PDM سے علیحدگی کے بعد بلاول کی مولانا سے پہلی ملاقات

PDM سے علیحدگی کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زراری نے بتایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ میشن، نیب آرڈیننس سمیت دیگر منتازع بلز کو متحدہ اپوزیشن کی صورت میں ناکام بنا دیا ،حکومت کی ہر سازش کو متحدہ ہو کر ناکامی سے دوچار کریں گے۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن سے اسلام آباد میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فضل الرحمٰن سے پیپلز پارٹی کے تعلق کی طویل تاریخ موجود ہے ، ہم سب پارلیمنٹ میں ایک ہو کر امور انجام دیتے ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے ساتھ تعلقات قائم رہیں گے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ دھاندلی سے آنے والے حکومت کو انتخابی اصلاحات کا کوئی حق نہیں ہے ، موجودہ حکومت ہماری تجاویز کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اگر حکومت جعلی طریقے سے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرکے گی جو پارلیمنٹ کی روایت کے منافی تصور ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت ایک قانون سازی میں شکست کھا چکی جس کے بعد انہیں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ملتوی کرنا پڑا اگر حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دوبارہ طلب کیا تو اسی اتحاد کے ساتھ اس کی نفی کرینگے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری ہمارے مہمان ہے اور روایت کا تقاضہ ہے کہ کوئی ایسی بات نہیں کی جائے جس سے تکلیف پہنچے۔ بلاول بھٹو زرداری سے تمام امور پر بات نہیں ہوئی ہے ، آج کی ملاقات خیر سگالی کا مظاہر ہے۔

واضح رہے کہ انتخابی اصلاحات سے متعلق 11 نومبر کو پارلیمنٹ کا اہم مشترکہ اجلاس ہونا تھا لیکن وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے دو روز قبل ہی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس مؤخر کردیا ۔ ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو جائے۔

Back to top button