ماضی کا ناکام وزیر خزانہ شوکت ترین اب کیسے کامیاب ہوگا؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ماضی میں دو مرتبہ بطور وزیر خزانہ ناکام ہو کر چلے ہوئے کارتوس کا خطاب پانے والے شوکت ترین کے بارے میں معاشی ماہرین یہ سوال کر رہے ہیں کہ اس مرتبہ وہ کیوں اور کیسے کامیاب ہو پائیں گے؟
شوکت ترین کو قومی خزانے کی کنجی سونپے جانے پر ناقدین یہ الزام لگا رہے ہیں کہ کپتان اپنی حکومتی ٹیم میں اس طرح تبدیلیاں کرتے ہیں جیسے یہ ان کی کرکٹ ٹیم ہو۔ تاہم پے در پے تبدیلیوں کے باوجود ملکی معاشی صورتحال میں بہتری آنے کی بجائے مزید ابتری آئی ہے۔ معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر شوکت ترین بغیر کسی تفریق اور سیاسی طاقت اور لابی کے دباؤ کے بغیر ٹیکس اصلاحات لائیں گے اور معشیت کا پہیہ چلائیں تو بہتر ہوگا ورنہ ان کا مستقبل بھی ماضی کی طرح ناکامی ہی ہو گا اور انکا حال بھی وہی ہو جو ان کے پیشرو وزرائے خزانہ کا ہوچکا ہے۔
تحریک انصاف حکومت کے دوران تین بار وزیر خزانہ تبدیل کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے وزیر خزانہ اسد عمر رہے، اسکے بعد حفیظ شیخ کو لایا گیا اور اس کے بعد حماد اظہر کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ لیکن اب صرف 18 روز بعد ہی شوکت ترین کو یہ منصب سونپ دیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے تین وزراء خزانہ بدلنے کے بعد اب شوکت ترین نامی جس ناکام بینکر کو وزیر خزانہ لگایا ہے وہ ماضی کی دو حکومتوں میں خزانے کے معاملات چلانے میں ناکام رہے تھے۔ شوکت ترین کے کریڈٹ پر ملک میں کئی فلاپ بینک بھی ہیں۔ اس وقت بھی شوکت ترین سلک بینک میں بڑے شیئر ہولڈر ہیں تاہم یہ بینک بھی تیسرے درجے کا مالیاتی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ سلک بینک سے پہلے شوکت ترین یونین بینک اور پاک سعودی بینک کی تباہی میں اپنا حصہ ڈال چکے ہیں. ناقدین کا کہنا ہے کہ شوکت ترین کو وزیر خزانہ لگانا ایسے ہی ہے جیسے کسی زخمی ہو کر میدان سے باہر جانے والے ان فٹ کھلاڑی کو انتہائی ضرورت کے وقت مجبوراً وقت گزاری کے لئے دوبارہ میدان میں اتار دیا جائے،، مگر ایسے کھلاڑی سے کسی کرشمے کی توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی۔ گذشتہ اڑھائی برسوں میں ملکی معیشت کا جنازہ نکال دینے والی تحریک انصاف حکومت نے 2023 کے عام انتخابات سے قبل ترقی کے پہیے کی رفتار میں اضافہ کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے مشن کی تکمیل کے لیے اب سینئر بینکر شوکت ترین کو میدان میں اتارا ہے اور انہیں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ یاد رہے شوکت ترین اس سے قبل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی حکومتوں کے ساتھ کام کا ناخوشگوار تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ شوکت ترین کی پیدائش ملتان میں کرنل ڈاکٹر جمشید کے گھر میں ہوئی، مختلف کینٹونمنٹ سکولوں میں زیر تعلیم رہنے کے بعد انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ انھوں نے 1975 میں سٹی بینک میں ایک ٹرینی کے طور ملازمت اختیار کی اور پھر سٹی بینک تھائی لینڈ کے صدر کے منصب پر فائز رہے۔ سٹی بینک کے ساتھ 22 سال منسلک رہنے کے بعد 1997 میں نواز شریف حکومت کے کہنے پر وہ پاکستان آئے اور انھوں نے حبیب بینک کی ری اسٹریکچرنگ کی جس کے نتیجے میں یہ بینک 230 ملین ڈالرز کے خسارے سے 30 ملین ڈالرز منافع میں آگیا۔ 2000 میں وہ حبیب بینک سے بطور صدر فارغ ہوئے اور یونین بینک میں ملازمت اختیار کی جس کے شیئرز سٹینڈرڈ چارٹرڈ کے حوالے کر دیے گئے اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک ختم کر دیا گیا۔ 2008 میں وہ کراچی سٹاک ایکسچینج کے صدر رہے، بعد ازاں وہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پہلے یوسف رضا گیلانی کے مشیر خزانہ اور بعد میں سندھ سے ٹیکنو کریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب ہونے کے بعد وزیر خزانہ لگا دیے گے۔ تاہم بطور خزانے کا وزیر ناکامی کے بعد وہ فروری 2010 میں اچانک مستعفی ہوگئے، جس کی وجہ انہوں ذاتی مصروفیات بیان کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ تھی کہ سلک بینک میں شوکت ترین کے چھیاسی فیصد حصص تھے اور نئے سرمایہ کاروں کا یہ مطالبہ تھا کہ وہ بینک کے کاروبار کو مکمل وقت دیں۔ یاد رہے کہ ان دنوں شوکت ترین ایوان بالا میں امیر ترین سینیٹر تھے۔ الیکشن کمیشن میں جمع گوشواروں کے مطابق ان کے پاس چوّن کروڑ پچپن لاکھ کی جائیداد، دو کروڑ اٹھارہ لاکھ روپے کی گاڑیاں اور مختلف مالیاتی ادراوں اور بینکوں میں تین ارب روپے کی سرمایہ کاری بھی تھی۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شوکت ترین بطور نئے مشیر خزانہ جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ چاہتے ہیں تاکہ ترقی کا پہیہ تیزی رفتاری سے گھومے۔ شوکت نیا منصب سنبھالنے سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ گروتھ پر فوکس کریں گے، اس میں وہ ہاؤسنگ کے شعبے پر کام کریں گے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت کا ترقیاتی فنڈ ، جوپچھلے دو برسوں میں بہت کم خرچ کیا گیا ہے اس کو ترقیاتی کاموں میں خرچ کریں گے۔ تیسرا چین اقتصادی راہدری کا پورا استعمال کریں گے اور چین کو کہیں کہ یہاں کارخانے لگائیں خاص طور پر چمڑے اور ٹیکسٹائل وغیر کے شعبے میں تاکہ یہاں سے ایکسپورٹ میں اضافہ ہو اور ملک میں باہر سےپیسہ آئے۔
معاشی امور کے ماہر مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ شوکت ترین خوش قسمت ہیں کہ انہیں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور اسد عمر سے بہتر حالات ملے ہیں۔ ان کے بقول اکنامک ہمیشہ گروتھ فطری ہوتی ہے، مصنوعی طور پر اس کو عارضی بنیادوں پر ہی بڑھایا جاسکتا ہے۔ حکومت اور آئی ایم ایف سب نے اس سال کا تخمینہ لگایا تھا کہ ڈیڑھ فیصد گروتھ ہوگی لیکن جیسے جیسے یہ مالی سال ختم ہو رہا ہے اس کا تخمیہ بڑھا دیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک اور حکومت نے یہ شرح تین فیصد کردی ہے اور ہم کہہ رہے ہیں کہ چار سے پانچ فیصد آئے گی کیونکہ گندم کی بمپر فصل ہوئی ہے۔ مزمل اسلم کے بقول اتفاق کی بات ہے کہ جو برا وقت تھا گذر گیا اور شوکت ترین کو ایک آئیڈیل ٹائم میں قلمدان ملا ہے کیونکہ زر مبادلہ کےغیر ملکی ذخائر کھڑے ہوچکے ہیں، ترسیلات بہتر ہوچکی ہیں۔ شوکت ترین کا اصل کارنامہ یہ ہوگا کہ وہ معاشی شرح نمو کو 6 فیصد تک لے کر جائیں کیونکہ بات تبھی بنے گی۔عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کو مالی مدد کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سمیت دیگر شرائط بھی عائد کی ہیں۔ مزمل اسلم کہتے ہیں کہ شوکت ترین کو یہ ٹاسک بھی دیا گیا کہ آئی ایم ایف کو بتائیں کہ ہم بجلی کی قیمتیں مزید نہیں بڑھا سکتے، آئی ایم ایف سے یہ رعایت لینا ترین کے لئے کڑا چیلنج ہوگا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شوکت ترین بطور ایک بزنس مین، بینکر اور سابق وزیر خزانہ زیاد کار آمد ہوسکتے ہیں۔ عمر کے جس حصے میں وہ ہیں، لگتا ہے کہ وہ سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ آئی ایم ایف کا جو بہت سخت پروگرام ہے اس میں رہتے ہوئے معشیت کو کیسے بحال کیا جائے؟ اس پروگرام میں رہتے ہوئے ایک ایسا فریم ورک دیں جس سے مہنگائی کم ہو، روزگار بڑھے اور جی ڈی پی کی گرورتھ میں اضافہ ہو۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی اپنی اندر کی سیاست ہے اور بیورو کریسی کی سیاست ملکی معیشت کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ اس حکومت میں جتنے وزرا اور مشیر تبدیل ہوئے ، وہ عوامی دباؤ کی وجہ سے نہیں نکالے گئے بلکی اندرونی حکومتی سیاست کے باعث ناکام ہونے کی وجہ سے فارغ ہوئے۔ لہازا موجودہ حالات میں شوکت ترین کے لیے ایک چیلنج یہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست سے آزاد رہیں تاکہ وہ تو وہ ڈیلیور کرسکیں ورنہ ان کے لیے بھی وہی پرانی مشکلات پیدا ہوتی رہیں گی۔
ماہر معاشیات، نجکاری اور حکومت کی ٹیکس اصلاحات کمیٹی کے سابق رکن اشفاق تولہ کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز معشیت بٹھاکر چلے گئے تھے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو آئی ایم ایف کا ایک نقشہ ملا جس پر عمل پیرا کیا گیا۔ شوکت ترین جانتے ہیں اس پر عمل کرنے سے کیا تباہی ہوئی اگر وہ دوباہ اسی تصویر کو پینٹ کرتے ہیں تو تباہی مقدر بن سکتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف عقل کل نہیں ہے۔ 20 ارب ڈالر کی رقم پاکستان جیسے ملک کو جس کے کھربوں ڈالرز کے اثاثے ہیں، کہیں سے بھی بطور کمرشل قرضہ مل سکتا ہے۔ اشفاق تولہ کا کہنا ہے کہ اگر شوکت ترین بغیر کسی تفریق اور سیاسی طاقت اور لابی کے دباؤ کے بغیر ٹیکس اصلاحات لائیں گے اور معشیت کا پیہ چلائیں تو بہتر ہوگا ورنہ ان کا مقدر بھی وہ ہی ہوگا جو ان کے پیشرو کا ہوچکا ہے۔
