ملک میں آنیوالی پریشانی کے ذمہ دار ہم خود ہیں
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک میں آنے والی پریشانی کے ذمہ دار ہم خود ہیں، ہم نے پاکستان کا غلط تصور پیش کیا، ہم نے پاکستان کی اُس تصویر کو اپنی زندگی میں دیکھا ہے جب پاکستان کا وزیر اعظم امریکا جاتا تھا تو امریکی صدر اس کا ایئرپورٹ پر استقبال کرتا تھا۔
عمران خان نے وزارت خارجہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی زندگی سیدھی لکیر پر نہیں چلتی، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے پر ہونے والے فیصلوں میں شریک تھا، میں نے قریب سے دیکھا کہ کیا فیصلے ہو رہے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان فیصلوں کے اثرات پڑتے ہیں، یہ ایسا ہے کہ کینسر کا علاج ڈسپرین سے کیا جائے، مجھے خوشی ہے کہ اب دنیا کے سامنے پاکستان کی تصویر بہت مثبت ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ کرونا جیسے بحران سو سال میں ایک بار سامنے آتے ہیں، ہم نے اس طرح کی مشکلات کا سامنا کیا لیکن اس کے باوجود پاکستان کا تصور مثبت ہے اور اس کی ایک مثال اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا حالیہ اجلاس ہے۔
انھوں نے کہا کہ تمام مسلم ملک اور اقوام متحدہ ہمارے مقصد کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم 15 اگست سے یہی کہہ رہے ہیں کہ طالبان کی حکومت آپ کو پسند ہو یا نہیں ہمیں انسانیت کے لیے کھڑے ہونا ہے۔
