نواز دور میں طالبان سے جنگ اور کپتان دور میں صلح کیوں؟

پاکستانی فوج کی جانب سے عمران خان حکومت کے ایما پر تحریک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع ہونے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر 85 ہزار پاکستانیوں کو مروانے کے بعد انکے قاتلوں سے دوستی ہی کرنا تھی تو پھر وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں مذاکرات کی ایسی ہی حکومتی کوشش کامیاب بنوانے کے بجائے عسکری قیادت نے فوجی آپریشن کیوں شروع کیا تھا؟
یاد رہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو روکنے کے لیے معروف لکھاری عرفان صدیقی کی قیادت میں ایک مذاکراتی کمیٹی بنائی گئی تھی۔ تاہم تب کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر قیادت فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مذاکرات میں حصہ ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے یہ مذاکرات ناکام ہوئے۔ بعد ازاں فوج نے وزیراعظم کو اعتماد میں کیے بغیر تحریک طالبان کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کر دیا جس کے ردعمل میں طالبان نے پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا اور سو سے زائد معصوم بچوں کو شہید کردیا۔
یاد رہے کہ اس وقت تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر قیادت فوجی اسٹیبلشمنٹ اور وزیراعظم عمران خان ایک ہی صفحے پر ہیں۔ دوسری جانب نواز شریف دور میں بنائی گئی حکومتی مزاکراتی کمیٹی میں کوئی فوجی افسر شامل نہیں ہوا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب جو ٹیم تحریک طالبان سے مذاکرات کر رہی ہے اس میں کوئی سویلین شامل نہیں ہے۔
2013 میں نواز شریف حکومت کے دور میں تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر عرفان صدیقی فوجی قیادت کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے عدم تعاون کی تصدیق کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ تب تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکومت کو عسکری قیادت کا تعاون نہیں ملا تھا۔ اردو نیوز سے ایک انٹرویو میں عرفان نے کہا کہ ’طالبان سے مذاکرات کے لیے عسکری قیادت یکسو نہیں تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف 2013 کے الیکشن سے قبل ہی امن وامان بحال کرنے کا ذہن بنا چکے تھے اس کیے الیکشن جیتنے کے بعد حلف اٹھانے سے پہلے انھوں نے اسلام آباد ایئرپورٹ کے راول لاؤنج میں افغانستان میں پاکستان کے سفیر محمد صادق اور دیگر افراد کو بلایا اور اس معاملے پر تفصیلی اجلاس کیا اور اپنی سوچ کے بارے میں آگاہ کیا۔‘
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات اول و آخر نواز شریف کا اپنا ذہن تھا، اپنا فیصلہ تھا اور اپنا منصوبہ تھا۔ اس لیے حکومت بننے کے بعد وہ یہی کوشش کرتے رہے کہ کس طرح اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ اس حوالے سے انہوں نے ایک آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی جس میں تمام جماعتیں شرہک تھیں، عسکری قیادت بھی موجود تھی، اور آرمی چیف بھی تھے۔ عمران خان سمیت تمام پارٹیوں کے سربراہ شریک تھے۔ وہاں اتفاق رائے ہوا کہ ہم نے مار دھاڑ نہیں کرنی، ہم نے طالبان کے خلاف کوئی آپریشن نہیں کرنا۔ اس میٹنگ میں عمران خان نے بڑا زوردار موقف اپنایا تھا کہ امن اور بات چیت کے ذریعے معاملہ آگے بڑھانا چاہیئے۔ لیکن عرفان صدیقی نے بتایا کہ عمران نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی کمیٹی کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا، ہم نے عمران خان سے حکومتی کمیٹی میں اپنی پارٹی کا نمائندہ دینے کا کہا تو انہوں نے رستم شاہ مہمند کو مقرر کیا۔
عرفان صدیقی کے بقول ان مذاکرات کے دوران بھی ایک دن نواز شریف مجھے اور چوہدری نثار علی خان کو ساتھ لے کر کسی پروٹوکول کے بغیر بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ پر پہنچے، جہاں مجھے کہا گیا کہ میں عمران اور تحریک انصاف کی قیادت کو مزاکرات بارے پیش رفت سے آگاہ کروں لہذا میں نے انھیں بریف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ’تب تحریک طالبان سے مذاکرات بارے عسکری قیادت یکسو نہیں تھی بلکہ یہ فیصلہ کر چکی تھی کہ اس نے فوجی آپریشن کرنا ہے۔ بقول عرفان صدیقی ہمیں عسکری قیادت کی جانب سے کوئی معاونت نہیں ملی کوئی مشاورت نہیں ملی۔ اس معاملے پر انکا ہم سے رابطہ ہی نہیں رہا۔ عسکری قیادت مذاکراتی عمل کے حوالے سے کوئی ہمدردانہ یا موافقت والا تاثر نہیں رکھتی تھی۔ طالبان کی جانب سے مذاکرات میں سنجیدگی، امن کی خواہش اور مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیٹر نے کہا کہ انہیں طالبان میں سنجیدگی نظر نہیں آئی کیونکہ جہاں سنجیدگی ہوتی ہے وہاں شرطیں نہیں لگائی جاتیں بلکہ اخک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کی جاتی ہے تاکہ بات آگے بڑھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے اور امید تھی کہ حل نکل آئے گا لیکن یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔
‘اس کی وجہ یہ ہے کہ طالبان کی کمانڈ میں یکسوئی نہیں تھی۔ ہم انکی شوریٰ سے بات کر رہے تھے اور اسکے لوگ خود ہمیں کہتے تھے کہ بہت سے طالبان ہماری کمانڈ سے باہر ہیں۔ وہ واردات کر دیتے ہیں جو ہمارے ذمے لگ جاتی ہے۔
عرفان صدیقی نے کہا کہ ‘ہم طالبان کو کہتے تھے کہ آپ ان لوگوں سے لاتعلقی کا اظہار کریں، مذمت کریں، لیکن وہ یہ بھی نہیں کرتے تھے۔ اس طرح سے مذاکرات ہچکولے کھاتے رہتے تھے اور بات آگے بڑھ نہیں پاتی تھی۔ پھر ایک مرحلہ ایسا آ گیا کہ کمانڈر عمر خالد خراسانی نے 23 اغوا شدہ ایف سی اہلکار شہید کر دیے جبکہ ہمارے مذاکرات جاری تھے۔ یعنی جان بوجھ کر کوشش کی گئی کہ مذاکرات ناکام ہو جائیں۔‘
یاد رہے کہ یہ سانحہ اکتوبر 2014 میں ہوا جسکے بعد دسمبر 2014 میں سانحہ پشاور اے پی ایس ہو گیا۔ یوں تب کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے تحریک طالبان کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کر دیا۔ عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کی ناکامی کے بعد آپریشن ضرب عضب حکومت یا وزیراعظم نواز شریف کو بتائے بغیر شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اچانک خبر ملی کہ ضرب عضب شروع ہو گیا ہے۔ میاں صاحب نے ایک چھوٹی سی میٹنگ بلائی۔ میں بھی اس کا حصہ تھا، چوہدری نثار علی خان بھی تھے۔ اس میں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے طالبان کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو چکے تھے اور ہم بھی محسوس کرتے تھے کہ شاید آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، لیکن ہمیں اعتماد میں لینا چاہیے تھا، بتانا چاہیے تھا۔‘
‘پھر انہوں نے چوہدری نثار علی خان سے کہا کہ آپ اسمبلی میں جائیں اور ظاہر ہے اب ہمارے سامنے سوائے اس آپریشن کی حمایت کے اور کوئی راستہ نہیں ہے، ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں بتائے بغیر آپریشن شروع ہوا ہے، یہ ریاست کا معاملہ ہے۔ چوہدری صاحب نے اس سے گریز کیا اور کہنے لگے کہ یہ لیول ایسا ہے کہ آپ کو خود بات کرنی چاہیے۔‘ عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد نواز شریف اسمبلی گئے اور مذاکرات کا پس منظر بیان کرنے کے بعد انھوں نے آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا۔‘
