جنہوں نے الیکشن نہیں لڑا انہیں مخصوص نشستیں کیوں دی جائیں؟ سپریم کورٹ

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آئین کہتا ہے کہ اگر اسمبلی میں آزاد ارکان کی تعداد 90 فیصد ہو تو بھی مخصوص نشستیں 10 فیصد ارکان رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو ہی ملیں گی، انہوں نے حلف آئین پر اٹھایا ہے، صرف یہ دیکھیں گے کہ آئین میں کیا لکھا ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ جنہوں نے انتخابات لڑنے کی زحمت ہی نہیں کی انہیں کیوں مخصوص نشستیں دی جائیں؟

سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین یہ بھی کہتا ہے کہ مخصوص نشستیں سیاسی جماعت کی جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے ہی ملیں گی، کسی سیاسی جماعت کو اس کی جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے زیادہ نشستیں نہیں دی جاسکتیں۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ مخصوص نشستوں کی فہرست جنرل الیکشن سے پہلے جمع کرانی ہے۔ جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب تک یہی ہوتا آیا ہے کہ فہرست پہلے جمع کرانی ہے اور آپ نیا سسٹم سامنے لے آئے ہیں۔ سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ سسٹم نیا نہیں لائے، مسئلہ نیا سامنے آیا ہے، اس کےلیے حل بھی نیا ڈھونڈنا ہوگا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مسئلہ بھی تو آپ نے پیدا کیا ہے۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مسئلہ انتخابی نشان کیس کے فیصلے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو ماننے والی بات ہے کہ پی ٹی آئی نے انتخابات میں بہت غلط فیصلے کیے، تحریکِ انصاف نے اپنی غلطیوں کو بار بار دہرایا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ ہمارے سامنے درخواست گزار سنی اتحاد کونسل ہے، آپ کو تحریکِ انصاف کا امیدوار سمجھا جائے یا سنی اتحاد کونسل کا؟ آپ تحریکِ انصاف کے امیدوار کے وکیل ہیں، سنی اتحاد کونسل کی بات نہیں کہہ سکتے۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ صاحب! آپ عدالت کے سامنے 2 مؤقف اپنا رہے ہیں، ایک مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ اگر انہوں نے غلط تشریح کر لی، آپ تو غلط تشریح نہیں کرتے۔

Back to top button