی میں پولیس نے ان کو منتشر کرنے اور ملتان روڈ پر ٹریفک کی بحالی کےلیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا تھا۔
اشفاق لنگڑیال لاٹھی چارج کے دوران چوٹ لگنے سے گر گئے تھے اور مبینہ طور پر کیمیکل ملا پانی ان کے پھیپڑوں میں چلا گیا تھا۔ اگلے روز اس کی طبیعت خراب ہونے پر اسے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ چند گھنٹوں کے بعد انتقال کرگیا تھا۔ فاروق طارق نے دعوی کیا کہ پولیس نے 187 مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی جن میں 40 نامعلوم افراد بھی شامل تھے جسے وہ بظاہر اس کے ساتھی کی موت پر کسانوں سے مذاکرات سودے بازی کے طور پر استعمال کریں گے۔
دوسری جانب پاکستان کسان اتحاد کے رہنما کی نماز جنازہ بورے والا میں ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ اشفاق لنگڑیال کے آبائی علاقے بورے والا میں چک 150/ای بی میں ادا کی گئی جہاں ہر شعبہ زندگی بالخصوص کسانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر اشفاق لنگڑیال کے بھائی ملک اعجاز اور ملک اشتیاق نے پولیس حکام کے خلاف قتل کے مقدمے کا مطالبہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button