متنازعہ فلم ’’زندگی تماشا‘‘ 2 برس سے ڈبے میں بند کیوں ہے؟

فلم ساز سرمد کھوسٹ کی متنازع فلم ’’زندگی تماشا‘‘ مرکزی سنسر بورڈ کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات کے بعد دو برس سے ڈبے میں بند ریلیز ہونے کا انتظار کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ اس فلم نے ستمبر 2019 میں ریلیز ہونا تھا لیکن تحریک لبیک کے دباؤ پر مرکزی سنسر بورڈ نے اسکی نمائش روک دی تھی۔ بعد ازاں سنسر بورڈ نے ایک عجیب فیصلہ کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کو فلم پر اپنی رائے دینے کو کہہ دیا۔ تحریک لبیک نے فلم پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اس میں علامہ خادم حسین رضوی کے کردار کو مسخ کر کے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا گیا ہے۔
سرمد فلم ’زندگی تماشا‘ میں مذہبی افراد کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی کہانی ایک اچھے مولوی کے گرد گھومتی ہے اور اس میں کسی بھی شخص، فرقے یا مذہب کی غلط ترجمانی نہیں کی گئی۔ فلم کے ٹریلر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دکھایا گیا یے کہ مذہب اور سیاست کا لبادہ اوڑھے لوگ کس طرح اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سرمد کھوسٹ نے فلم میں مولوی کا جو کردار رکھا ہے وہ علامہ خادم حسین رضوی ہیں۔
تاہم اب علامہ خادم رضوی کو گزرے بھی ایک برس بیت چکا لیکن سرمد کھوسٹ کی فلم ڈبے میں بند پڑی ہے اور اس کے مستقبل کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جا رہا۔ فلم کے مستقبل سے مایوس اسکے ہدایتکار سرمد نے “زندگی تماشہ” کی ریلیز رکوانے کے بعد سے کوئی پیشرفت نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی سینما کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سنسر بورڈ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ان کی فلم سنسر کرنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دی تھی لیکن وہاں سے بھی کوئی فیصلہ نہیں آ رہا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اتنے پیسے لگا کر انکی بنائی فلم کو سنسر بورڈ اور اسلامی نظریاتی کونسل والے ڈبے میں بند کر کے لمبی تانے سو رہے ہیں۔
اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اداکار عرفان کھوسٹ کے بیٹے سرمد نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ میں نے کافی عرصے سے ضبط کرر کھا ہے، میں نہیں چاہتا تھا کہ میری جانب سے طوفانی غم وغصے کا اظہار ہو لیکن اب میں آپ کو ایک لطیفہ سناتا ہوں‘‘۔ سرمد کھوسٹ نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ فلم اور ٹی وی ایک برادری ہیں، جی ہاں یہ ایک لطیفہ ہے اور ایک متضاد بات بھی۔
یاد رہے کہ فلم "زندگی تماشہ” کا ٹریلر جاری ہونے کے بعد تحریک لبیک کی جانب سے کافی تنقید کی گئی تھی اور فلم کا ٹریلر یوٹیوب سے بھی ہٹادیا گیا تھا۔ اسے ترمیم کے بعد دوبارہ اپ لوڈ کیا گیا تاہم لبیک کی جانب سے مخالفت میں کمی نہیں آئی۔ اس کے بعد سرمد کھوسٹ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے وزیر اعظم عمران خان کے نام ایک کھلا خط بھی لکھا تھا جس میں فلم کی نمائش میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا جبکہ مولانا خادم حسین رضوی کے ہمدردوں کی جانب سے ہدایتکار، پروڈیوسر اورعملے کو دھمکیاں ملنے کا بھی انکشاف کیا تھا۔
خیال رہے کہ سرمد کھوسٹ کی ہدايتکاری ميں بننے والی اس فلم کے مرکزی کرداروں میں عارف حسین، سمیعہ ممتاز، علی قریشی اور ایمان سلیمان شامل ہیں۔ اندرون لاہور کی زندگی کے تلخ حقائق ،نشيب و فراز اور گلی محلوں میں بسنے والے عام کرداروں کے گرد گھومتی فلم ”زندگی تماشا‘‘ریلیز سے قبل ہی بوسان فلم فیسٹیول میں’’ کم جیسوئک‘‘ ایوارڈ بھی حاصل کرچکی ہے۔ دوسری جانب کئی تاریخوں کے اعلان کے باوجود فلم تاحال ریلیز نہیں ہو سکی، اب سرمد کھوسٹ کی جانب سے ایک بار پھر فلم کو آئندہ برس ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فلم سال 2022 میں بھی ریلیز ہو پاتی ہے یا نہیں؟
