مولانا کو تنہا کر کے ان سے حساب برابر کرنے کا منصوبہ تیار


ریاستی اداروں کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے اور منصوبہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو مولانا سے دور کرنے اور انہیں تنہا کرنے کے بعد ان کے ساتھ حساب برابر کیا جائے۔ لیکن یاد رہے کہ ایک تو مولانا مکمل تنہا کبھی نہیں ہوں گے اور دوسرا یہ کہ ایسی کوشش کا مولانا کو جو نقصان ہوگا سو ہوگا، لیکن اگر ان کو دیوار سے لگانے کی پالیسی میں شدت آئی تو یہ عمل جتنا عمران خان کے لیے فائدہ مند ہوگا، اتنا ہی ریاست پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے اپنے تازہ تجزیے میں کیا ہے۔ صافی کا کہنا یے کہ اس وقت پاکستان کے قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں یا تو پی ٹی ایم کا بیانیہ چل رہا ہے یا پھر بلوچ قوم پرستوں کا۔ ابھی تک دونوں فالٹ لائنز میں ان قوتوں کو جے یو آئی کارنر کررہی تھی کیونکہ وہ اسلام اور پاکستان کی بات کررہی تھی۔ اب اگر مولانا بھی منظور پشتین، محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل جیسی سخت ریاست مخالف زبان استعمال کرنے لگے تو ان علاقوں میں ریاست کا دفاع کرنے والی سیاسی قوت کوئی باقی نہیں رہ جائے گی۔ صافی کہتے ہیں کہ اس لیے میں عرض کرتا ہوں کہ مولانا کو دیوار سے لگانے کی کوششوں کا عمران خان کو تو فائدہ ہوگا لیکن ریاست کو نقصان ہوگا۔

انکے مطابق ابھی تو پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی جیسی قومی جماعتوں کی وجہ سے مولانا اور قوم پرست لیڈروں کا بیانیہ کافی نرم ہوجاتا ہے لیکن اگر پی ڈی ایم سے قومی جماعتوں کی یہ چھتری ہٹ گئی تو ریاستی اداروں سے متعلق ان لوگوں کا لہجہ اور عمل مزید تلخ ہونا بعید از قیاس نہیں۔ وہ کہتے ہین کہ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ مولانا فضل الرحمٰن نسلاً افغان ہیں، ان کا ناصر قبیلہ افغانستان سے ڈی آئی خان منتقل ہوا تھا۔ گزشتہ بیس برسوں میں ہم نے مولانا کو حامد کرزئی طرز کی سیاست کرتے دیکھا ہے لیکن اگر ان کو دیوار سے لگایا گیا تو خاکم بدہن، وہ ملا محمد عمر بھی بن سکتے ہیں جنہیں سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔
اس لیے میری گزارش ہے کہ مولانا کو حامد کرزئی رہنے دیا جائے، ملا عمر بننے پر مجبور نہ کیا جائے۔ باقی مرضی ہے ریاست پاکستان میں اپنی مرضی چلانے والوں کی۔

مولانا فضل الرحمان کی اصول پسندی اور ضد پر اڑ جانے کے حوالے سے ایک پرانا واقعہ سناتے ہوئے سلیم صافی کہتے ہیں کہ یہ 1988کا ذکر ہے، تب میاں نوازشریف، مقتدر حلقوں کےاسی طرح لاڈلے تھے، جس طرح اب عمران خان ہیں اور ان سے پیپلز پارٹی کے خلاف وہ کام لیاجارہا تھا جو اس وقت مسلم لیگ(ن) وغیرہ کے خلاف خان صاحب سے لیا جارہا ہے۔
1988 کے انتخابات کے بعد صورت حال ایسی بن گئی کہ نواز شریف صرف اس صورت میں وزیراعظم بن سکتے تھے کہ مولانا کے ووٹ بھی ان کو جاتے، مولانافضل الرحمٰن نے مفتی محمود مرحوم کی رحلت کی بعد سیاست جنرل ضیا الحق کی مخالفت اور جیل جانے سے شروع کی تھی اور پیپلز پارٹی کی قیادت میں چکنے والی ایم آر ڈی کا حصہ رہ کر جنرل ضیا کی آمریت کی مزاحمت کررہے تھے۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد جنرل اسلم بیگ نے انہیں مبارکباد کی آڑ لے کر ڈی آئی خان فون کیا اور یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ نواز شریف کا ساتھ دیں۔ اگلے دن نواز شریف ان کے پاس پہنچ گئے اور ساتھ دینے کی صورت میں ہر طرح کا لالچ دیا۔ لیکن مولانا کا اصرار تھا کہ چونکہ نوازشریف ضیا الحق کے کیمپ کے آدمی ہیں، اس لیے وہ یہ یوٹرن نہیں لے سکتے۔

صافی کہتے ہیں کہ چند روز بعد مولانا نے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کسی کی حمایت یا مخالفت کرنے کے فیصلے کے لیے اپنی جماعت کی شوریٰ کا اجلاس لاہور میں طلب کیا۔ اجلاس سے ایک روز قبل انہیں اچانک سعودی عرب سے رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل کی کال آئی کہ کل لاہور میں ان کا نمائندہ ان سے ملنا چاہتاہے۔ درمیان میں خالد خواجہ وغیرہ بھی آگئے۔
چند لمحے بعد مولانا کو اس سعودی کا فون آیا، جس کا ذکر رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری نے کیا تھا۔ان کا نام شیخ صواف تھا۔ یہ میٹنگ لاہور کے فائیو اسٹار ہوٹل کے ایک کمرے میں ہوئی اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دوسرے کمرے میں خود نواز شریف بھی موجودتھے۔ شیخ صواف نے مولانا فضل الرحمٰن سے کہا کہ وہ نواز شریف کو سپورٹ کریں۔ انہوں نے یہ دلائل بھی دئیے کہ عورت کی حکمرانی اسلام میں حرام ہے اور اگر انہوں نے یہ کام کیا تو وہ پورے عالم عرب کے علما سے مولانا کے حق میں بیانات دلوا دیں گے کہ انہوں نے عورت کی حکمرانی کا راستہ روکا۔

لیکن مولانا نے یہ کہہ کر سیخ صواف سے معذرت کرلی کہ یہ فیصلہ ان کی شوریٰ نے کرنا ہے۔ اس دوران صواف نے اشاروں کنایوں میں انہیں کروڑوں ریال کی بھی پیشکش کی جس کا مولانا نے برا منایا۔ دوسری طرف جنرل حمید گل نے بھی تمام حربے استعمال کئے لیکن مولانا فضل الرحمٰن نے نواز شریف کو ووٹ نہ دے کر بے نظیر بھٹو کی حکمرانی کا راستہ ہموار کر دیا اور یوں وہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بن گئیں۔ اس کے بعد صدارتی الیکشن کا مرحلہ آیا تو تب کے ارمی چیف جنرل اسلم بیگ نے مولانا کو گھر بلا کر غلام اسحاق خان کو سپورٹ کرنے کا کہا لیکن مولانا نے نوابزادہ نصراللہ کو کھڑا کر دیا۔ یہ تھے ابتدائی دنوں کے مولانا فضل الرحمٰن جو اپنے اسلاف کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی مخالف سمت میں چل رہے تھے۔ تاہم جب افغانستان میں دیوبندی طالبان اسٹیبلشمنٹ کے فیورٹ بنےتو مولانا فضل الرحمٰن کی نہ صرف دوستی ہوگئی بلکہ انہوں نے ان کے ساتھ جوڑتوڑ اور مصلحتوں کی سیاست شروع کی اور 2018 تک کرتے رہے لیکن الیکشن کے بعد مولانا دو وجوہات کی وجہ سے برہم ہوئے۔

صافی کے مطابق ایک تو وہ سمجھتے ہیں اور ٹھیک سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ دہی اور دھاندلی سے کام لیا گیا۔ دوسرا وہ عمران خان کے بارے میں سازشی تھیوریز پر یقین رکھتے ہیں۔ 2018 کے انتخابات کے بعد جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) اپنی اپنی ڈیل کی کوششوں میں مصروف تھیں، مولانا فضل الرحمٰن عمران خان اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف تسلسل کے ساتھ اپوزیشن کرتے رہے۔ گزشتہ سال وہ اسلام آباد دھرنا دینے آئے لیکن ان سے چند وعدے کرکے انہیں دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کر لیا گیا۔ اب ان کی ناراضی میں یہ بات بھی شامل ہوگئی ہے کہ جن وعدوں کی بنیاد پر ان کو اٹھایا گیا، وہ پورے نہیں ہوئے۔ جب عمران خان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیلیں ناکام کروا دیں تو پیپلز پارٹی آگے بڑھی اور اے پی سی بلاکر اور پی ڈی ایم تشکیل دے کر مولانا فضل الرحمٰن کو اس کا سربراہ بنادیا۔ ابتدا میں دونوں جماعتوں نے بڑا جارحانہ رویہ اپنایا۔ میاں صاحب نے بھی بڑے بڑے جرنیلوں کے نام لینے شروع کئے اور پیپلز پارٹی نے پختون تحفظ موومنٹ کے محسن داوڑ تک کو پی ڈی ایم میں شامل کرا لیا۔ لیکن جب اسٹیبلشمنٹ کے پیپلز پارٹی سے رابطے ہوئے تو وہ پھر مصلحت کی سیاست پر اتر آئی۔ اب مسلم لیگ(ن) پر محنت ہورہی ہے اور بڑی حد تک وہ بھی ڈانواں ڈول ہوگئی ہے لیکن مولانا کا لہجہ دن بدن تلخ ہوتا جارہا ہے۔ کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو مولانا سے دور کرکے اور انہیں تنہا کرکے ان کے ساتھ حساب برابر کیا جائے۔

ریاستی اداروں کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے اور ایجنڈا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو مولانا سے دور کرنے کے بعد ان کے ساتھ حساب برابر کیا جائے۔ لیکن صافی کہتے ہیں کہ یاد رہے کہ ایک تو مولانا مکمل تنہا کبھی نہیں ہوں گے اور دوسرا یہ کہ ایسی کوششوں کا مولانا کو جو نقصان ہوگا سو ہوگا، لیکن اگر ان کو دیوار سے لگانے کی پالیسی میں شدت آئی تو یہ عمل جتنا عمران خان کے لیے فائدہ مند ہوگا، اتنا ہی ریاست پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button