PIA کی اپنا ضبط شدہ جہاز چھڑوانے کےلیے بھاری جرمانے کی ادائیگی


پی آئی اے نے حال ہی میں ملائشییا میں ضبط ہونے والا اپنا طیارہ چھڑانے کے لیے سنگا پور کی پیری گرائن ایئر لائن کو سات ملین ڈالرز یعنی ۔۔۔۔ روپے کا بھاری جرمانہ ادا کر دیا یے لیکن ابھی تک جہاز کا قبضہ واپس نہیں مل سکا۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے 22 جنوری کو لندن ہائی کورٹ کو آگاہ کیا کہ اس نے ڈبلن میں قائم ایرکیپ کے ذریعہ لیز پرلیئے گئے دو جیٹ طیاروں سے متعلق کیس میں سنگا پور کی کمپنی پیری گرائن ایوی ایشن چارلی لمیٹڈ کو تقریبا 7 ملین امریکی ڈالر ادا کر دیئے ہیں۔ یاد رہے کہ اس کیس میں ملائیشین حکام نے حال ہی میں کوالالمپور ایئر پورٹ پر پی آئی اے کے بوئنگ 777 کو طیارے کے لیز واجبات کی عدم ادائیگی پر ملائشیا کی ایک عدالت کے حکم پر قبضے میں لے لیاتھا۔ لیکن جرمانے کی ادائیگی کہ باوجود ابھی تک طیارے کو واپس جانے کی اجازت نہیں ملی ہے۔ پی آئی اے اور پیری گرائن ایوی ایشن چارلی لمیٹڈ دونوں کے وکلاء نے اس توقع پر 22 جنوری کی سماعت اگلی تاریخ تک ملتوی ہونے پر اتفاق کیا کہ کوئی معاہدہ کر کے اور پی آئی اے کے خلاف کوئی حکم جاری کیے بغیر پوری رقم ادا کر دی جائے۔
22 جنوری کو پیری گرائن کے وکیل ایرن ہچنس نے جج سے سماعت ملتوی کرنے کیلئے آن لائن درخواست کی تاکہ فریقین لیز ، کرایہ ، سود ، لیز اور ادائیگی کے معاملات طے کرلیں۔
پیری برائن ایوی ایشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مؤقف یہ ہے کہ پی آئی اے نے آج رقم ادا کر دی ہے۔ اس سے پہلے عدالت کو سماعت پر بتایا گیا تھاکہ پی آئی اے نے جولائی میں اپنے دعوے میں ترمیم کا مطالبہ کرنے کے بعد سے ادائیگی نہیں کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پی آئی اے 580000 ڈالر ماہانہ طیارے کی مد میں مقروض تھی لیکن اس نے ادائیگی نہیں کی اور قانونی چارہ جوئی شروع کردی۔ لیزنگ کمپنی نے پی آئی اے کے خلاف اکتوبر 2020 میں لیز کی ادائیگی میں ناکامی پر لندن ہائی کورٹ میں ایک کیس دائر کر دیا تھا جس کی مالیت تقریبا 14 ملین ڈالر تھی اور وہ 6 ماہ کے عرصے سے زیر التواء تھی۔

اس سے پہلے ملائیشیا میں پی آئی اے کا طیارہ تحویل میں لئے جانے کے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ اس طیارے سمیت آٹھ اور طیاروں کی لیز پانچ ماہ بعد ختم ہو رہی ہے لیکن پی آئی اے انتظامیہ کی نااہلی کے باعث نہ تو ضبط شدہ بوئنگ 777 ابھی تک واپس لیا جا سکا ہے اور نہ ہی نئے طیاروں کا بندوبست ہو پایا ہے۔ باخبر ذرائع نے بتایا کہ قومی ایئر لائن پی آئی اے کے ملائیشیا میں تحویل میں لیے گئے طیارے سمیت آٹھ دیگر طیاروں کی لیز جون 2021 میں ختم ہو رہی ہے۔ پی آئی اے نے ان آٹھ طیاروں کی لیز کے معاہدوں میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نئے طیارے حاصل کرنے کے لیے ٹینڈر جاری کر دیے ہیں۔ لیکن تاحال نہ تو نئے طیاروں کے حصول کے لیے کچھ کیا گیا ہے اور نہ ہی پہلے سے موجود 8 طیاروں کی ملکیتی کمپنی کے ساتھ معاہدے کی تجدید کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ طے پا سکا ہے۔ ان حالات میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ چند ماہ بعد طیاروں کی کمی کے باعث پی آئی اے کے حالات مزید دگرگوں ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں 12 بوئنگ 777 طیارے شامل ہیں جن میں سے تین لیز پر حاصل کیے گئے ہیں۔ لیز پر حاصل کیے گئے بوئنگ 777 میں سے 2 طیاروں پر پی آئی اے اور سنگاپور کی کمپنی پیری گرائن کے درمیان ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کی لیز پر تنازع تھا جس پر کمپنی نے لندن میں پی آئی اے پر مقدمہ دائر کر رکھا تھا اور پی ائی اے کے اثاثے ضبط کرنے کے لیے ملائیشیا کی عدالت سے بھی رجوع کیا تھا جسکے حکم کے بعد ملائیشین حکام نے وہ طیارہ اپنے پاس روک دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button